رد شدن به محتوای اصلی

زُبْدَۃُ المَقَامَات؛ مقصد اَوَّل، فصل دوم (ج)

اگر خارقی ہم از ایشان بظہور رسیدہ ازو وفور شفقت بر خلق اللّٰہ بودہ مثلًا از جملہ خوارِق ایشان سہ خارِق ست کہ برنگاشتہ می آید چون ملاحظہ نمودہ می آید موجب ظہور آن باوجود استبعاد ایشان از نمودن خوارق غلبہ شفقت بودە خارق اول آنکہ یکی از فضلای دہلی کہ بکری بعقد در آوردہ بود سالہا رفتہ او را فتحی روی ندادہ از ادعیہ و ادویہ اثر ندیدہ چون وصف ایشان شنیدہ روزے کہ ایشان بجای سوارہ میرفتہ اند در عنان در آمدہ بہ نیاز تمام قصّہ را معروض داشــتہ التِماس زوال عقیمیت نمودہ حضرت خواجہ را دل برشفقت کشودہ از مرکب فرود آمدہ او را در کنار شریف کشـیدہ مُعانقہ سخت نمودہ اند فرمودہ اند کہ رفتہ شوید کہ فتح ست وہی ہمان لحظہ در خود قوتِ غریب دیدہ رفتہ و بسہولت تمام ہمان لحظہ فتح نمودە 

اور اگر حضرت سے کوئی خارقِ عادت امر ظاہر بھی ہوا تو اس کی بنیاد بھی خلقِ خدا پر آپؒ کی بے پناہ شفقت ہی تھی۔ مثلًا آپؒ کے خوارق میں سے تین ایسے خوارق بیان کیے جاتے ہیں جو تحریر میں آتے ہیں۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ حضرت خوارق کے اظہار سے بعید رہتے تھے، مگر ان کے ظہور کا سبب شفقت کی غلبہ آمیزی ہی تھا۔ 

ان میں پہلا خارق یہ ہے کہ دہلی کے ایک فاضل شخص نے نکاح کیا تھا، مگر کئی برس گزر جانے کے باوجود اسے اولاد کی کوئی خوش خبری نہ ملی۔ اس نے دعائیں بھی کیں اور دوائیں بھی استعمال کیں، مگر کچھ اثر نہ ہوا۔ جب اس نے حضرت کا حال سنا تو ایک دن، اس وقت کہ حضرت سواری پر جا رہے تھے، وہ آگے بڑھ کر لگام تھام کر کھڑا ہو گیا اور پوری عاجزی کے ساتھ اپنا قصہ عرض کیا اور بانجھ پن کے زوال کی التجا کی۔ حضرت خواجہؒ کا دل اس پر شفقت سے بھر آیا۔ آپؒ سواری سے اترے، اسے اپنے کنارِ مبارک سے لگایا اور سخت معانقہ فرمایا، پھر ارشاد کیا؛ جاؤ، اب فتح ہے۔ وہ شخص اسی لمحے اپنے اندر ایک عجیب قوت محسوس کرتا ہوا وہاں سے روانہ ہوا، اور نہایت آسانی کے ساتھ اسی وقت مراد کو پہنچ گیا۔

خارق دوم آنکہ ضعیفہ را طفلے سہ چہار سالہ از سرِ دیوارِ حصار فیروز آباد کہ زیرِ دیوار فرشِ سنگین ست و ارتفاعش قریب بسی ذراع بزیر افتادہ چنانکہ از سوراخہای گوش آن طفل خون بر آمدہ و نفسـش منقطع شد مادرِ آن طفل بگریہ و زاری و بی آرامی و بیقراری چارہ جُز آن ندیدہ کہ سر در قدم محترم حضرتِ خواجہ نہادہ اِلتِماسِ زندگیِ او نمودە حضرت خواجہ چُنانکہ عادت شریف ایشان بودہ کہ توجّہ و تصرّف خود را در پردہ بسی پنہان میکردہ اند کتاب طِب طلبیدہ اند و فرمودہ اند چنان معلوم میشود کہ این طفل نخواہد مُرد حاضران تعجّب میکردہ اند کہ کُدام کتابْ مُبَیَّنِ این معنی ست آن گاہ لحظہ خاموش شدہ اند آن طفل مختصر بحال خود آمدە حاضران را حیرت تمام روی نمودہ 

دوسرا خارق یہ ہے کہ ایک کمزور عورت کا تین چار برس کا بچہ فیروز آباد کے قلعے کی دیوار سے گر پڑا۔ دیوار کے نیچے پتھریلا فرش تھا اور اس کی بلندی بھی خاصی زیادہ تھی۔ بچہ اس طرح گرا کہ اس کے کانوں کے سوراخوں سے خون بہنے لگا اور اس کی سانس منقطع ہو گئی۔ اس بچے کی ماں رونے، چلّانے، بے قراری اور اضطراب میں مبتلا ہو گئی اور اس کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ حضرتِ خواجہؒ کے قدمِ محترم میں سر رکھ کر اس کی زندگی کی التجا کرے۔ حضرتِ خواجہؒ کی عادتِ شریفہ یہ تھی کہ اپنی توجہ اور تصرف کو نہایت پردہ پوشی میں رکھتے تھے۔ چنانچہ آپؒ نے ایک کتابِ طب طلب فرمائی اور ارشاد کیا؛ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ بچہ نہیں مرے گا۔ حاضرین کو بڑا تعجب ہوا کہ کون سی کتاب اس معنیٰ کی وضاحت کرتی ہے۔ اسی وقت حضرت کچھ لمحے خاموش رہے۔ اتنے میں وہ بچہ تھوڑا سا سنبھل آیا۔ حاضرین پر کامل حیرت طاری ہو گئی۔

وقت دیگر عسکری دور از شیوۀ مروت و صلاح بہ بعض ہمسایہا ستمی نمودہ ایشان از مشاہدہ آن ظلم او بی آرام شدہ آن سپاہی را نصیحت فرمودہ اند اما او از غایتِ ادبار بخت اقبال ننمودہ حضرت خواجہ از غایت ترحم بحال آن مظلوم متغیر شدە بآن ظالم فرمودہ اند اینہا در جوارِ فقرای خواجگان بزرگوار می باشند کہ بسـیار غیوراند خبردار باش در آن دو سہ روز آن ظالم را بتہمت دُزد افشاری گرفتہ بقـتل رسانیدند 

ایک دوسرے موقع پر، ایک فوجی نے مروت اور نیکی کے طریقے سے دوری اختیار کرتے ہوئے (یعنی سنگدلی سے) کچھ پڑوسیوں پر ظلم کیا۔ آپؒ اس ظلم کا مشاہدہ کر کے بے چین ہو گئے اور اس سپاہی کو نصیحت فرمائی، مگر اس نے اپنی انتہائی بدبختی کی وجہ سے (آپؒ کی بات کی طرف) ذرا بھی توجہ نہ دی۔ حضرت خواجہ اس مظلوم کے حال پر حد درجہ رحم کی وجہ سے (جلال میں آ کر) متغیر ہوگئے اور اس ظالم سے فرمایا؛ "یہ لوگ بزرگ خواجگان (نقشبندیہ) کے فقراء کے پڑوس میں رہتے ہیں جو کہ (اپنے وابستگان کے معاملے میں) بہت غیرت مند ہیں، خبردار رہنا!"۔ چنانچہ ان دو تین دنوں ہی میں اس ظالم کو چوری کی تہمت میں پکڑ لیا گیا اور اسے قتل کر دیا گیا۔ 

و حکایت کہ از تحمّل و بردباری ایشان از اصحاب ایشان شنودہ ام بدفترہا نگنجد جوانی از ہمسایہای ایشان کہ مرتکب منکرات می بودە و انواع شرور ازوی بظہور می آمدہ ایشان آنرا می شنودہ اند و متحمّل بودہ اند روزے آن شریر را شحنہ باشارت خواجہ حسام الدّین را طلبیدہ عتاب فرمودہ اند خواجہ بعرض رسانیدە کہ بس فاسق و شریرست چنانکہ شرارتِ او متعدّی و مُتجاوز است حضرت خواجہ آہِ سرد از دلِ پُر درد کشـیدہ فرمودہ اند آری چون شما خود را صالح باصفا و خیّر یافتہ آید او در نظرِ شما طالح و کدیر و شریر می درآید ما کہ بہیچ وجہ خود را ازو مُمتاز ندانیم چگونہ بر زبان زیان آورنیم این فرمودہ اند ووی را از حبس خلاصی دادہ اند و وی ببرکت شفقت ایشان از صلحا شدہ 

اور انؒ کے تحمل اور بردباری کی جو حکایات میں نے ان کے ساتھیوں سے سنی ہیں، وہ کتابوں میں نہیں سما سکتیں۔ ان کے پڑوسیوں میں سے ایک جوان تھا جو برائیوں کا مرتکب ہوتا تھا اور اس سے طرح طرح کے شر صادر ہوتے تھے؛ آپؒ یہ سب سنتے تھے مگر تحمل فرماتے تھے۔ ایک دن اس شرارتی (نوجوان) کو کوتوال نے خواجہ حسام الدینؒ کے اشارے پر طلب کیا اور اسے سخت جھِڑکا۔ خواجہ (حسام الدین) نے عرض کیا کہ یہ بہت ہی فاسق اور شریر ہے، یہاں تک کہ اس کی شرارت (دوسروں تک) پھیل چکی ہے اور حد سے بڑھ گئی ہے۔

​حضرت خواجہ (باقی باللّٰہؒ) نے اپنے دلِ پُر درد سے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور فرمایا؛ "ہاں! چونکہ آپ لوگوں نے خود کو صالح (نیک)، پاکیزہ اور خیر والا پایا ہے، اس لیے وہ آپ کی نظر میں طالح (بدکار)، گدلا اور شریر دکھائی دیتا ہے۔ ہم تو خود کو کسی بھی طرح اس سے برتر (ممتاز) نہیں جانتے، پھر ہم اپنی زبان سے ایسا لفظ کیسے نکالیں جو اسے نقصان پہنچائے؟" یہ فرما کر آپؒ نے اسے قید سے خلاصی دلا دی اور وہ نوجوان آپؒ کی شفقت کی برکت سے نیک لوگوں (صلحا) میں شامل ہو گیا۔

و این نسبت انکسار و دید قصور احوال برایشان چنان مستولی بودہ کہ اگر از طالبی ناگاہ جریمہ صادر میشدہ و بایشان میرسـید میفرمودہ اند اینہـا اثر بدصفتی ماست ہرگاہ در ما بدے باشد ناچار برینہا منعکس میگردد این فقیران چکنند و اگر از کسی مکروہِ شرعی میدیدند بتصریح وشدت أمر معروف نمیکردند بل بہ لَیْت و کنایہ و تمثیل میفرمودند چنانکہ ناچار دلنشین آنکس میشد و سبب بر تصریح نا کردن أمر معروف بیشتر آن بود چنانکہ ناچار دلنشین آنکس میشد و سبب بر تصریح نا کردن أمر معروف بیشتر آن بود کہ خود را از سائر ناس مُمتاز نمیدانستند و ہرگز غیبت و قدح بر کسی بر زبانِ ایشان و در مجلس ایشان نمیگذشت و اگر کسی را ارادە تخفیف مسلمانی در حضورِ ایشان بخاطر میگذشت ایشان بتوصیف آن مسلمان شروع می نمودند 

اور ان (حضرت خواجہؒ) پر عاجزی (انکسار) اور اپنے احوال میں قصور و کوتاہی دیکھنے کی نسبت اس قدر غالب تھی کہ اگر کسی طالب (مرید) سے اچانک کوئی خطا سرزد ہو جاتی اور آپؒ کو اس کی خبر ملتی تو آپؒ فرماتے؛ "یہ سب ہماری اپنی بد صفتی کا اثر ہے؛ جب ہم میں کوئی برائی ہوتی ہے تو وہ ناچار ان لوگوں (مریدوں) پر منعکس ہو جاتی ہے، یہ بے چارے فقیر کیا کریں؟"

​اور اگر آپؒ کسی شخص میں کوئی شرعی ناپسندیدہ بات (مکروہ) دیکھتے تو صراحت اور سختی کے ساتھ 'امر بالمعروف' (نیکی کا حکم) نہیں کرتے تھے، بلکہ نرمی، کنایہ (اشارہ) اور مثال کے طور پر فرماتے تھے، اس طرح کہ وہ بات ناچار اس شخص کے دل میں اتر جاتی۔ اور امر بالمعروف میں صراحت (سختی) نہ کرنے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ آپؒ خود کو باقی لوگوں سے برتر (ممتاز) نہیں سمجھتے تھے۔ آپؒ کی زبان سے اور آپؒ کی مجلس میں کبھی کسی کی غیبت یا برائی نہیں نکلتی تھی، اور اگر کسی کے دل میں آپؒ کی موجودگی میں کسی مسلمان کی تذلیل (تخفیف) کا خیال بھی آتا، تو آپؒ اس مسلمان کی تعریف و توصیف شروع کر دیتے تھے۔

راقمِ حروف گوید روزے در زاویہ مسجدی از مساجد تنہا نشــستہ بودم فقیری بافقیر دیگر حکایت از شیوۀ اولیا میکرد و درین ضمن گفت من درین مدت زندگانی حکایتِ خود یک مرد دیدم دانم کہ چون او بے نفسے و بردباری درین زمانہ نخواہد بود نام مبارک خواجۂ ما را گرفت و گفت بر مزار شریف خواجہ قطب الدّین بودم ناگاہ خبر رسید کہ حضرت خواجہ محمد باقی قُدِّسَ اللّٰهُ سِرَّہٗ اَلْاَقْدَسُ تشریف می آرند خادِمِ مزار درجائیکہ قریب برمزار بود برای ایشان سریری بنہاد و بران فرشی و سادہ بگسترد پیش از در آمدن حضرت خواجہ یکی از فقرای بی قید درآمد نظرش بران سریر و فرش افتاد و گفت این چیست و برای کیست گفتند برای فُلان عزیز آن بی قید بخشونت و درشتی تمام زبان بمذمت و دشنام ایشان کشودہ درین اثناحضرت خواجہ درآمدند وآن بےقید بیش از پیش بحضور ایشان بہرزہ گوئی پرداخت و گفت ای فلان تو چہ لائق آنی کہ اینجا برای تو فرش افگنند جمع کثیر از درویشان خواجہ کہ حاضر بودند بی آرام شدہ میخواستند ویرا تنبیہ و تقریب نمایند حضرت خواجہ ہمـــہ را بنگاہ خشم آلود ازان ارادہ باز داشتند و خود نزدیک آن شــتام رفتہ بزمی تمام عُذر درمیان آوردند و گفتند چنانستی کہ شما میفرمائید من چُنین وچُنان چہ لائق آنم این کار بی اشارت و بیعلم من شدە ببخشـید و بشومیٔ من مغز خود را خالی مکنید و بر آستین مُبارک عرق اورا ازجبینِ او می چیدند و تواضع می نمودند آن گاہ درمی چند طلبیدہ بوی میدادند راوی گفت ہیچ تغیر و تذبذب درحال و گفتار خواجہ ندیدم آن زمان مرا یقین شد کہ نفس ملکی کہ میگفتند درین عالَم بودہ است 

اس کتاب کا لکھاری کہتا ہے کہ ایک دن میں ایک مسجد کے گوشے میں تنہا بیٹھا تھا، وہاں ایک فقیر دوسرے فقیر سے اولیاء اللہ کے طریقے کی حکایات بیان کر رہا تھا۔ اسی دوران اس نے کہا؛ میں نے اپنی پوری زندگی میں (اپنے مشاہدے کی بنیاد پر) صرف ایک مردِ کامل دیکھا ہے اور میں جانتا ہوں کہ اس زمانے میں اس جیسا بے نفس اور بردبار کوئی دوسرا نہ ہوگا۔ پھر اس نے ہمارے حضرت خواجہ (باقی باللہ) کا نامِ مبارک لیا اور کہا؛ میں خواجہ قطب الدین (بختیار کاکی قدس سرہ) کے مزارِ شریف پر تھا کہ اچانک خبر پہنچی کہ حضرت خواجہ محمد باقیؒ تشریف لا رہے ہیں۔ خادمِ مزار نے مزار کے قریب ہی آپؒ کے بیٹھنے کے لیے ایک تخت (سریر) رکھا اور اس پر ایک سادہ سا فرش بچھا دیا۔ حضرت خواجہؒ کے تشریف لانے سے پہلے ہی وہاں ایک آزاد منش (بے قید) فقیر آ نکلا۔ اس کی نظر اس تخت اور فرش پر پڑی تو پوچھا؛ یہ کیا ہے اور کس کے لیے ہے؟ لوگوں نے کہا؛ فلاں عزیز (حضرت خواجہؒ) کے لیے ہے۔ وہ بے قید فقیر انتہائی سختی اور درشتی کے ساتھ آپؒ کی مذمت اور دشنام طرازی (گالیاں دینے) پر اتر آیا۔ ​اسی اثنا میں حضرت خواجہؒ تشریف لے آئے، تو وہ شخص آپؒ کے سامنے پہلے سے بھی زیادہ بیہودہ گوئی کرنے لگا اور کہنے لگا؛ اے فلاں! تو اس لائق کہاں ہے کہ تیرے لیے یہاں فرش بچھایا جائے؟ حضرت خواجہؒ کے ہمراہ درویشوں کی ایک بڑی جماعت تھی جو یہ سب دیکھ کر بے چین ہوگئی اور چاہتی تھی کہ اسے تنبیہ کرے اور سزا دے۔ مگر حضرت خواجہؒ نے سب کو ایک غصہ بھری نظر سے دیکھ کر اس ارادے سے باز رکھا، اور خود اس گالیاں دینے والے کے قریب گئے اور کمالِ عاجزی سے عذر پیش کرتے ہوئے فرمایا؛ جیسا آپ فرما رہے ہیں، میں ویسا ہی (گنہگار اور ناچیز) ہوں، میں اس لائق کہاں ہوں۔ یہ کام (فرش بچھانا) میری اجازت اور علم کے بغیر ہوا ہے، مجھے معاف کر دیں اور میری نحوست کی وجہ سے اپنا دماغ خراب نہ کریں۔ آپؒ اپنی مبارک آستین سے اس (فقیر) کی پیشانی کا پسینہ پونچھنے لگے اور انکساری کا اظہار فرمایا۔ پھر کچھ درہم منگوا کر اسے بطورِ ہدیہ دیے۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت خواجہؒ کے حال اور گفتگو میں ذرہ برابر بھی کوئی تبدیلی یا اضطراب نہیں دیکھا۔ اس وقت مجھے یقین ہو گیا کہ وہ 'نفسِ ملکی' (فرشتوں جیسی پاکیزہ صفت) جس کا تذکرہ سنا کرتے تھے، وہ اسی دنیا میں موجود ہے۔"

فقط سہیل طاہر، سیالکوٹ

نظرات

پست‌های معروف از این وبلاگ

زُبْدَۃُ الْمَقَامَات؛ مقصد اَوَّل، فصل دوم (الف)

 فصل دوم  مزار مبارک حضرت خواجہ بیرنگؒ دہلی، موجودہ بھارت

زُبْدَۃُ الْمَقَامَات؛ آغاز

بَرَکٰاتِ اَحْمَدِیَّہ نام دگر زُبْدَۃ الْمَقٰامٰاتِ تأريخ تأليف ۱۰۳۷ھ محـــمد ھــاشم کشمی بدخشانی وفات ۱۰٥٤ھ مصحح سُہیل طاہرؔ (نُسخہ؛ درمطبع نامی منشی نول کشور واقع کان پور مزین طبع شد ١٤٠٧ھ) قبر مبارک محمد ہاشم کشمیؒ ۱۰۰۰ھ تا ١٠٤٥ھ

زُبْدَۃُ الْمَقَامَات؛ مقصد اَوَّل، فصل دوم (ب)

اثباتِ صرف یعنی اللّٰہ گویند روزی عسکری بملازمتِ ایشان آمد ایشان بہ تقریب طہارت از مسجد برون رفتند خادِمِ این سپاہی برون در عنانِ اسپ گرفتہ ایســتادہ بود حین تخلی و استبرا بکرّات نظرِ کیمیا اثر ایشان بر آن خادِم افتادہ بودہ چون بمسجد در آمدہ اند خبر رســیدہ کہ خادِمِ آن عسکری را جذبہ و بیخودی بر خاک افــگندہ است و میان اسپان چون گوی ہر سوی غلطان ست و از قبیل شام تا پاسی از شب ہمچنان در اضطراب بودہ بآن گاہ بشوریدہ و روی ببازار نہادہ  و ہمچنان در صحرا برون رفتہ دیگر ہیچکس ازو خبری نیافت