رد شدن به محتوای اصلی

زُبْدَۃُ الْمَقَامَات؛ مقصد اَوَّل، فصل دوم (الف)

 فصل دوم 

مزار مبارک حضرت خواجہ بیرنگؒ دہلی، موجودہ بھارت
در بیان مجملات احوال شریفہ آن حضرت از خشوع  و افتقار و تصرفات و افاضات و تحمل و تفرید و تبتل و غیرہا من الصفات الملکیہ و الاطوار المرضیہ بابیان قضیہ انتقال ایشان ازین دار ملال 

شؔیوۀِ مرضیۂ حضرت خواجۂ ما قدس اللّٰہ سرە ہمگی سترِ احوال و اخفا و خمول و انزوا بود و از غایت انکسار ہمیشہ دید قصور احوال و متہم داشتن نیات نصبُ العین ایشان و جُز برای استمالت زائر جوابِ سائل آن ہم بقدر ضرورت تکلم کم مے فرمودند مگر آنکہ مسـئلہ از مسائل غامضۂ این طائفہ کسے معروض میداشت انگاە ناچار در تنقیح آن چنانکہ طالب را تشفی تمام حاصل آید سخن میکردند و آنہم از وفور شفقت بود کہ مبادا آن را کج فہمیدە کج رود باہمہ حزن با آیندگان در کمال بشاشت تلقی میفرمودند و در انجاحِ حاجات مباحہ مسلمین خود را از ہر وجہ معاف نمیداشـتند در تعظیم سادات و علما مبالغہ مے نمودند و در جزوے و کلے عملیات بفقہای متورع رجوع میفرمودند چون طالبی بآسـتان ایشان میرسد از غایت انکسار خود را دور ازین کار عظیم وانمودہ عذرہا مے فرمودند اگر آن آیندہ صادق بود و از خوانِ نوال ایشان روزی مند می شـد از انکسار ایشان بیشـتر بعُلُو منزلت و کارِ ایشان پے مے بُرد و خود را بخدمتِ آن آسـتان می سپرد و بزبان حال میگفت لمؤلفہ 

ازین در نداریم روی گذر܀

اگرچہ از دو عالم گذر کردەایم܀

بیان نمک ہای این میگسار܀

حوالہ بریـش جگر کردہ ایم܀

فصلِ دوم:

آپؒ (حضرت خواجہ باقی باللہ) کے ان مجموعی احوال کے بیان میں جو عجز و نیاز (خشوع و افتقار)، روحانی تصرفات، فیض رسانی، برداشت، تنہائی پسندی (تفرید) اور دنیا سے کنارہ کشی (تبتل) جیسی ملکوتی صفات اور پسندیدہ طور طریقوں پر مشتمل ہیں، نیز اس پرملال دنیا سے آپ کے انتقال کے واقعے کے بیان میں۔

​ہمارے حضرت خواجہ (قدس اللہ سرہ) کا پسندیدہ طریقہ ہمیشہ اپنے احوال کو چھپانا، گمنامی اور گوشہ نشینی اختیار کرنا تھا۔ نہایت عاجزی (انکسار) کی وجہ سے آپؒ ہمیشہ اپنی حالت میں قصور (کمی) دیکھتے تھے اور اپنی نیتوں کی اصلاح کو اپنا نصب العین رکھتے تھے۔ زائرین کی دلجوئی یا سائل کے جواب کے لیے جتنی ضرورت ہوتی، اس سے زیادہ کلام نہ فرماتے تھے۔ مگر جب کوئی شخص اس گروہ (صوفیاء) کے پیچیدہ مسائل میں سے کوئی مسئلہ پیش کرتا، تو پھر ناچار اس کی ایسی وضاحت فرماتے کہ طالب کو مکمل تسلی ہو جاتی، اور یہ بھی صرف اس شفقت کی وجہ سے تھا کہ کہیں وہ (طالب) اسے غلط سمجھ کر غلط راستے پر نہ چل پڑے۔

​تمام تر باطنی حزن (غمِ الہیٰ) کے باوجود آنے والوں سے نہایت خوش اخلاقی سے ملتے تھے اور مسلمانوں کی جائز حاجتوں کو پورا کرنے کے لیے خود کو ہر طرح سے وقف رکھتے تھے۔ سادات اور علماء کی تعظیم میں مبالغہ (نہایت احترام) فرماتے تھے اور چھوٹے بڑے تمام معاملات میں پرہیزگار فقہاء (علماءِ دین) کی طرف رجوع فرماتے۔

​جب کوئی طالب آپ کے آستانے پر آتا، تو آپ کمالِ عاجزی سے خود کو اس عظیم کام (مرشد ہونے) سے دور ظاہر کرتے اور معذرت فرماتے۔ اگر وہ آنے والا سچا (صادق) ہوتا اور آپ کے فیض کے دسترخوان سے اس کا رزق مقدر ہوتا، تو وہ آپ کے اس انکسار سے ہی آپ کے بلند مرتبے کو پہچان لیتا اور خود کو اس آستانے کی خدمت کے سپرد کر دیتا اور زبانِ حال سے کہتا (جیسا کہ مؤلف نے کہا ہے)؛ 

​ہمیں اس در سے گزرنے (کنارہ کرنے) کا کوئی راستہ نہیں سوجھتا، اگرچہ ہم نے دونوں جہانوں کو چھوڑ دیا ہے۔ ​اس مے نوش (عشقِ الہیٰ کے ساقی) کی باتوں کی نمکینی کا حال بیان کرنا، ہم نے اپنے جگر کے زخموں کے حوالے کر دیا ہے (یعنی ان کی تاثیر لفظوں میں نہیں، دل کی کیفیت میں محسوس ہوتی ہے)۔

چون آن حضرت حضرت رسوخ طلب آن طالب میدیدند در آغوش عنایت و کنف تربیتش می کشـیدند گویند جوان خراسانی مدتہا مجاور مزار فیّاضِ الانوار خواجہ قُطب الدین بختیار اوشی قدس اللّٰہ سرەڡ۱ بود و از روحانیہ حضرت خواجہ طلب پیر مکملے مے نمود کہ در قیدِ حیات این جہانی باشـد بعد از رسیدن حضرت خواجۂ ما بہ دہلی آن جوان را در واقعہ نمودند کہ بزرگی از طریقۂ نقشبندیہ اکنون بشہر رسیدہ خدمت او را لازم گیر حسب الامر بخدمتِ ایشان رسیدہ واقعہ معروض داشتہ التماس قبول نمود فرمودند این مسکین خود را شایانِ آن نمی بیند دیگرے خواہد بود و چون از وُفُورِ اِنکِسار عذرِ بسـیار فرمودند آن برنا زاویۂ خود باز گشت شب دیگر ویرا گفتند آن بزرگ ہمانست کہ وی بخدمتش رسیدی و انکسارِ او دیدی فرداش آن جوان چنان آمد کہ دیگر باز نگشت و بعز قبول رسید و دید آنچہ دیدہ 
جب وہ حضرت (خواجہ باقی باللہ) کسی طالب کی سچی تڑپ اور اہلیت دیکھتے تو اسے اپنی عنایت کی آغوش اور تربیت کی پناہ میں لے لیتے۔ 
کہتے ہیں کہ ایک خراسانی نوجوان مدتوں حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی اوشی (قدس اللہ سرہ) کے نورانی مزار پر مجاور رہا اور ان کی روحانیت سے کسی ایسے 'پیرِ مکمل' کی درخواست کرتا رہا جو اس دنیاوی حیات کی قید میں (زندہ) موجود ہو۔ ​ہمارے حضرت خواجہ کے دہلی تشریف لانے کے بعد، اس نوجوان کو خواب (واقعہ) میں دکھایا گیا کہ: "نقشبندی طریقے کے ایک بزرگ ابھی شہر پہنچے ہیں، ان کی خدمت کو لازم پکڑ لو۔" وہ حکم کے مطابق آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اپنا واقعہ بیان کیا اور قبولیت کی التماس کی۔ آپؒ نے فرمایا: "یہ مسکین (میں) خود کو اس کے لائق نہیں پاتا، وہ کوئی اور بزرگ ہوں گے۔" جب آپؒ نے وفورِ انکساری کی وجہ سے بہت عذر فرمائے تو وہ نوجوان اپنے ٹھکانے پر واپس چلا گیا۔ اگلی رات اسے پھر کہا گیا: "وہ بزرگ وہی ہیں جن کی خدمت میں تم پہنچے تھے اور جن کی عاجزی تم نے دیکھی تھی۔" اگلے دن وہ نوجوان ایسا آیا کہ پھر کبھی واپس نہ گیا اور (بیعت و ارادت کی) عزت پائی اور وہ کچھ دیکھا جو (اہلِ بصیرت) دیکھتے ہیں۔
بسا بودی کہ آن حضرت از غایت اِنکِسار بعضی طَلَبہ صادِق العقیدہ ذو الاحوال ملزم صحبت و خدمت خود را نیز مے فرمودند کہ این بے حاصل شایان انچہ گمان بردہ آید نیست بجاہای دیگر تردد نمائید و اگر راہنمای بیابند پس این حقیر را نیز اعلام فرمائید تا ما نیز بخدمت او شــتابیم باشد کہ زخم خود را مرہمے یابیم 
​بسا اوقات ایسا ہوتا کہ وہ حضرت (خواجہ) کمالِ عاجزی سے بعض سچے عقیدے والے اور صاحبِ حال طلبہ کو جو آپؒ کی صحبت اور خدمت کو لازم پکڑ چکے ہوتے فرماتے کہ؛ "یہ بے حاصل (میں) اس لائق نہیں جس کا تم گمان کرتے ہو، کہیں اور تلاش کرو۔ اور اگر تمہیں کوئی (سچا) راہنما مل جائے تو اس حقیر (مجھے) کو بھی مطلع کرنا تاکہ ہم بھی اس کی خدمت میں دوڑیں، شاید اپنے زخم کا کوئی مرہم پا سکیں"۔
این فقیر از زبان شریف خواجہ حسام الدین احمد سلمہ اللّٰہ علیٰ رؤس المحبین شنودم کہ فرمود مرا نیز آن حضرت بجہد تمام چنین فرمودند چون الحاح ایشان بسیار شد توقف را دور از اَدَب دانسـتہ متوجہ آگرہ شدم بعد از رسیدن بآن شہر حیران و سراسیمہ بودم کہ چہ چارہ سازم و باخود میگفتم بآســتان ایشان رفتہ معروض دارم کہ امتثال امر نمودم چنان کسی کہ می فرمودند نیافتم درین حین براہی میگذشتم کہ از سرِ بامی سرودی دلرباے بگوش ہوش رســید چون نیک استماع نمودم قوالّان را این بیت شیخ سعید سعدی شیرازی رحمۃ اللہ ڡ۲ برزبان بود ؎۔

توخواہی آستین افشان و خواہی دامن اندر کش܀
مگس ہرگز نخواہد رفت از دُکانِ حلوائی܀

سماعِ این بیت دامان بر اخگرم زَد و سر از پا ساختہ بخدمتِ ایشان رسیدم و گفتم آنچہ دیدم و شنیدم۔

اس فقیر (مؤلف) نے حضرت خواجہ حسام الدین احمد (اللہ انہیں محبین کے سروں پر سلامت رکھے) کی زبانِ مبارک سے سنا، انہوں نے فرمایا؛ "مجھے بھی ان حضرت نے بہت کوشش کے ساتھ یہی فرمایا (کہ کہیں اور جاؤ)۔ جب ان کا اصرار بہت بڑھ گیا تو میں نے خاموشی کو ادب کے خلاف سمجھا اور آگرہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ وہاں پہنچ کر میں حیران و پریشان تھا کہ کیا چارہ سازی کروں؟ دل میں کہتا تھا کہ واپس ان کے آستانے پر جا کر عرض کروں گا کہ میں نے آپ کے حکم کی تعمیل کی مگر ویسا کوئی (بزرگ) نہ پایا جیسا آپ فرماتے تھے۔ اسی دوران میں ایک راستے سے گزر رہا تھا کہ ایک مکان کی چھت سے ایک دلربا راگ (سرود) ہوش مند کانوں سے ٹکرایا۔ جب غور سے سنا تو قوالوں کی زبان پر شیخ سعدی شیرازیؒ کا یہ شعر تھا؛ 

(اے محبوب!) تو چاہے تو بے نیازی سے آستین جھاڑ دے یا (ناراض ہو کر) اپنا دامن کھینچ لے، مکھی کبھی مٹھائی کی دکان چھوڑ کر نہیں جائے گی (یعنی مرید اپنے مرشد کا در نہیں چھوڑ سکتا)۔" 

اس شعر (سعدی کے بیت) کو سننا تھا کہ میرے دامن میں جیسے آگ لگ گئی (بے قرار ہو گیا) اور میں سر کے بل (دوڑتا ہوا) ان کی خدمت میں پہنچا اور جو کچھ دیکھا اور سنا تھا وہ عرض کر دیا۔

وقتی دیگر فقیری از لاہور ایشان را دیدہ کہ ابلق سوار میگذرند و خلایق بســیار در دنبال ایشان و میگویند این قطب وقت است بعد ازین رؤیا آن فقیر بعتبۂ والا رســیدہ التماس قبول کرد ہمان عذر مذکور سراپا نور درمیان آوردند آن بیچارہ بمسجد آمدہ بگریہ و افغان و خاطر پریشان در مجمع درویشان دردِ دل بنیاد کرد و گفت ای یاران این چہ ناز و گدازست کہ خود را بمن نمودہ است و دلم را ربودہ اکنون کہ ناشاد و خانہ برباد آمدہ ام این می گوینـد و میرانند من بیچــارہ چہ کار کنم و کجا رَوَم بنوعی این ماجرا برزبان آورد بنوعی این ماجرا برزبان آورد کہ بسیاری از حاضران را استیلائے گریہ و اندوە از ہوش بر دو شورئ عجیب برخاست تا بہ گوش حضرت خواجہ رســید پرســیدند کہ چہ شورست معروض داشتند ؏۔
کز لبِ شیرین تو شوریست درہرخانۂ 
تبسم نمودند وآن درویش را طلبیدە بہ تلقین ذکر وجذبۂ الۤہی نواختند ؎۔
تا نگرید طفل کے جوشد لبن܀
تا نگرید ابرکے خندد چمن܀

ایک اور وقت، ایک فقیر نے لاہور میں (خواب میں) دیکھا کہ آپؒ ایک ابلق (چتکبرے) گھوڑے پر سوار گزر رہے ہیں اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد آپ کے پیچھے ہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ "وقت کے قطب" ہیں۔ اس خواب کے بعد وہ فقیر آپ کی بلند چوکھٹ پر حاضر ہوا اور قبولیت (بیعت) کی التماس کی۔ آپؒ نے وہی نور سے بھرا ہوا عذر (کہ میں اس لائق نہیں) پیش فرمایا۔

​وہ بیچارہ مسجد میں آ کر رونے پیٹنے لگا اور پریشان خاطر ہو کر درویشوں کے مجمع میں اپنا دردِ دل بیان کیا اور کہنے لگا؛ "اے یارو! یہ کیسا ناز و انداز ہے کہ خود کو مجھے (خواب میں) دکھایا اور میرا دل چھین لیا، اور اب جب میں نا شاد اور گھر بار برباد کر کے آیا ہوں تو یہ (عذر) کہہ کر مجھے نکال رہے ہیں! میں بیچارہ کیا کروں اور کہاں جاؤں؟" اس نے یہ ماجرا ایسی تڑپ سے بیان کیا کہ بہت سے حاضرین پر گریہ و اندوہ کا غلبہ ہو گیا اور وہ بے ہوش ہو گئے اور ایک عجیب شور برپا ہوا۔ یہاں تک کہ یہ آواز حضرت خواجہ کے کانوں تک پہنچی۔ آپ نے پوچھا کہ یہ کیسا شور ہے؟ عرض کیا گیا؛ 

"آپ کے شیریں لبوں کی وجہ سے ہر گھر میں ایک شور (ہنگامہ) برپا ہے۔"

​آپ مسکرائے اور اس درویش کو بلا کر ذکر کی تلقین اور جذبۂ الٰہی سے نوازا۔ (جیسا کہ رومیؒ نے فرمایا ہے)؛ 

  • ​جب تک بچہ روئے نہیں، دودھ جوش نہیں مارتا۔
  • ​جب تک بادل نہ روئے (برسے)، چمن نہیں کھلتا۔
طریق آن حضرت قدس اللہ سرهٗ العزیز آن بود کہ ہر کرا می پذیرفتــند نخست توبہ اش میدادند و اگر عشق و محبت آن طالب را بخود بســیار میدیدند بطریق رابطۂ و نگاہداشت صورت خود بحقیقت جامعہ اش امر میکردند و بسـیار کشایش وی را ازین احضار و نگاہداشت صورت شریف پدیدار میگشت خواجۂ برہان نام از خواجہ ہای دہنیدی کہ از اکابِر خود نســبتہا و اجازتہا یافــتہ بود بخدمت ایشان رســید و طلب افادہ و افاضہ نمودہ ایشان وے را بہ نگاہداشت صورت خود دلالت نمودند و وے در تعجُّب رفت و بامحرمان خود گفت این شغل مناسب حال جمعی ست کہ اول قدم درین راہ نہادہ باشـند مرا ایشان کرم نمودہ بمراقبہ عالی تر ازان اشارہ نمایند دوستانش گفتند امتثال امر باید نمود و از فضول احتراز فرمود چون عقیدتش درست بود ناچار بہ نگاہداشت صورت مبارک پرداخت دو روزی رفتہ بود کہ آن صورت اورا فرو گرفت و نسبت عظیم بروی اسـتیلاء نمود تاغلبہ سکرش بجای رســید کہ باوجود تمکین و کِبرسن مقدار دو ذراع از زمین می جست و ہر سوی خود را بدیوار و اشجار میزد تا آنکہ چندتن کہ از جوانان وی را گرفتہ بودند قوت شان بہ نگہداشت او وفا نمی کرد تا دید انچہ دید 

حضرت خواجہ (باقی باللہ) قدس اللہ سرہ العزیز کا طریقہ یہ تھا کہ جس کسی کو (طالبِ حق کے طور پر) قبول فرماتے، پہلے اسے توبہ کرواتے۔ اگر اس طالب کی اپنے ساتھ عشق و محبت کی زیادتی دیکھتے تو اسے اپنی 'صورت' کے تصور (رابطہ) کا حکم دیتے، اور اس صورتِ شریف کے حضوری و نگہداشت سے طالب پر بہت سے باطنی دروازے کھل جاتے۔

​'خواجہ برہان' نامی ایک شخص، جو دہنیدی خواجگان میں سے تھے اور اپنے اکابر سے نسبت و اجازت پائے ہوئے تھے، آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فیض کی درخواست کی۔ آپ نے انہیں اپنی صورت کی نگہداشت (تصورِ شیخ) کی ہدایت فرمائی۔ وہ تعجب میں پڑ گئے اور اپنے رازداروں سے کہا؛ "یہ مشغلہ تو ان لوگوں کے لیے مناسب ہے جنہوں نے اس راہ میں پہلا قدم رکھا ہو، مجھے تو آپ کو کسی بلند مراقبے کی تعلیم دینی چاہیے تھی۔" ان کے دوستوں نے کہا؛ "آپ کو حکم کی تعمیل کرنی چاہیے اور اپنی عقل لڑانے سے بچنا چاہیے۔"

​چونکہ ان کا عقیدہ درست تھا، اس لیے ناچار صورتِ مبارک کی نگہداشت میں مشغول ہو گئے۔ دو دن گزرے تھے کہ اس 'صورت' نے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا اور ایک عظیم (روحانی) نسبت ان پر غالب آ گئی۔ ان کی بے خودی (سکر) کا یہ عالم ہوا کہ باوجود بزرگی اور سنجیدگی کے، وہ زمین سے دو دو ہاتھ اچھلنے لگے اور خود کو دیواروں اور درختوں سے مارنے لگے۔ کئی جوانوں نے انہیں تھامنے کی کوشش کی مگر ان کی قوت جواب دے گئی۔ غرض انہوں نے وہ کچھ دیکھا جو (اہلِ حال) دیکھتے ہیں۔

اما بیشتر مر طالبان را ذکرِ دل بطریقی کہ مقرر اکابرِ این سلسلہ است دلالت می نمودند جمعی را بذکر نفی و اثبات و برخی را بذکر اثبات صرف یعنی ذکر ذات عَزَّ شَاْنُہٗ و از غایتِ سَرَیان نسبت آنحضرت قدس سرەٗ بسـیاران بمجرد دیدن ایشان مجذوب و مغلوب میشدند گوینـد یکبار خطیب بر منبر بودہ کہ نظر بجمال ایشان کشودە زعقہ زدە از منبر بزیر افتادە 
​تاہم، آپ اکثر طالبوں کو 'ذکرِ دل' کی تلقین فرماتے جو اس سلسلے کے اکابر کا مقرر کردہ طریقہ ہے۔ بعض کو 'ذکرِ نفی و اثبات' (لا الہ الا اللہ) اور بعض کو 'ذکرِ اثباتِ صرف' (اللہ اللہ) بتاتے۔ آپؒ کی نسبت کی سرایت (تاثیر) کا یہ عالم تھا کہ بہت سے لوگ صرف آپؒ کو دیکھنے سے ہی مجذوب اور مغلوب ہو جاتے۔ کہتے ہیں کہ ایک بار خطیب منبر پر تھا، اس کی نظر آپؒ کے جمالِ مبارک پر پڑی تو اس نے ایک چیخ ماری اور منبر سے نیچے گر پڑا۔
شبی از شبہای ماۂ رمضان حضرتِ ایشان ما قدس سرەٗ بدست خادِمی بہ آنحضرت فالودہ فرسـتادہ اند چون آن خادِم از کوہیان سادہ لوح بدروازۂ خاص رسیدہ حلقۂ در زدە حضرت خواجہ دیگری را بیدار نکردە خود برآمدہ اند وظرف فالودہ را از دستِ او گرفتہ فرمودہ اند نام تو چیست معروضداشتہ کہ بابا فرمودہ اند چون خادِمِ شیخ احمد ما ائی با ما ائی بمجرد مراجعت آن خادِمِ ویرا جذبۂ سُکر و نسبت فرو گرفتہ و فریاد کُنان وافتان وخیزان خود را بحضرتِ ایشان ما رسانیدہ آنحضرت پرسیدہ اند کہ حال چیست بشورش و مستی تمام میگفتہ کہ ہمہ جا چہ در ہجر و چہ در شجر و چہ در زمین و چہ در آسمان نوری بیرنگ بیغایت و نہایت می بینم کہ بیان آن نمیتوانم نمود حضرتِ ایشانِ ما فرمودہ اند البتہ حضرت خواجہ مقابل این بیچارہ شدہ اند کہ از مقابلۂ آن آفتاب پرتوی برین ذرە افتادہ فرداش بخدمت خواجہ رسانیدہ اند تبسم فرمودہ اند ؎۔
بروزِ حشر شہیدان چو خونبہا طلبند܀
تبسمی کن و خاموش کن زبان ہمہ܀

​رمضان المبارک کی ایک رات، ہمارے حضرت (مجدد الف ثانیؒ) نے ایک خادم کے ہاتھ حضرت خواجہؒ کو 'فالودہ' بھیجا۔ وہ خادم پہاڑی علاقے کا ایک سادہ لوح انسان تھا۔ جب وہ دروازے پر پہنچا اور دستک دی، تو حضرت خواجہ نے کسی اور کو بیدار کرنے کے بجائے خود باہر تشریف لائے۔ فالودے کا برتن اس سے لیا اور پوچھا: "تمہارا نام کیا ہے؟" اس نے عرض کیا: "بابا"۔ آپ نے فرمایا: "چونکہ تم شیخ احمد (مجدد الف ثانی) کے خادم ہو، اس لیے تم ہمارے ہی ہو (ما ائی با ما ائی)"۔

​واپس مڑتے ہی اس خادم پر 'جذبہ اور سکر' کی وہ نسبت غالب آئی کہ وہ فریاد کرتا، گرتا پڑتا خود کو حضرت مجدد کی خدمت میں پہنچایا۔ آپ نے پوچھا: "کیا حال ہے؟" اس نے مستی کے عالم میں کہا: "ہر جگہ، درختوں میں، پتھروں میں، زمین و آسمان میں ایک بے رنگ، بے غایت اور بے نہایت 'نور' دیکھ رہا ہوں جسے بیان نہیں کر سکتا۔" حضرت مجددؒ نے فرمایا: "یقینًا حضرت خواجہ اس بیچارے کے سامنے آئے ہوں گے اور اس آفتاب (مرشد) کے سامنے آنے سے اس ذرے (خادم) پر ایک پرتو پڑ گیا ہے۔" اگلے دن اسے خواجہ کی خدمت میں لایا گیا، تو آپؒ مسکرا دیے۔

روزِ محشر جب شہید اپنا خون بہا مانگیں گے، تو آپ ایک تبسم فرمائیے گا اور سب کی زبانیں خاموش کر دیجیے گا۔

فقط سہیل طاہر، سیالکوٹ


نظرات

پست‌های معروف از این وبلاگ

زُبْدَۃُ الْمَقَامَات؛ آغاز

بَرَکٰاتِ اَحْمَدِیَّہ نام دگر زُبْدَۃ الْمَقٰامٰاتِ تأريخ تأليف ۱۰۳۷ھ محـــمد ھــاشم کشمی بدخشانی وفات ۱۰٥٤ھ مصحح سُہیل طاہرؔ (نُسخہ؛ درمطبع نامی منشی نول کشور واقع کان پور مزین طبع شد ١٤٠٧ھ) قبر مبارک محمد ہاشم کشمیؒ ۱۰۰۰ھ تا ١٠٤٥ھ

زُبْدَۃُ الْمَقَامَات؛ مقصد اَوَّل، فصل دوم (ب)

اثباتِ صرف یعنی اللّٰہ گویند روزی عسکری بملازمتِ ایشان آمد ایشان بہ تقریب طہارت از مسجد برون رفتند خادِمِ این سپاہی برون در عنانِ اسپ گرفتہ ایســتادہ بود حین تخلی و استبرا بکرّات نظرِ کیمیا اثر ایشان بر آن خادِم افتادہ بودہ چون بمسجد در آمدہ اند خبر رســیدہ کہ خادِمِ آن عسکری را جذبہ و بیخودی بر خاک افــگندہ است و میان اسپان چون گوی ہر سوی غلطان ست و از قبیل شام تا پاسی از شب ہمچنان در اضطراب بودہ بآن گاہ بشوریدہ و روی ببازار نہادہ  و ہمچنان در صحرا برون رفتہ دیگر ہیچکس ازو خبری نیافت