رد شدن به محتوای اصلی

مکتوبِ اوّل؛ دُرالمعرفۃ

❊مکتوبِ اوّل❊ 

دؔر بیانِ اَحْوؔالے کہ مناسَبت ںـ١ باسم الظاہر دارند وؔ ظہورِ قسمِ خاص از توحید وؔ بیانِ عُرُوجات کہ برفوقِ محدِّد واقع شدہ است و انکشافِ دَرَجاتِ بہشت و ظُہُورِ مراتبِ بعضے از اہل اللّٰہ بہ پیرِ بزرگوارِ خود نوشتہ اند وَ ھُوَ ٱلشَّیْخُ ٱلْکَامِلُ ٱلْمُکَمِلُ اَلْوَاصِلُ اِلیٰ دَرَجَاتِ الْوَلَایَۃِ ٱلْهَادِی اِلےٰ طَرِیْقِ اِنْدَرَاجِ ٱلْنِهَایَۃِ فِی ٱلْبِدَایَةِ مُؤَیِّدُ ٱلدِّیْنُ ٱلرَّضِیُّ شَیْخُنَا وَ اَمَامَُِنا ٱلشَّیْخُ مُحَمَّدنِ ٱلْبَاقِی ٱلنَّقَشْبَنْدِیُ الْاَحْرَارِیْ قَدَّسَ ٱلـلّٰهُ تَعَالیٰ سِرَّہُ ٱلْاَقْدَسَ وَبَلَّغَہُ ٱلـلّٰهُ سُبْحَانَہٗ اِلیٰ اَقْصَےٰ مَایَتَمَنَّاہُ
ان احوال کے بیان میں جو اسمِ ظاہر ڡ۱ کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں، اور توحید کی ایک خاص قسم کے ظہور، اور ان عروج (روحانی بلندیوں) کے بیان میں جو محدِّد (محددِ جہات/عرشِ بریں) سے بھی اوپر واقع ہوئے ہیں، اور جنت کے درجات کے انکشاف، اور بعض اہل اللہ کے مراتب کے ظاہر ہونے کے بیان میں؛
(یہ مکتوب آپ نے) اپنے پیرِ بزرگوار کی خدمت میں لکھا ہے، اور وہ (پیرِ بزرگوار) شیخِ کامل و مکمل ہیں، ولایت کے درجات تک پہنچنے والے، انتہا کو ابتدا میں شامل کرنے (اندراج النہایہ فی البدایہ) کے طریقے کی طرف رہنمائی کرنے والے، دین کی تائید کرنے والے، پسندیدہ، ہمارے شیخ اور ہمارے امام، شیخ محمد باقی ڡ۲ نقشبندی احراری ڡ۳ ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے باطن کو پاکیزہ رکھے اور اللہ سبحانہ انہیں ان کی آرزوؤں کی آخری حد تک پہنچائے۔
۱۔ قولہ باسم الظاہر این اسمیست از نود و نُہ اسمائے حُسنے الٰہیّہ کہ احصا و حفظِ آنہا بموجب دخولِ جنت ست بحدیثِ صحیح کہ درین باب واردست عن ابی ھریرۃؓ قال قال رسول الـلّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلا وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ متفق علیہ یعنی بدرستیکہ خدائیتعالیٰ را نود و نُہ ۹۹ نام ست یعنی یک کم صد کسیکہ احصا کند آن اسما را درآید بہ بہشت یعنی بہ مقربان و سابقان و مراد باحصا حفظ ست و بعضی گفتہ اند کہ علم بمعانی آن و ایمان بدان و تعظیم مسماے آن و بعضے گفتہ اند کہ عمل بمقتضائے ہر اسمے بحسبِ طاقت کہ معنی تعلق و تخلق ست یعنی تعلق باسمِ ذات و تخلق باسماء صفات ۱۲ از مشکوٰۃ ترجمہ شیخ عبدالحق محدثِ دہلویؒ
۲۔ قولہ محمد الباقی ابن القاضی عبدالسلام قدس سنہ ولادت ایشان در بلدۂ کابلؔ در سنہ نہ صد و ہفتاد و یک یا دو ٩٧١ھ یا ٩٧٢ھ بظہور پیوستہ و وفات بروزِ شنبہ بست و پنجم ٢٥ از شہر جمادی الثانی سنہ یکہزار و دوازدہ ۱۰۱۲ھ بحصول انجامیدہ؛ بیت
دان زہجرت بعد الف اثنا عشر بودہ ستین
از وفاتِ قطب دوران تکیہ گاہِ مسلمین 
ہرکہ یابد بر مزارش از سرِ صدق و یقین 
حاجتش گردد روا ہم مقصدِ دنیا و دین 
دیگر سالِ تاریخِ وصالش خسروے فی البدیہہ "نقشبندے وقت" ۱۰۱۲ھ گفت و مناقبِ خواجہ در اسفار مسطور ست و مزارِ ایشان در بلدۂ دہلی مشہور و معروف قدس سرہ العزیز۔ ۱۲
۳۔ قولہ الاحراری نسبت بخواجہ عبید الـلّٰہ احرار کہ یکے از اعلامِ نقشبندیہ اند رضی الـلّٰہ تعالیٰ عنہم ۱۲۔
ںـ١. تناسب 
عرضداشت کؔمترینِ بندگان احمد بِذرؤہ عرض میرساند حسب الامر الشریف گستاخی مینماید واَحْوالِ پریشان را معروض میدارد کہ در اَثناءِ راہ آنقدر بتجلّیِ اسم الظاھر متجِلّی گشت کہ در جمیعِ اشیا بتجلّی خاص علـٰحِدہ علـٰحِدہ ظاہر گشت علیٰ الخصوص در کِسْوَتِ نِسا بلکہ در اَجزاءِ اینہا جُدا جُدا و آنقدر مُنقادِ این طائفہ گشتم کہ چہ عرض نمایم و درین اِنقیاد مضطر بودم ظہوریکہ درین کِسوت بودہ در ہیچ جا نبودہ خصوصیاتِ لطائف و محسَّناتِ عجائب کہ درین لِباس مینمودہ از ہیچ مظہرے ظاہر نمیشدہ پؔیشِ ایشان تمام گداختہ آب شدہ میرفتم و ہؔمچنین در ہر طعامے و شرابے و کِسوتے جُدا جُدا متجلّی شد لؔطافتے وحُسنے کہ در طعامِ لذیذ پُر تکلُّف بود در ماوراء آن نبود و در آبِ شیرین تا آبِ غیر شیرین ہمین تفاوُت بود بلکہ در ہر لذیذ و شیرین یک خصوصیّتِ کمال ںـ٢ علیٰ تفاوُت الدَرَجات جُدا جُدا بود۔
کمترین بندوں میں سے ایک بندہ، احمد، یہ عرضداشت بارگاہِ عالی میں پیش کرتا ہے اور حکمِ گرامی کے مطابق یہ گستاخی کرتے ہوئے اپنے پریشان احوال معروض کرتا ہے کہ سفر (سلوک) کے دوران مجھ پر اسمِ الظاہر کی تجلی اس قدر غالب اور جلوہ گر ہوئی ڡ٤ کہ تمام اشیاء ڡ٥ میں ایک خاص تجلی کے ساتھ (حق تعالیٰ) الگ الگ ظاہر ہونے لگا؛ بالخصوص عورتوں کے روپ (مظہر) میں، بلکہ ان کے اجزاء میں بھی جدا جدا۔ اور میں اس گروہ (کے مظہرِ حق ہونے) کا اس قدر مغلوب اور فریفتہ ہوگیا کہ کیا عرض کروں! اور میں اس مغلوبیت کی حالت میں سخت بے چین و مضطر تھا۔ جو ظہور اس لباس (مظہر) میں نظر آ رہا تھا، وہ کسی اور جگہ نہ تھا۔ لطائف کی جو خصوصیات اور عجائب کے جو محاسن اس لباس میں دکھائی دے رہے تھے، وہ کسی دوسرے مظہر سے ظاہر نہیں ہو رہے تھے؛ میں ان کے سامنے بالکل پگھل کر پانی ہوا جا رہا تھا۔ اسی طرح ہر کھانے، پینے کی چیز اور لباس میں بھی (حق تعالیٰ) الگ الگ جلوہ گر ہوا۔ جو لطافت اور حسن ایک لذیذ اور پر تکلف کھانے میں نظر آ رہا تھا، وہ اس کے علاوہ (کسی عام چیز) میں نہ تھا۔ اور میٹھے پانی سے لے کر عام (غیر شیریں) پانی تک یہی فرق واضح تھا۔ بلکہ ہر لذیذ اور میٹھی چیز میں، درجات کے فرق کے ساتھ، کمال کی ایک الگ ہی خصوصیت جدا جدا جلوہ فرما تھی۔
٤۔ قولہ متجلی گشت یعنی حق سبحانہ و تعالیٰ در مظاہرِ مختلفہ بدین اسمِ خاص باین کمترین جلوہ گر گردید ۱۲
٥۔ قولہ در جمیع اشیاء بدانکہ این بیان واقع و حال ست کہ راہ رُو را در اثناء راہ رُو میدہد و مرید را لابدست کہ پیشِ پیر عرضداشت نماید و مطلق بر صرافت اطلاق خودست ہیچ قیدے باو راہ یافتہ است اما چون در مراتب مقید ظہور فرماید عکسِ او باحکامِ آن مراۃ منضبغ گشتہ مقید و محدود نماید لاجَرَم در دید و دانش آید اکتفا بر دید و دانش اکتفا ست برعکسے از عکوس آن مطلوب بلند ہمتان بکوزۂ مویز سیر نشوند ۱۲ فقط
ںـ٢. بر كمال
خؔصوصیاتِ این تجلّی را بتحریر بعرض نمیتواند رسانید اگر در مُلازَمتِ عَلِیّہ شما میبود شاید معروض میداشت اَمّا در اَثناءِ این تجلیات آرزوئے رفیقِ اعلیٰ داشتم و باینہا مَہْمَا اُمْکَن مُلْتَفِت نمیشدم امّا مغلوب بودم چارہ نداشتم دؔرین اَثنا معلوم شد کہ این تجلی بآن نسبتِ تنزیہی جنگ ندارد و ںـ٣ باطن ہمچنان گرفتارِ آن نِسبت ست بظاہر اصلًا مُلْتَفِتْ نیست و ظاہر را کہ ازان نِسبت خالی و معطَّل بود باین تجلّی مشرَّف ساختہ اند وؔالحق ہمچنان یافتم کہ باطِن اصلًا بَزِیْغِ بَصَرْ مُبتلا نیست و از جمیعِ معلومات و ظہورات مُعرِض ست وؔ ظاہر کہ متوجّہِ کَثرت و اِثْنَیْنِیت بود باین تجلیات مستسعد گشتہ است۔
اس تجلی کی خصوصیات کو تحریر کے ذریعے (بارگاہِ عالی میں) عرض نہیں کیا جا سکتا۔ اگر میں آپ کی حضورِ والا (عالی خدمت) میں حاضر ہوتا تو شاید زبانی معروضات پیش کر دیتا لیکن ان تجلیات کے درمیان بھی میری تمنا رفیقِ اعلیٰ ڡ٦ (حق تعالیٰ کی ذات پاک) ہی تھی اور جہاں تک ممکن ہو سکتا تھا میں ان (تجلیات) کی طرف التفات (توجہ) نہیں کرتا تھا، مگر چونکہ مغلوبِ حال تھا اس لیے کوئی چارہ نہ تھا۔ اسی اثنا میں (مجھ پر) یہ کھلا کہ یہ تجلی اس (باطنی) نسبتِ تنزیہی کے ساتھ کوئی ضد اور ٹکراؤ نہیں رکھتی، اور باطن اسی طرح اس نسبت میں مشغول و گرفتار ہے اور ظاہر کی طرف بالکل متوجہ نہیں ہے؛ اور ظاہر کو، جو اس نسبت سے خالی اور معطل تھا، اس تجلی سے مشرف فرما دیا گیا ہے اور فی الحقیقت میں نے ایسا ہی پایا کہ باطن بالکل زیغِ بصر (نظر کے بہکنے یا کجی) میں مبتلا نہیں ہے اور وہ تمام معلومات اور ظہورات سے منہ موڑے ہوئے ہے، اور ظاہر، جو کثرت اور دوئی (اِثنینیت) کی طرف متوجہ تھا، وہ ان تجلیات سے سعادت مند اور فیض یاب ہو گیا ہے۔
٦۔ قولہ رفیقِ اعلیٰ یعنی محبوبِ حقیقی حق جل و علا مرتبۂ تجرد و صرافتِ محضہ و اطلاقِ رفیق بروے تعالیٰ عزشانہ آمدہ در حدیث وارد ست إِنَّ الـلّٰهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ ۱۲
ںـ٣. 
بؔعد از چندگاہ این تجلیّات رُو بخَفا آوردند و ہمان نسبتِ حیرت و نادانی بحالِ خود ماند وَصَارَتْ تِلْڪَ ٱلتَّجَلِیَاتُ کَاَنْ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا و بعد ازان یک فناءِ خاص رُوداد و ہمانا کہ آن تعیُّنِ علمی کہ بعد از عود تعیُّن پیدا شدہ بود درین فنا گُم شد و اَثَرے از مَظانِّ اَنَا نماند درین وقت آثارِ اسلام و علاماتِ انہدامِ مَعَالمِ شرکِ خفی بظہور آمدن گرفتند و ہمچنین دیدِ قصورِ اعمال و متّہَم داشتنِ نیّات و خواطِر بؔالجملہ بعضے اَمَاراتِ عُبودیت و نیستی ازان باز ظاہر گشتہ اند۔
کچھ عرصے کے بعد یہ تجلیات پوشیدہ (غائب) ہونے لگیں اور وہی (سابقہ) حیرت اور نادانی (بے خبری) کی نسبت اپنی اصل حالت پر برقرار رہی، اور وہ تجلیات ایسی ہوگئیں گویا کبھی ان کا کوئی نام و نشان (یا تذکرہ) ہی نہ تھا۔ اس کے بعد ایک خاص قسم کی فنا واقع ہوئی، اور ہوا یہ کہ وہ تعیّنِ علمی جو دوبارہ تعیّن کی طرف لوٹنے کے بعد پیدا ہوا تھا، اس فنا میں گم ہوگیا اور میں (خود پسندی) کے شائبوں کا کوئی اثر باقی نہ رہا اس وقت (حقیقی) اسلام کے آثار اور شرکِ خفی کے نشانات مٹ جانے کی علامات ظاہر ہونے لگیں؛ اور اسی طرح اپنے اعمال میں قصور (نقص) دیکھنا اور اپنی نیتوں اور دل کے خطرات (خیالات) کو متہم کرنا (یعنی انہیں قصور وار جاننا اور ان پر شک کرنا) ظاہر ہوا۔ حاصلِ کلام یہ کہ عبدیت (بندگی) اور نیستی (اپنی ہستی کے مٹ جانے) کی بعض نشانیاں اس کے بعد پھر ظاہر ہوگئی ہیں۔
حؔق سبحانہ و تعالےٰ بہ برکتِ توجُّہ حضرتِ ایشان بحقیقتِ بندگی رساند وؔ عُرُوجات بر فوقِ محدِّد بسیار واقع میشود مرتبۂ اوّل کہ عُروج واقِع شد بعد از طِیّ مُسافت چون بر فوقِ محدِّد رسید دار خُلد ازانجا بجماعت مشہود گشت دران اَثناء بخاطر آمد کہ در مقامات بعضے مردم را دراَنجا مشاہدہ نمایم چون متوجہ شدم مقاماتِ آنہا درنظر آمد و آن اَشخاصْ را نیز دران مَحال دید عَلیٰ تَفَاوُتِ دَرَجَاتِہِمْ مَکَانًا وَ مَکَانَۃً وَ شَوْقًا وَ ذَوْقًا۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حضرتِ ایشان (مرشدِ گرامی) کی توجہ کی برکت سے (مجھ کو) حقیقتِ بندگی تک پہنچا دیا۔ اور محدِّد (محددِ جہات یعنی عرشِ بریں) سے اوپر بہت سے عروج (روحانی بلندیاں) کثرت سے واقع ہوتے ہیں۔ پہلی مرتبہ جب عروج ڡ٧ واقع ہوا، تو مسافت طے کرنے کے بعد جب (روح) محدّد سے اوپر پہنچی تو وہاں سے دارِ خلد (جنت) ظاہر و مشہود ہوئی۔ اسی اثنا میں دل میں خیال آیا کہ وہاں کے مقامات میں بعض لوگوں کا مشاہدہ کروں؛ چنانچہ جب میں (اس طرف) متوجہ ہوا تو ان کے مقامات نظر آ گئے اور میں نے ان اشخاص کو بھی ان جگہوں پر دیکھا، جو جگہ، مرتبے، شوق اور ذوق کے اعتبار سے اپنے اپنے درجات کے فرق کے ساتھ (وہاں موجود) تھے۔
٧. عُروج عبارت ست از استغراق صوفی در مشاہدہ ذات و صفاتِ عالیّات و انقطاع از خلق ۱۲ حضرت قاضی ثناء رحمہ اللہ
مرتبۂ دوم باز عُروج واقِع شد مقاماتِ مشایخِ عِظام و ائمہِ اہل بیت و خلفاءِ راشدین و مَقامِ خاصۂ ںـ٤ حضرتِ رسالت پناہ ںـ٥ صلّی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وعلیہم وسلَّم وبارَک و ہمچنین مقاماتِ سائرِ انبیاء و رُسُل علیٰ تفاوُت و مقاماتِ ملائکہ ملأِ اَعْلیٰ فوقِ محدِّد مشہود گشت وؔفوقِ محدَّد آن مقدار عُروج واقِع شد کہ از مرکزِ خاک تا محدِّد یا اندکے کمتر ازین و تا مقامِ حضرتِ خواجہ نقشبند قدَس اللّٰہ تعالےٰ سِرَّہُ الْاَقْدس منتہِی شد۔
دوسری مرتبہ پھر عروج (روحانی پرواز) واقع ہوا تو محدِّد (عرشِ بریں) سے اوپر مشائخِ عظام، ائمہِ اہل بیت، خلفائے راشدین کے مقامات اور حضرت رسالت پناہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیہم وسلم وبارک کا مقامِ خاص، اور اسی طرح دیگر تمام انبیاء و مرسلین کے مقامات (اپنے اپنے درجات کے فرق کے ساتھ) اور ملأِ اعلیٰ کے فرشتوں کے مقامات مشہود ہوئے اور محدّد سے اوپر اس مقدار (مسافت) تک عروج واقع ہوا جو زمین کے مرکز سے لے کر محدّد تک ہے یا اس سے کچھ کم، اور یہ عروج حضرت خواجہ (بہاؤالدین) نقشبند قدس اللہ تعالیٰ سرہ الاقدس کے مقام پر جا کر منتہی (ختم) ہوا۔
ںـ٤. خاص 
ںـ٥. 
وؔ فوقِ آن مقام چندے از مشایخ بودند بلکہ در ہمان مقام بافوقیّتِ قلیلہ مثلِ شیخِ معروفِ کرخی و شیخِ ابوسعید خَزاز و باقی مشایخ بعضے در تہِ آن مقامْ مقامات داشتند و بعضے در ہمان مقام بودند امّا در تَحَتْ مثلِ شیخ علاؤ الدولہ و شیخ نجم الدین کُبْریٰ وؔ فوقِ آن مقام آئمۂ اہل بیت بودند و فوقِ آن خلفای راشدین ںـ٦ رِضْوَانُ ٱلـلّٰهِ تَعَالیٰ عَلَیْهِمْ اَجْمَعِیْنَ و مقاماتِ سائرِ انبیا عَلیٰ نَبِیِّنَا وَ عَلَیْھِمْ الصَّلوٰۃ وَٱلسَّلَامُ یک طرف علـٰحِدہ از مقامِ آن سَرور بود و ہمچنین مقاماتِ ملائکۂ عالِیْن صَلَوَاتُ الـلّٰهِ وَ سَلَامَهُ عَلَیٰ نَبِیِّنَا وَ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْنَ در طرفِ دیگر جُدا ازان مقام بود اؔمّا مقامِ آن سرور را از ںـ٧ جمیعِ مقامات فوقیّت و سروری بود وَٱلـلّٰهُ سُبْحَانَهٗ اَعْلَمُ بِحَقَائِقِ الْاَمُوْرِ کُلِّھَا۔
اور اس مقام (حضرت خواجہ نقشبند کے مقام) سے اوپر چند مشائخ (کے مقامات) تھے، بلکہ اسی مقام پر معمولی سی بلندی (فوقیتِ قلیلہ) کے ساتھ تھے، جیسے شیخ معروف کرخی ڡ۸ اور شیخ ابو سعید خرازڡ۹؛ اور باقی مشائخ میں سے بعض کے مقامات اس مقام کے نیچے تھے اور بعض اسی مقام پر لیکن نچلے حصے (تحت) میں تھے، جیسے شیخ علاؤ الدولہ ڡ۱۰ اور شیخ نجم الدین کبریٰ ڡ۱۱ اور اس مقام سے اوپر ائمہِ اہل بیت (کے مقامات) تھے اور ان سے اوپر خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین (کے مقامات) تھے۔ اور دیگر تمام انبیاء (علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام) کے مقامات اس سرورِ کائنات (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مقام سے ایک طرف الگ تھے، اور اسی طرح ملائکہِ علّیین (بلند مرتبہ فرشتوں) کے مقامات دوسری طرف اس مقام سے جدا تھے۔ لیکن آنسرور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مقام کو تمام مقامات پر برتری، فوقیت اور سرداری حاصل تھی۔ اور اللہ سبحانہ ہی تمام امور کے حقائق کو سب سے بہتر جاننے والا ہے۔
۸۔ قولہ معروف کرخی شیخ از طبقۂ اولےٰ ست و از قدماء مشایخ استاد سری سقطی وغیر او وکنیتِ وے ابو محفوظ و نام پدرِ وے فیروز یا فیروزان و معروفؔ با داؤد طائیؔ صحبت داشت و معروف در ۲۰۰ھ دو صد از دنیا برفتہ و وے گفتہ است کہ صوفی اینجا مہمان ست بتقاضائے مہمان بر میزبان جفا ست مہمان کہ بادب بود منتظر بود نہ متقاضی شخصےؔ معروف کرخی را گفت مرا وصیتے کن گفت احذر ان لا یراڪ اللّٰه فی ذی المساکین وسُئل عن المحبۃ فقال المحبۃ لیست من تعلم الخلق انما ھی من مواہب الرحمٰن و قبرِ معروفؒ در بغدادؔ ست ۱۲ از نفحات
۹۔ قولہ و شیخ ابوسعید خزاز ابو سعید خزاز قدس الـلّٰہ تعالےٰ سرہ و رضی الـلّٰہ عنہ از طبقۂ ثانیہ است و نامِ وے احمد بن عیسیٰ و لقبِ وے خزاز ست و گفتہ اند وے رودے خرزمونہ میکرد و باز میکشاد و گفتند این چیست گفت نفسِ خود را مشغول میکنم پیش ازانکہ مرا مشغول کند وے بغدادی الاصل ست و در محبتِ صوفیان بمصر شدہ و در مکہ مجاور بودہ از ائمہ قوم و اجلّۂ مشایخ ست یگانہ و بے نظیر شاگرد محمد بن منصور طوسی ست و با ذوالنون مصری و ابوعبید بُسری و سری سقطی و بشر حافی قدس الـلّٰہ اسرارہم و غیرِ ایشان صحبت داشت گفتہ اند کہ وے پیشین کسے ست کہ در علمِ فنا و بقا سخن گفت از یاران و اقرانِ جنیدؓ بود و بہ ازویست و پیش از وے برفتہ در ٢٨٦ھ دو صد و ہشتاد و شش و وے گفتہ کہ روزگارے اورا مے جستم خود را مییافتم اکنون خود را بجویم اورا مییابم و نیز گفتہ چون بیابی برہی و چون برہی بیابی کدام پیش بود او داند و نیز فرمودہ چون او پیدا شود تو نباشی چون تو نباشی او پیدا شود کدام پیش بود او داند و بایزید قدس سرہ گوید با او نہ پیوستم تا از خود نہ گسستم و از خود نہ گسستم تا با او نہ پیوستم کدام پیش بود او داند شیخ ابوعلی سیاہ گوید کہ ماورا النہریان بگویند تا نرہی نیابی و عراقیان میگویند تا نیابی نرہی ہر دو یکے ست خواہ سبو بر سنگ خواہ سنگ برسبو لیکن من با عراقیانم کہ سبق ازو نیکو ترست و ہم وے گفتہ من ظن انه ببذل المجهود یصل فتمئِنّ و من ظن انه بغیر بذل المجهود یصل فتمن و ہم گفتہ ریا العارفین خیر من اخلاص المریدین و از اشعارِ اوست رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
الوجد يطرب من في الوجد راحته
والوجـد عند حضور الحق  مفقود
قد كان يطربني وَجـدِي  فاشغلني 
عن رؤية الوجد مافي الوجد موجود۔ ۱۲ 
از نفحات باختصار
۱۰۔ علاؤ الدولۃؔ بدانکہ شیخ ابومکارم رکن الدین علاؤ الدولۃ احمد بن محمد الپانکیؒ دراصل از ملوکِ سمنان ست بعد از پانزدہ سالگی بخدمتِ سلطانِ وقت شغل گرفت در یکے از حروب کہ سلطان را باعداء بود وے را جذبہ رسید و بعد ازان در سہ شش صد و ہشتاد و ہفت در بغداد بصحبتِ شیخ نور الدین عبدالرحمٰن رسید و بعد دو سال ازان ارشاد یافت گویند کہ در عمر شریفِ خود زیادہ از دوصد چلہ برآوردہ بعمر ہفتاد سال شبِ جمعہ بست و دویم ۲۲ رجب ٦٣٧ھ در برج اعرار صوفی آباد بجوارِ رحمتِ حق در حظیرۃ قطب الزمان عمادالدین عبدالوہاب مدفون گشتہ روزے بادشاہ چوبان پیشِ شیخ آہوے فرستاد وسلام رسانید و نیازمندی نمود کہ این گوشت صید ست بخورند کہ حلال باشد شیخ بادشاہ را فرمود کہ اسپِ تو دوش جو کدام مظلوم خوردہ ست کہ امروز اورا قوتِ دویدن حاصل آمدہ است تا تو در پشتِ او آہو توانی زد مرا خوردنِ او روا نباشد وے فرمودند کہ جملہ انبیاؑ برائے آن آمدند تا چشمِ خلق بکشایند بعیبِ خود و کمالِ حق و بعجزِ خود قدرتِ حق و بظلمِ خود عدلِ حق و بجہلِ خود و علمِ حق و بمذلتِ خود و عزتِ حق و بہ بندگی خود و خداوندی حق و بتقصیرِ خود و نعمتہائے حق و بفنائے خود و بقائے حق و ہمبرین قیاس و شیخ نیز برائے آنست کہ چشمِ مریدان را باین معانی بکشاید وےؔ فرمود کہ ممکن نیست کہ کسے بمرتبۂ ولایت برسد الّا کہ حق تعالیٰ پردہ بر سرِ او بپوشد و او را از چشمِ مردان پنہان دارد معنی اولیائے تحتِ قبائی این ست و معنی یعرفم غیری آنست کہ تا بنورِ ارادتِ باطن کسے را منور نکند ولی را نشناسد پس آن نور اورا شناختہ باشد نہ آنکس ۱۲ نفحات الانس مع الاختصار 
۱۱۔ قولہ و شیخ نجم الدین کبریٰ و کنیتِ وے ابوالحسنات ست و نام وے احمد بن عمر و لقبِ وے کبریٰ گفتہ اند کہ در اوان جوانی بتحصیلِ علم مشغول بود با ہرکہ مناظرہ و بحث کردے بروے غالب آمدے ازین جہت ویرا الطامۃ الکبریٰ لقب کردند یعنی بلائے کلان و آفتِ عظیم بعدہ لفظ طامۃ را حذف کردند نقل کرد این را یک جماعتِ معتبر از اصحابِ وے و بعضے بمد خواندہ اند یعنی کبراء بوزنِ علماء جمع کبیر و اول صحیح ست و اورا شیخ ولی تراش نیز گفتہ اند بسبب آنکہ در غلباتِ وجد نظر مبارکش بر ہرکہ افتادے بمراتبِ ولایت رسیدے و وے رضی الـلّٰہ تعالیٰ عنہ بخوارزمؔ بفتنۂ تاتار در ٦١٨ھ شہادت یافت و حضرت شیخ را مریدان بسیار بودہ اند امّا چندے از ایشان یگانۂ جہان و مقتدائے زمان بودہ اند چون شیخ مجدد الدین بغدادی و شیخ سعد الدین حموی وغیرہم ۱۲ نفحات بادنیٰ تغیر
ںـ٦. بر
و ہرگاہ میخواہم بعنایت اللّٰہ سبحانہٗ عُروج واقِع میشود و در بعضے اَوْقات بیخواست ہم واقع میشود و چیزے دیگر ہم ںـ٧ دیدہ میشود و بر بعضے عُروجات آثار ہم مُتَرتَّب میشود و اکثر چیز ہا فراموش میشود ہرچند کہ میخواہم کہ بعضے حالات را بنویسم کہ دروقتِ عرضداشت کردن بیاد آید میّسر نمیشود زیراکہ کہ در نظر محقّر مے درآید جائے آن دارد کہ ازان استغفار کردہ شود چہ جائے آنکہ بنویسد در اَثنْاءِ اِمْلَاءِ عریضہ ہم بعضے چیزہا بیاد بود تا آخر وفا نکرد کہ نوشتہ شود زیادہ گستاخی ننمود حؔالِ مُلّا قاسم علی بہتر ست غلبۂ ںـ٨ استہلاک ںـ٩ واستِغراق ست و از جمیعِ مقاماتِ جذبہ بفوق قدم نہادہ و صفات را کہ اوّل از اصل میدید حالا باوجودِ آن صفات را از خود جُدا مے بیند و خود را خالی محض مییابد بلکہ نورے کہ صفات قائم باویند نیز از خود جُدا مے بیند و خود را ازان نور در طرفِ دیگر ںـ۱۰ مییابد و اَحوالِ یارانِ دیگر ہم روز بروز در بہی ست در عرضداشتِ دیگر اِنْ شَآءَ ٱلـلّٰهُ الْعَزِیْزُ بتفصیل عرضداشت خواہد کرد۔
ںـ٧. 
ںـ٨. در غلبہ
ںـ٩. 
ںـ١٠. 
الفاظ معانی
محدِّد؛ اسمِ فاعل ست از تحدید یعنی عرشِ عظیم چناچہ در مکتوب دو صد و ہشتاد و پنجم مذکور نمودہ اند چہ عرش تحدید کنند و جہات ست و منتہاء ابعاد، ذِروہ؛ بالکسر و بالضم و بفتح نیز آمدہ بالائے ہر چیز و بالائے کوہان، کسوت؛ لباس، نسا؛ زنان، منقاد؛ رام و کشیدہ شدہ، مضطر؛ بے اختیار، محسنات؛ ہم مفعول ست از نخستین یعنی اشیاء پسندیدہ، مَظہر؛ جائے ظہور، تفاوُت؛ فرق علیٰ تفاوت الدرجات یعنی حسبِ مراتب و درجہ بدرجہ، در ملازمتِ علیہ؛ در خدمتِ عالی حضرت پیرِ بزرگوار، امّا؛ بالفتح درمیان، ماورا؛ غیر، مُلْتَفِت؛ متوجہ، جنگ؛ مخالفت، باطن؛ روح، بزیغِ بصر؛ بکجی چشم گرفتار، مُعرِض؛ رُو گردانندہ، کَثرت؛ بسیاری و تعدد، اِثْنِیْنِیّت؛ دوئی، مہما امکن؛  بقدرِ دست و طاقت و امکان و گنجایش، مستسعد؛ سعادتمند از استسعاد بمعنی نیک بختی جستن و یاری خواستن و نیک بخت شمردن، خَفا؛ معجمہ پوشیدگی، ہَمانا؛ گمان غالب و پندارے و گویا و شاید و بالیقین، وصارت تلک الخ؛ گردید این ہمہ تجلیات گویا چیزے نبود، عَود؛ بازگشتن، مَظانّ؛ جائے ظن و گمان، اَنَا؛ مراد ازان نفسانیت و انانیت، آثارِ اسلام؛ نشانیہائے اسلامِ حقیقی، مَعَالم؛ مصّدر باب انفعال بمعنی سقوط، شرکِ خفی؛ یعنی نشانیہائے ریاکاری و اتباع ہوائے نفسانی، اَمَاراتِ؛ جمع امارۃ بمعنی علامت، عُروجات؛ جمع عروج یعنی برآمدن ببالا رسیدن، دارخلد؛  بہشت ست مراد ازان ہمیشگی و خانہ دوام، محالّ؛ جمع محل بمعنی جائے، علیٰ تفاوت درجاتہم الخ؛ یعنی حسبِ مراتبِ مختلفہ ایشان باعتبارِ مکان و مرتبۂ شوق و ذوق، سائر؛ بمعنی باقی و گاہے بمعنی تمام و ہمہ استعمال کردہ میشود، ملاء اعلیٰ؛ جماعت و گروہ بلندتر فرشتگان، مرکزِخاک؛ یعنی عین میانہ زمین، مثل؛ مثال باقی مشایخ ست بغیر تفصیل، بیخواست؛ بغیر ارادہ، آثار؛ جمعِ اثر بمعنی نتائج و احکام، محقر؛ حقیر، استہلاک؛ فنا، جذبہ؛ سیرِ انفسی، صفات؛ مفعول، محض؛ بالکلیہ، بہی؛ بہتری و ترقی۔
فقط؛ سہیل طاہر، سیالکوٹ


نظرات

ارسال یک نظر

پست‌های معروف از این وبلاگ

زُبْدَۃُ الْمَقَامَات؛ مقصد اَوَّل، فصل دوم (الف)

 فصل دوم  مزار مبارک حضرت خواجہ بیرنگؒ دہلی، موجودہ بھارت

زُبْدَۃُ الْمَقَامَات؛ آغاز

بَرَکٰاتِ اَحْمَدِیَّہ نام دگر زُبْدَۃ الْمَقٰامٰاتِ تأريخ تأليف ۱۰۳۷ھ محـــمد ھــاشم کشمی بدخشانی وفات ۱۰٥٤ھ مصحح سُہیل طاہرؔ (نُسخہ؛ درمطبع نامی منشی نول کشور واقع کان پور مزین طبع شد ١٤٠٧ھ) قبر مبارک محمد ہاشم کشمیؒ ۱۰۰۰ھ تا ١٠٤٥ھ

زُبْدَۃُ الْمَقَامَات؛ مقصد اَوَّل، فصل دوم (ب)

اثباتِ صرف یعنی اللّٰہ گویند روزی عسکری بملازمتِ ایشان آمد ایشان بہ تقریب طہارت از مسجد برون رفتند خادِمِ این سپاہی برون در عنانِ اسپ گرفتہ ایســتادہ بود حین تخلی و استبرا بکرّات نظرِ کیمیا اثر ایشان بر آن خادِم افتادہ بودہ چون بمسجد در آمدہ اند خبر رســیدہ کہ خادِمِ آن عسکری را جذبہ و بیخودی بر خاک افــگندہ است و میان اسپان چون گوی ہر سوی غلطان ست و از قبیل شام تا پاسی از شب ہمچنان در اضطراب بودہ بآن گاہ بشوریدہ و روی ببازار نہادہ  و ہمچنان در صحرا برون رفتہ دیگر ہیچکس ازو خبری نیافت