بَرَکٰاتِ اَحْمَدِیَّہ
نام دگر
زُبْدَۃ الْمَقٰامٰاتِ
تأريخ تأليف ۱۰۳۷ھ
محـــمد ھــاشم کشمی بدخشانی
وفات ۱۰٥٤ھ
مصحح سُہیل طاہرؔ
(نُسخہ؛ درمطبع نامی منشی نول کشور واقع کان پور مزین طبع شد ١٤٠٧ھ)
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الْبَاقِیْ بِالْبَقَاءِ الْاَبَدِیِّ وَالدَّوَامِ السَّرْمَدِیِّ، وَاُصَلِّیْ عَلَی النُّوْرِ الْاَتَمِّ الْاَحَدِیِّ اَعْنِیْ حَضْرَتَ الْمُحَمَّدِیَّﷺ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَسَائِرِ اَبْنَائِهٖ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ، کُلُّہُمْ اَہْلُ الرَّحْمَةِ وَالْوِلَایَةِ وَالْکَرَامَةِ۔
برنقشبندان صحائف علم و عرفان و توانگران دفاین و کنوز پنہان و خواجِگان مائدہ تمکین و ادب و دیوانگان حلقہ سلسلۂ الذہب مخفی نماند کہ این بندہ از کار ماندہ و از خود شرمندہ را باآنکہ آباواجداد از منتسبان سلسلہ عالیہ کبرویہ بودند و حقیرڡ۱ نیز در اوانِ طفولیت بہ صحبت بعضی خلفائے آن خانوادۂِ متبرکہ رسیدہ لیکن بمناسبت فطری و رابطۂ جبلی ہم در عنفوان شباب از اشارت ہائے نہانی و بشارت ہای یزدانی دل را بسلسلہ ذہبیۂ خواجگان نقشبندیہ بستگی دادند و دیدہ امید را چون باب رحمت ایشان بباب رحمت ایشان گشادند اما نمیدانست کہ کدام را راہبر از راہ نمایان این شاہراہ دست این برخاک اوفتادہ برگیرد و کدام یک از مقبلان این سلسلہ عالیشان وی را باہمہ ناقابلی کرم درپذیرد و درآوان کشاکش این اندیشہ ویرا رنجوری فرا پیش آمد کہ درغلبات آن مقام برزبانش ہمی رفت کہ ہان برمرکب زین نہند کہ مرا بہ ہندوستان باید شد للمولوی المعنوی قدس سرّہٗ
زانکہ پِیــلَم دید ہندوستان بخواب܀
از خراج اُمید ہر دو شد خراب܀
اللّٰہ کے لیے حمد ہے جو ابدی بقا اور دائمی ہمیشگی کے ساتھ بقاء والا ہے، اور میں درود بھیجتا ہوں اس نور پر جو مکمل اور وحدانیت کا مظہر ہے یعنی حضرت محمد مُصطفیٰﷺ پر، اور آپؐ کی آلؓ، آپؐ کے اصحابؓ اور آپؐ کی تمام اولادؒ پر قیامت کے دن تک، وہ سب کے سب رحمت، ولایت اور بزرگی والے ہیں۔
علم و عرفان کے صحیفوں کے نقاشوں، چھپے ہوئے خزانوں کے مالکان، تمکین و ادب کے دسترخوان کے خواجگان اور 'سلسلۂ ذہب' (سنہری زنجیر) کے حلقے کے دیوانوں پر مخفی نہ رہے کہ؛ اس درماندہ اور اپنے آپ سے شرمندہ بندے کے آباؤ اجداد اگرچہ 'سلسلہ عالیہ کبرویہ' سے وابستہ تھے اور یہ حقیر بھی بچپن کے زمانے میں اس متبرک خاندان کے بعض خلفاء کی صحبت میں رہا، لیکن فطری مناسبت اور پیدائشی تعلق کی وجہ سے جوانی کے آغاز ہی میں پوشیدہ اشاروں اور خدائی بشارتوں کے ذریعے دل کو 'خواجگانِ نقشبندیہ' کے سنہری سلسلے سے وابستہ کر دیا اور امید کی آنکھ ان کے بابِ رحمت کی طرح (یا ان کے بابِ رحمت پر) کھول دی۔ مگر (یہ بندہ) نہیں جانتا تھا کہ اس شاہراہ کے رہبروں میں سے کون سا راہنما اس خاک نشین کا ہاتھ تھامے گا اور اس عالی شان سلسلے کے مقبول بندوں میں سے کون اپنی کریمی سے اس ناقبل کو قبول فرمائے گا۔ اسی کشمکش اور سوچ بچار کے دوران اسے ایک ایسی بیماری (یا حال) پیش آیا کہ اس کی غلبے کی کیفیت میں اس کی زبان پر یہی جاری رہتا تھا کہ؛ "خبردار! گھوڑے پر زین رکھو کہ مجھے ہندوستان جانا ہے۔ (جیسا کہ) مولوی معنوی (رومی) قدس سرہٗ نے فرمایا ہے؛
"کیونکہ میرے ہاتھی نے خواب میں ہندوستان دیکھ لیا ہے، اسی لیے (وطن کے) محصول اور امید دونوں ہی برباد ہو گئے ہیں۔"
بعد ازشفا از آن رنج و پس از آن حرف ہائے جنون سنج تقریبی چنان درمیان آمد کہ ناچار سر از پا نشناختہ بہ مملکت ہندوستان آمد پس از سالی دران کشور شبی درمحفلی حدیث حالات عجیبہ و تصرفات غریبہ گذشتگان مشائخ رحمہم اللّٰہ ذکر یافت ویرا بردل رفت و دانم کہ برزبان نیز بگذشت کہ این گروہ حقیقت شکوہ ہمانا مخصوص روزگار پیشین بودند امروز کیسۂ ایام ازین جواہر خالی ست یا خود بعہد ما نیز موجودند اما از دیدۂ ادراک ما ناقابلان مستور و مفقود اند ؎
خاطر خوبان بہ صیدِ اہل دل مائل نماند܀
یا بہ شہرِ عشقبازان مَرد صاحبدل نماند܀
اس بیماری (رنجوری) سے شفا پانے کے بعد اور ان جنون آمیز باتوں کے بعد، ایسے حالات پیدا ہوئے کہ ناچار سر کے بل (بے خودی کے عالم میں) مُلکِ ہندوستان آنا پڑا۔ اس ملک میں ایک سال گزارنے کے بعد، ایک رات کسی محفل میں گزشتہ مشائخ (اللہ ان پر رحم فرمائے) کے عجیب حالات اور ان کے غیبی تصرفات کا ذکر چھڑا۔ اس (بندے) کے دل میں یہ خیال آیا اور میں جانتا ہوں کہ زبان پر بھی آ گیا ہو گا کہ؛ "حقیقت کی شان رکھنے والا یہ گروہ تو شاید گزشتہ زمانوں کے ساتھ مخصوص تھا، آج کے ایام کی جیب ان جواہرات سے خالی ہے، یا پھر وہ ہمارے عہد میں بھی موجود تو ہیں مگر ہم جیسے ناقابل لوگوں کی بصیرت کی آنکھ سے چھپے ہوئے اور اوجھل ہیں۔ ؎
حسینوں کی خاطر (توجہ) اب اہلِ دل کے شکار کی طرف مائل نہیں رہی،
یا پھر عشق بازوں کے شہر میں اب کوئی صاحبِ دل مرد باقی نہیں رہا۔
![]() |
| بُرہانپور، موجودہ بھارت |
لَوْ کَانَ فِي کُلِّ مَنْبِتِ شَعْرٍ܀
لِسَانًا بَیَّنْتُ الشُّکْرَ کُنْتُ مُقَصِرًا܀ڡ۲
اسی زمانے کے قریب ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک صاحبِ دل (بزرگ) آئے اور کہا؛ "اٹھو! کہ فلاں بزرگِ دین فلاں جگہ اہل صفا و یقین کی ایک جماعت کے ساتھ بیٹھے ہیں اور تمہیں بلا رہے ہیں۔" میں اس آنے والے کے ہمراہ وہاں گیا، تو ایک بزرگ کو دیکھا جن کا حلیہ ایسا اور ایسا تھا، وہ اس گھر کے ایک چبوترے پر مراقبے کی حالت میں بیٹھے تھے اور ان کے اصحاب اس چبوترے کے نیچے سر جھکائے خاموش بیٹھے تھے۔ وہ آنے والا شخص اس بندے (مجھے) کو آگے لے گیا۔ ان بزرگ نے گریبان سے سر اٹھایا، اپنا ہاتھ پھیلایا اور میرا ہاتھ تھام کر فرمایا: "پڑھو: بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ (پوری سورت کے آخر تک)۔" میں پڑھتا جاتا تھا اور آنسو بہاتا جاتا تھا۔
جب میں بیدار ہوا تو اس سورت کے مضمون اور اس کے نزول کی ہیبت سے میں اس بات کو پا گیا جس کے بارے میں (پہلے) سوچ رہا تھا؛ یعنی جب اللہ کی نصرت اور فتح آ پہنچے گی، تو تم مشاہدہ کرو گے کہ لوگ جادۂ طریقت اور شاہراہِ حقیقت میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں۔ پس اللہ کی تسبیح کرو اور استغفار کی راہ چلو کہ وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔ اور چونکہ کلامِ الہیٰ کا خاتمہ 'تواب' پر تھا، اس لیے میں نے وہاں سے توبہ کی طرف اشارے کی راہ لی۔
اس خواب کے ایک مہینے سے بھی کم عرصے میں، میں 'برہان پور' شہر پہنچا، جو ہندوستان کے مشہور شہروں میں سے ایک ہے، بحرِ عمان کے ساحلوں کا پڑوسی اور حج پر جانے والوں کی گزرگاہ ہے، اور قطبِ زماں شیخ برہان الدین غریبؒ کے نام کی نسبت کی برکت سے غریبوں کا آرام گاہ ہے (اور ایک صاحبِ علم و عرفان بزرگ کے خواب کے مطابق اس شہر کو خیر البلدان سے نسبت ہے، اللہ تمام مسلمان شہروں کو زمانے کی آفات سے محفوظ رکھے)۔ وہاں میں ساداتِ کبار کے چشم و چراغ، بلند مرتبہ مرشدوں کے خلاصہ، ذوق و وجدان کے سرچشمہ اور لوگوں کی آنکھ کے تارے میر محمد نعمان (اللہ ان پر احسان فرمائے) کی خدمت میں پہنچا، جو اس شہر میں اس سلسلۂ شریفہ (نقشبندیہ) کے خلفاء میں سے مسندِ ارشاد پر تھے اور طالبوں کے دلوں کے انکشافات اور جذبات کے ماہر تھے۔ میں نے اس 'آنے والے عزیز' کو (جو مجھے خواب میں بزرگ کے پاس لے گیا تھا) انہی کی صورت میں پایا۔ میں نے اس سلسلہ عالیہ کے اکابرین کا ذکر اور مراقبہ انہی سے حاصل کیا، اور انہی کی خدمت میں رہ کر اس 'دوسرے بزرگ' کی محبت کا بیج اپنی جان کی کھیتی میں بویا جن کی خدمت میں یہ مجھے لے گئے تھے۔
یہاں تک کہ ۱۰۳۱ھ میں ان عالی مرتبہ بزرگ کے حکم و طلب پر، اور ان خلاصۂ سادات (میر محمد نعمان) کی اجازت سے، میں ان قدوۂ خدا پرستاں یعنی 'حضرت ایشان' (امام ربانی مجدد الف ثانی) کے آستانے پر پہنچا۔ تقریبًا دو سال تک سفر و حضر میں ان کے دامنِ کرم سے وابستہ رہا۔ ان تھوڑے دنوں میں اس غریب نے حضرت کی کثیر برکات سے جو فائدے حاصل کیے اور اس آفتابِ عالم تاب سے میرے ٹوٹے ہوئے دل کے روزن پر جو انوار چمکے، وہ شرح و بیان سے باہر ہیں۔ شعر
اگر میرے بدن کے ہر بال کی جڑ میں ایک زبان ہوتی، اور میں (عمر بھر) شکر ادا کرتا تب بھی حق ادا کرنے میں قاصر رہتا۔
اللّٰہ تعالیٰ انہیں (یعنی حضرت مجدد الف ثانیؒ کو) میری طرف سے اور تمام طالبینِ حق کی طرف سے بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ اگرچہ ادب کی زیادتی آپؒ کے نامِ نامی کی صراحت (کھل کر نام لینے) کی اجازت نہیں دیتی، لیکن اس (نام) کے بغیر قلم کی زبان شکر کے بیان کی مٹھاس نہیں پا سکتی، اس کلام کا جمال کوئی زینت نہیں پاتا اور اس سلسلے کے دیوانے دل کو قرار نہیں آتا۔
وہ (ذات) وہ ہے یعنی جن کا نام 'مصطفی' (احمد) ہے، وہ نام جس کی طرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اشارہ فرمایا تھا (یعنی احمد)۔ آپ کا لقب 'بدر الدین' (دین کا چودھویں کا چاند) اور کنیت 'ابوالبرکات' ہے۔ آپؒ کا مذہب امام الائمہ نعمان بن ثابت (امام ابوحنیفہ) کا مذہب ہے اور آپؒ کا شیوہ تمکین و ثبات (اِستِقلال) ہے۔ آپؒ کا نسب 'فاروقی' (حضرت عمر فاروقؓ کی اولاد سے) ہے اور آپؒ کی نظر 'تریاق' (زہر کا توڑ) ہے، اور آپ تعصب رکھنے والوں کے زہر کو ختم کرنے والے فاروق (حق و باطل میں فرق کرنے والے) ہیں۔ آپؒ کا مشرب 'نقشبندی' ہے اور آپؒ کا کرم ارادت مندوں کے دلوں سے غیر اللہ کے نقوش مٹانے والا ہے۔ آپؒ کی اصل (آباؤ اجداد) کابل اور غزنی سے مشہور ہے، آپؒ کی جائے پیدائش اور وطن 'سرہند' ہے جو کہ اب دارالحضور (حاضری کی جگہ) ہے، اور آپؒ کا مرقد اسی شہر میں نور بکھیرنے والی جگہ پر ہے۔ آپؒ کا آستانہ اہل علم، اہل عمل اور اہل عرفان کا جامع (مرکز) ہے۔ اللہ ان کے بھید کو پاکیزہ فرمائے اور ان کی نیکیوں کو جہانوں پر عام فرمائے۔
سبب تالیف
در آن شہور و ایام کہ درجوار و سایۂ دیوار ایشان میگذرانند فرزندان کبار آن غوث روزگار کہ جامع علوم و اسرارند و ہریک خلف رشید آن بزرگوار واحوال ایشان درین کتاب گذارش یافتہ مدظلہم العالی این کمترین را اشارہ فرمودند برانکہ ترا باید کہ بعضی فوائد تازہ و معارف بلند آوازہ کہ درخلال مجلس خلوات و جلوات برزبان دُرفشان حضرت ایشان موافق وقت و زمان حال و مال مستفیدان و مستعدان میگذرد و داخل مکتوبات معارف الفتوحات نمیگردد با شمّہ از چگونگی اوضاع و اطوار و انوار و برکات و خارق عادات ایشان نکاری وایضًا احوال عالیہ پیر بزرگوار ایشان قطب زمانہ دریگانہ شاہباز بلند آشیانہ وحیدالعصر فرید الوقت منور البواطن معدن المیامن سراج العارفین رضيُّ الملۃ و الدین مخدومنا خواجہ عبدالباقی الاویسی النقشبندی را قدس اللّٰہ سرہٗ دران کتاب بقلم آری تامحبان این دو بزرگ را عروۂ وثقی احوال و کردار بود و از تو ایشان را یادگار باوجود قلت بضاعت جزامتثال و اطاعت چارہ ندید چون اندکی ازین مقولہ بتحریر رسید درین اثناء از مقتضیات تقدیر و قضا این حقیر را دوری ضروری ازان سدۂ سنیہ روی نمود دران دوری جہۃ تسکین ملالت مہجوری بیش از پیش بہ تحریرِ نمیقۂ مذکورۂ مامورہ پرداخت ہنوز ورقی چند از سواد و مداد سیاہ نگردیدہ بود کہ واقعۂ ہائلہ انتقال حضرت ایشان درویشان دلریشان را سیاہ پوش ساخت پس از ارتحال آنحضرت خود لازم تر گشت تسلی جستن بذکر احوال و اقوال ایشان زیراکہ لمؤلفہ
ماہی کہ آں گشت محروم از فرات܀
از کــف آبـــی ہمــی جوید حیات܀
چون شد از دستِ یک نور نظر܀
از عصا برکـف نہیبِ جـزعِ بـصر܀
چون نماند مرضعہ پستان طلب܀
بنہد ازانگشت خود پستان بلـب܀
چونکہ شد ساقی و صافیہای خم܀
قوت مخموران چـہ باشد لای خم܀
چون برون شد زانجمن شمعِ چِگِل܀
بوی او پروانہ جســــت از تابِ دل܀
وجۂِ تالیف
ان مہینوں اور دنوں میں جب (یہ بندہ) ان کے پڑوس اور ان کی دیوار کے سائے میں زندگی بسر کر رہا تھا، اس غوثِ زمانہ (حضرت مجدد الف ثانی) کے فرزندانِ کبار نے، جو علوم و اسرار کے جامع ہیں، ان میں سے ہر ایک اس بزرگوار کا جانشینِ رشید ہے اور جن کے احوال اس کتاب میں بیان ہوئے ہیں (اللہ ان کا سایہ سلامت رکھے) اس کمترین کو اشارہ فرمایا کہ؛ "تمہیں چاہیے کہ وہ تازہ فوائد اور بلند پایہ معارف، جو حضرت (مجددؒ) کی در فشاں زبان سے خلوت و جلوت کی مجلسوں میں وقت اور حاضرین کے حال و مقام کے مطابق جاری ہوتے ہیں اور جو 'مکتوبات' (مکتوباتِ امام ربانی) میں شامل نہیں ہو پائے، انہیں ان کے طرزِ زندگی، انوار، برکات اور خوارقِ عادات (کرامات) کے تھوڑے سے تذکرے کے ساتھ تحریر کرو۔ اور ساتھ ہی ان کے پیرِ بزرگوار، قطبِ زمانہ، یگانۂ روزگار، بلند پرواز شاہباز، وحیدِ عصر، فریدِ وقت، باطن کو روشن کرنے والے، برکتوں کی کان، عارفوں کے چراغ، رضی الملت والدین، ہمارے مخدوم خواجہ عبدالباقی اویسی نقشبندی (قدس اللہ سرہ) کے بلند احوال بھی اس کتاب میں قلمبند کرو، تاکہ ان دونوں بزرگوں کے محبت کرنے والوں کے لیے ان کے احوال و کردار ایک مضبوط سہارا (عروۂ وثقیٰ) بن جائیں اور تمہاری طرف سے ان کے لیے ایک یادگار ہو۔"
علمی بے بضاعتی کے باوجود اطاعت اور فرمانبرداری کے سوا کوئی چارہ نہ دیکھا۔ جب اس موضوع پر کچھ تھوڑا سا تحریر کر لیا، تو اسی دوران قضائے الٰہی کے تقاضوں سے اس حقیر کو اس بلند آستانے سے ایک ضروری دوری (جدائی) پیش آ گئی۔ اس دوری میں، ہجر و فراق کی ملال کو تسکین دینے کے لیے، میں نے اس مامور کردہ تحریر پر پہلے سے زیادہ توجہ دی۔ ابھی سیاہی سے چند ہی ورق کالے ہوئے تھے کہ حضرت (مجددؒ) کے وصال کے ہولناک واقعے نے دل جلے درویشوں کو سیاہ پوش (سوگوار) کر دیا۔ آپؒ کی رحلت کے بعد تو آپؒ کے احوال و اقوال کے ذکر سے تسلی حاصل کرنا مزید لازم ہو گیا، کیونکہ (جیسا کہ) مؤلف نے کہا ہے؛
ازانجا کہ این نسخہ تبیین برکاتِ عالیہ آن ابوالبرکات شیخ احمد نام بود و مقدمہ آن بیان حالات پیرِ بزرگوارِ آن قطب الانام قدس اللّٰہ سرہما آنرا بہ برکات الاحمدیہ الباقیہ نامور گردانید و ہرجا کہ کلامی از کلمات و نکتہ از نکات این دو بزرگ عالی درجات بقلم آمد عنوان آنرا بلفظ برکت موشّح ساخت و نشان آنرا باے منفردہ بگذاشت و چون از سروش غیب تاریخ آن ھُوَ زُبْدَۃُ الْمَقَامَاتِ بگوش ہوش می آید اگر این نسخۂ زُبْدَۃُ الْمَقَامَاتِ نیز نامند می شاید بعد از اتمام این نمیقہ امید دارد کہ احوال دیگر متاخرین این سلسِلہ عالیہ بر نگاشتہ آید و آن بحقیقت دفتر اول این کتاب گردد بعنایۃ اللّٰہ الصمد واین کتاب مشتمل ست بر دو مقصد و ہرمقصد متضمن فصولی چند
چونکہ یہ نسخہ ان 'ابوالبرکات' (برکتوں کے منبع) حضرت شیخ احمد (مجدد الف ثانیؒ) کی بلند برکات کے بیان (تبیین) پر مشتمل تھا، اور اس کا مقدمہ ان قطبِ عالم (خواجہ باقی باللہؒ) کے حالات کے بیان میں تھا اللہ ان دونوں کے اسرار کو پاکیزہ فرمائے اس لیے اسے 'برکاتِ احمدیہ باقیہ' کے نام سے منسوب کر دیا۔ اور اس کتاب میں جہاں کہیں بھی ان دو عالی مرتبت بزرگوں کے کلمات میں سے کوئی بات یا نکات میں سے کوئی نُکتہ قلمبند کیا گیا، اس کے عنوان کو لفظِ 'برکت' سے سجایا گیا اور اس کی نشانی (مختصر علامت) صرف حرف 'ب' مقرر کی گئی۔
اور چونکہ غیب کے فرشتے (سروشِ غیب) کی طرف سے اس کی تاریخِ تالیف 'ہُوَ زُبْدَةُ الْمَقَامَاتِ' (١٠٣٤ھ) گوشِ ہوش میں سنائی دیتی ہے، اس لیے اگر اس نسخے کا نام 'زبدۃ المقامات' رکھا جائے تو بھی بجا ہے۔ اس تحریر کی تکمیل کے بعد (مؤلف) یہ امید رکھتا ہے کہ اس سلسلہ عالیہ کے دیگر متاخرین (بعد میں آنے والے بزرگوں) کے احوال بھی تحریر کیے جائیں، اور حقیقت میں وہ اس کتاب کا 'دفترِ اول' قرار پائے، اللہ بے نیاز کی عنایت سے۔ اور یہ کتاب دو 'مقصدوں' (بڑے حصوں) پر مشتمل ہے اور ہر مقصد کئی فصلوں پر مشتمل ہے۔
حاشیہ
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
١) حقیر یعنی مؤلفِ این کتاب محمد ھاشم کشمیؒ ۱۲
٢) ؎
گر درتنِ من زبان شود ہرمویی܀
یک شکر تو از ہزار نتوانم کرد܀
نُکتہ؛ از مصحح و مترجم یہاں ہندوستان کا ذکر ہے یہ بمعنیٰ برصغیر ہے ناکہ موجودہ بھارت، بھارت ۱۹۴۷ء میں برطانوی ہِند کی تحلیل کے بعد قائم ہوا تھا اور برصغیر کے ایک بڑے حصے میں موجود ہے۔


نظرات
ارسال یک نظر