![]() |
| اثباتِ صرف یعنی اللّٰہ |
گویند روزی عسکری بملازمتِ ایشان آمد ایشان بہ تقریب طہارت از مسجد برون رفتند خادِمِ این سپاہی برون در عنانِ اسپ گرفتہ ایســتادہ بود حین تخلی و استبرا بکرّات نظرِ کیمیا اثر ایشان بر آن خادِم افتادہ بودہ چون بمسجد در آمدہ اند خبر رســیدہ کہ خادِمِ آن عسکری را جذبہ و بیخودی بر خاک افــگندہ است و میان اسپان چون گوی ہر سوی غلطان ست و از قبیل شام تا پاسی از شب ہمچنان در اضطراب بودہ بآن گاہ بشوریدہ و روی ببازار نہادہ و ہمچنان در صحرا برون رفتہ دیگر ہیچکس ازو خبری نیافت
کہا جاتا ہے کہ ایک دن ایک سپاہی ان (حضرت) کی خدمت میں ملازمت کے لیے آیا۔ وہ حضرات طہارت کی غرض سے مسجد سے باہر تشریف لائے۔ اس سپاہی کا خادم مسجد کے باہر گھوڑے کی لگام تھامے کھڑا تھا۔ قضائے حاجت اور استبرا کے دوران بارہا ان کی کیمیا اثر نظر اس خادم پر پڑتی رہی۔ جب وہ مسجد میں واپس داخل ہوئے تو خبر پہنچی کہ اس سپاہی کے خادم پر ایسی کیفیتِ جذب و بیخودی طاری ہوگئی ہے کہ وہ خاک پر گر پڑا ہے اور گھوڑوں کے درمیان گیند کی طرح ہر سمت لڑھک رہا ہے۔ شام کے وقت سے رات کے ایک پہر تک وہ اسی اضطراب میں مبتلا رہا اس کے بعد وہ بدحواس ہو کر بازار کی طرف چل پڑا، پھر اسی طرح صحرا کی طرف نکل گیا، اور اس کے بعد کسی کو اس کی کوئی خبر نہ ملی۔
![]() |
| ایک سپاہی |
مرا از زُلفِ تو موی پسندست܀
فُضُولی میکنم بوی بسـندست܀
چون آن مرضعہ بخانہ مراجعت نمود ساعتی نرفتہ بود کہ آثارِ مستی و جذبات برو پیچیدن گرفت و وی خود را بران نمیداشت تا آنکہ فریادی سخت بر آورد و بیہوش بیفتاد و از پہلوی چِپِ او حرکتِ قلبی چنان غلبہ برداشت کہ ہمہ یاران معاینہ می نمودند بعد از مدتی بہوش آمد پرسیدہ شد کہ چہ بود و چہ دیدی گفت ساعت بساعت حضرت خواجہ بصورت مہیبِ عجیب نمودار از نظرِ من میشد تا آنکہ امری مرا از جان ربودہ دیگر نمیدانیم کہ چہ شد جزآنکہ دلِ خود را اللّٰہ گو می یابم سیدی گفتند بحضرت خواجہ قدس سرە حال او را عرض کردہ شد تبسم نمودند و تعلیم ذکرش فرمودند و آن صالحہ امروز در فیروز آباد از نساء صاحبِ احوال است و آن صبیہ سیدی کہ در خانۂ راقم ست نیز از یمن آن نظر خداوند عفت و حُضُور چنانکہ حضرت ایشان ما او را بسر حلقۂِ بعض نساء ذاکرات مامور گردانیدہ اند
میرے مرشد و آقا، سیّدی میر محمد نعمان (سلمہُ اللّٰہ) فرماتے ہیں کہ ہماری ایک بچی تھی جس کے لیے ایک دایہ مقرر تھی۔ ہم نے اس دایہ کو بارہا حضرت خواجہ کے ساتھ مریدی اختیار کرنے کی ترغیب دی، مگر وہ انکار کرتی رہی۔ آخر ایک دن ہم نے اس بچی کو، اسی دایہ کے ہمراہ، حضرت خواجہ کی خدمت میں بھیج دیا۔
حضرت خواجہ نے اس دودھ پیتے بچے کو اپنی مبارک گود میں لیا اور اس پر بے حد شفقت فرمائی۔ اس بچے نے اپنا ہاتھ حضرت کی ریشِ مبارک کی طرف بڑھایا اور داڑھیِ مبارک کا ایک بال اس کے ہاتھ میں آ گیا۔ حضرت نے فرمایا؛ یہ بچہ ہم سے ایک یادگار لے رہا ہے۔ اور انہی دنوں کے قریب حضرت کا وصال ہو گیا۔ وہ مبارک بال آج تک بطورِ تبرک اور یادگار محفوظ ہے ؎۔
مجھے تیری زلف کا ایک بال پسند ہے
فضولی نہیں کرتا، بس یہی خوشبو کافی ہے
جب وہ دایہ گھر واپس لوٹی تو ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اس پر مستی اور جذبات کے آثار طاری ہونے لگے۔ وہ اپنے آپ کو سنبھال نہ سکی، یہاں تک کہ ایک سخت چیخ ماری اور بے ہوش ہو کر گر پڑی۔ اس کے بائیں پہلو میں دل کی ایسی شدید حرکت ہوئی کہ تمام ساتھی اس کا معائنہ کرنے لگے۔ کچھ وقت بعد اسے ہوش آیا۔ اس سے پوچھا گیا؛ کیا ہوا اور تم نے کیا دیکھا؟
اس نے کہا؛ لمحہ بہ لمحہ حضرت خواجہ ایک ہیبت ناک اور عجیب صورت میں میری نظر کے سامنے ظاہر ہوتے رہے، یہاں تک کہ ایک امر نے میری جان ہی کھینچ لی۔ اس کے بعد ہمیں کچھ معلوم نہیں، بس اتنا جانتی ہوں کہ میں اپنے دل کو اللّٰہ کہتے ہوئے پاتی ہوں۔
سیّدی فرماتے ہیں کہ یہ حال حضرت خواجہ (قدس سرّہ) کی خدمت میں عرض کیا گیا۔ آپ مسکرائے اور اس کے ذکر کی تعلیم فرمائی۔ وہ نیک خاتون آج فیروز آباد میں صاحباتِ حال عورتوں میں شمار ہوتی ہے۔
اور وہ بچی جس کا ذکر ہوا، جو اب میرے گھر میں ہے، وہ بھی اس نظرِ مبارک کی برکت سے عفت اور حضوری کی ایسی کیفیت رکھتی ہے کہ حضرت نے ہمیں اسے بعض ذکر کرنے والی خواتین کے حلقے کی سربراہی پر مامور کرنے کا حکم فرمایا ہے۔
![]() |
| مسجد فیروز شاہ کوٹلہ |
اور حضرتِ خواجہ کا نہایت دل آویز طریقہ، کمالِ اخلاص پروری اور ہمہ گیر شفقت کے باعث یہ تھا کہ جس کسی کو وہ ذکر کی تعلیم دیتے، اسی وقت اس کے ساتھ ہمت اور توجہِ شریف بھی اس کے مال و حال میں شامل فرما دیتے، اور اس کی حقیقتِ جامعہ کے ادراک پر کونی نقوش کی راہیں بند کر دیتے؛ گویا سلسلۂ نقشبندیہ کے سرچشمے کو عیاں فرما دیتے تھے۔
ایک ہی لمحے میں سالک کے دل کی زبان ذکر سے گویا ہو جاتی، اور حضور و جذبہ اسے اپنی آغوش میں لے لیتا۔ بعض لوگ ذبح کیے ہوئے پرندے کی طرح خاک پر تڑپتے اور لڑھکتے تھے، بعض خودی سے غائب ہو کر حیرت میں ڈوب جاتے، اور بعض کے لیے اسی کیفیت میں عوالمِ مثال میں ارواح یا معانی منکشف ہو جاتے، اور یہ حالت کئی دنوں تک جاری رہتی، یہاں تک کہ پھر حضرت کی نظرِ تربیت اسے صحو اور افاقت کی طرف واپس لے آتی، اور یوں ”الشیخ یحیی و یمیت“ کا مصداق ظاہر ہو جاتا۔
یہ عنایت حضرت کی طرف سے عام تھی، اور ہم اپنے حضرت کو ان کے نہایت پاکیزہ راز کے ساتھ مقدس مانتے ہیں۔
کچھ روز بعد قریبًا فرمایا کہ اس نعمت کی شمولیت اور عموم یعنی تعلیم کے آغاز ہی میں دل کا ذکر سے گویا ہو جانا اور جذبہ کا حاصل ہو جانا اس طریق کے طالبوں کے لیے ہمارے حضرت خواجہ (قدس سرہٗ) کی لازم برکات میں سے ہے۔ بندہ نے عرض کیا کہ پہلے اکابر کا یہ معمول نہ تھا۔ فرمایا؛ تھا، مگر ابتدا ہی میں اس درجہ تعمیم کے ساتھ نہ تھا۔
پھر فرمایا کہ جب میں نے خود حضرت خواجہ سے اس شمول و عموم کے اختیار کرنے کا راز پوچھا تو انہوں نے فرمایا؛ اُس زمانے سے لے کر اب تک اہلِ ارادت کی طلب اور ہمت میں بہت کمی اور سستی آ گئی ہے، اور راہ کے طالبوں کے حوصلے کمزور ہو گئے ہیں۔ اسی بنا پر کثرتِ شفقت نے یہ تقاضا کیا کہ انہیں بغیر مجاہدہ، سعی اور تردد کے ہی ایک گھونٹ چکھا دیا جائے، تاکہ طلب کے بیابان میں چلنے والے پیادوں کو ایک سواری میسر آ جائے، اور ان کی سرد مہری حرارت میں بدل جائے۔
جب حضرتِ ایشان نے یہ حکایت اختتام کو پہنچائی تو ایک آہ بھری اور یہ دعا زبان پر جاری فرمائی؛
جَزَاہُ ٱلـلّٰهُ عَنِ الطَّالِبِیْنَ خَیْرَ الْجَزَاءِ
و ہم حضرت ایشان طاب ثرەٗ بتقریب قوت کاملۂ پیر بزرگوار خود در افاضۂ این نسبت کرامی فرمودند روزی یکی از مخلصان قریب ایشان این خواست در خدمت ایشان یکی از رسایل شریفۂ ایشان را بہ نیت حصول حضور بگذراند حضرت خواجہ دو روزی آن رسالہ را بوی درس گفتہ درین اثنا فرمودند ای فلان نسبت ازان نزدیک تر ست کہ آنرا از رسائل توان اَخَذ نمود
اور ہم نے حضرتِ ایشان (طاب ثراہٗ) کو اپنے بزرگوار پیر کی قوتِ کاملہ کے واسطے سے اس نسبت کے افاضے کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے بھی سنا کہ ایک دن ان کے قریب رہنے والے مخلصین میں سے ایک نے یہ خواہش ظاہر کی کہ حضرت کے کسی رسالہ شریف کو، حصولِ حضور کی نیت سے، ان کی خدمت میں پڑھا جائے۔ حضرت خواجہ نے دو دن تک وہ رسالہ اسے درسًا پڑھایا۔ اسی دوران فرمایا؛ اے فُلاں! یہ نسبت اس سے کہیں زیادہ قریب ہے کہ اسے محض رسائل کے ذریعے حاصل کیا جا سکے۔
ہمارے حضرت خواجہ (قدس سرہٗ) کی شفقت اور رحم دلی اس درجہ تھی کہ ایک مرتبہ لاہور میں قحط اور سخت تنگی پڑی ہوئی تھی اور انہی دنوں حضرت خواجہ اسی شہر میں مقیم تھے۔ اس حالت میں حضرت نے کئی دن تک کچھ تناول نہ فرمایا۔ جب کبھی آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا جاتا تو فرماتے؛ یہ انصاف کے خلاف ہے کہ کوئی گلی میں بھوک سے جان دے رہا ہو اور ہم کھانا کھائیں۔ جو کچھ بھی حاضر ہوتا، سب بھوکے لوگوں میں بھجوا دیتے، اور خود اپنی روحانی قوت کے سہارے گزران کرتے تھے، جو اس وراثت کا فیض تھی جس کے متعلق فرمایا گیا ہے؛ «اُبِیتُ عِندَ رَبِّی»۔
جب حضرت لاہور سے دہلی کی طرف روانہ ہوئے تو یہ بارہا ہوا کہ ابھی ایک فرسخ بلکہ ایک میل بھی طے نہ ہوا ہوتا کہ کسی محتاج کو اپنی نظر میں آتا ہوا دیکھتے جو پیدل چل رہا ہوتا۔ حضرت فورًا اپنی سواری سے اتر آتے، اسے سوار کر دیتے اور خود منزل تک پیدل چل کر پہنچتے اور اس نیک عمل کو چھپانے کی نیت سے سر پر چادر ڈال لیتے تاکہ کوئی شناسا اس خیر کے کام سے آگاہ نہ ہو۔ پھر جب منزل کے قریب پہنچتے تو اخفا ہی کی نیت سے دوبارہ اسی سواری پر سوار ہو جاتے تھے۔




معلوم ہوا بلیوں سے محبت کرنی چاہیے
پاسخ دادنحذفاپنے مطلب کی لوگ بات فورًا اخذ کرلیتے ہیں۔
حذف