اور اگر حضرت سے کوئی خارقِ عادت امر ظاہر بھی ہوا تو اس کی بنیاد بھی خلقِ خدا پر آپؒ کی بے پناہ شفقت ہی تھی۔ مثلًا آپؒ کے خوارق میں سے تین ایسے خوارق بیان کیے جاتے ہیں جو تحریر میں آتے ہیں۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ حضرت خوارق کے اظہار سے بعید رہتے تھے، مگر ان کے ظہور کا سبب شفقت کی غلبہ آمیزی ہی تھا۔
ان میں پہلا خارق یہ ہے کہ دہلی کے ایک فاضل شخص نے نکاح کیا تھا، مگر کئی برس گزر جانے کے باوجود اسے اولاد کی کوئی خوش خبری نہ ملی۔ اس نے دعائیں بھی کیں اور دوائیں بھی استعمال کیں، مگر کچھ اثر نہ ہوا۔ جب اس نے حضرت کا حال سنا تو ایک دن، اس وقت کہ حضرت سواری پر جا رہے تھے، وہ آگے بڑھ کر لگام تھام کر کھڑا ہو گیا اور پوری عاجزی کے ساتھ اپنا قصہ عرض کیا اور بانجھ پن کے زوال کی التجا کی۔ حضرت خواجہؒ کا دل اس پر شفقت سے بھر آیا۔ آپؒ سواری سے اترے، اسے اپنے کنارِ مبارک سے لگایا اور سخت معانقہ فرمایا، پھر ارشاد کیا؛ جاؤ، اب فتح ہے۔ وہ شخص اسی لمحے اپنے اندر ایک عجیب قوت محسوس کرتا ہوا وہاں سے روانہ ہوا، اور نہایت آسانی کے ساتھ اسی وقت مراد کو پہنچ گیا۔
دوسرا خارق یہ ہے کہ ایک کمزور عورت کا تین چار برس کا بچہ فیروز آباد کے قلعے کی دیوار سے گر پڑا۔ دیوار کے نیچے پتھریلا فرش تھا اور اس کی بلندی بھی خاصی زیادہ تھی۔ بچہ اس طرح گرا کہ اس کے کانوں کے سوراخوں سے خون بہنے لگا اور اس کی سانس منقطع ہو گئی۔ اس بچے کی ماں رونے، چلّانے، بے قراری اور اضطراب میں مبتلا ہو گئی اور اس کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ حضرتِ خواجہؒ کے قدمِ محترم میں سر رکھ کر اس کی زندگی کی التجا کرے۔ حضرتِ خواجہؒ کی عادتِ شریفہ یہ تھی کہ اپنی توجہ اور تصرف کو نہایت پردہ پوشی میں رکھتے تھے۔ چنانچہ آپؒ نے ایک کتابِ طب طلب فرمائی اور ارشاد کیا؛ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ بچہ نہیں مرے گا۔ حاضرین کو بڑا تعجب ہوا کہ کون سی کتاب اس معنیٰ کی وضاحت کرتی ہے۔ اسی وقت حضرت کچھ لمحے خاموش رہے۔ اتنے میں وہ بچہ تھوڑا سا سنبھل آیا۔ حاضرین پر کامل حیرت طاری ہو گئی۔
اور انؒ کے تحمل اور بردباری کی جو حکایات میں نے ان کے ساتھیوں سے سنی ہیں، وہ کتابوں میں نہیں سما سکتیں۔ ان کے پڑوسیوں میں سے ایک جوان تھا جو برائیوں کا مرتکب ہوتا تھا اور اس سے طرح طرح کے شر صادر ہوتے تھے؛ آپؒ یہ سب سنتے تھے مگر تحمل فرماتے تھے۔ ایک دن اس شرارتی (نوجوان) کو کوتوال نے خواجہ حسام الدینؒ کے اشارے پر طلب کیا اور اسے سخت جھِڑکا۔ خواجہ (حسام الدین) نے عرض کیا کہ یہ بہت ہی فاسق اور شریر ہے، یہاں تک کہ اس کی شرارت (دوسروں تک) پھیل چکی ہے اور حد سے بڑھ گئی ہے۔
حضرت خواجہ (باقی باللّٰہؒ) نے اپنے دلِ پُر درد سے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور فرمایا؛ "ہاں! چونکہ آپ لوگوں نے خود کو صالح (نیک)، پاکیزہ اور خیر والا پایا ہے، اس لیے وہ آپ کی نظر میں طالح (بدکار)، گدلا اور شریر دکھائی دیتا ہے۔ ہم تو خود کو کسی بھی طرح اس سے برتر (ممتاز) نہیں جانتے، پھر ہم اپنی زبان سے ایسا لفظ کیسے نکالیں جو اسے نقصان پہنچائے؟" یہ فرما کر آپؒ نے اسے قید سے خلاصی دلا دی اور وہ نوجوان آپؒ کی شفقت کی برکت سے نیک لوگوں (صلحا) میں شامل ہو گیا۔
و این نسبت انکسار و دید قصور احوال برایشان چنان مستولی بودہ کہ اگر از طالبی ناگاہ جریمہ صادر میشدہ و بایشان میرسـید میفرمودہ اند اینہـا اثر بدصفتی ماست ہرگاہ در ما بدے باشد ناچار برینہا منعکس میگردد این فقیران چکنند و اگر از کسی مکروہِ شرعی میدیدند بتصریح وشدت أمر معروف نمیکردند بل بہ لَیْت و کنایہ و تمثیل میفرمودند چنانکہ ناچار دلنشین آنکس میشد و سبب بر تصریح نا کردن أمر معروف بیشتر آن بود چنانکہ ناچار دلنشین آنکس میشد و سبب بر تصریح نا کردن أمر معروف بیشتر آن بود کہ خود را از سائر ناس مُمتاز نمیدانستند و ہرگز غیبت و قدح بر کسی بر زبانِ ایشان و در مجلس ایشان نمیگذشت و اگر کسی را ارادە تخفیف مسلمانی در حضورِ ایشان بخاطر میگذشت ایشان بتوصیف آن مسلمان شروع می نمودند
اور ان (حضرت خواجہؒ) پر عاجزی (انکسار) اور اپنے احوال میں قصور و کوتاہی دیکھنے کی نسبت اس قدر غالب تھی کہ اگر کسی طالب (مرید) سے اچانک کوئی خطا سرزد ہو جاتی اور آپؒ کو اس کی خبر ملتی تو آپؒ فرماتے؛ "یہ سب ہماری اپنی بد صفتی کا اثر ہے؛ جب ہم میں کوئی برائی ہوتی ہے تو وہ ناچار ان لوگوں (مریدوں) پر منعکس ہو جاتی ہے، یہ بے چارے فقیر کیا کریں؟"
اور اگر آپؒ کسی شخص میں کوئی شرعی ناپسندیدہ بات (مکروہ) دیکھتے تو صراحت اور سختی کے ساتھ 'امر بالمعروف' (نیکی کا حکم) نہیں کرتے تھے، بلکہ نرمی، کنایہ (اشارہ) اور مثال کے طور پر فرماتے تھے، اس طرح کہ وہ بات ناچار اس شخص کے دل میں اتر جاتی۔ اور امر بالمعروف میں صراحت (سختی) نہ کرنے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ آپؒ خود کو باقی لوگوں سے برتر (ممتاز) نہیں سمجھتے تھے۔ آپؒ کی زبان سے اور آپؒ کی مجلس میں کبھی کسی کی غیبت یا برائی نہیں نکلتی تھی، اور اگر کسی کے دل میں آپؒ کی موجودگی میں کسی مسلمان کی تذلیل (تخفیف) کا خیال بھی آتا، تو آپؒ اس مسلمان کی تعریف و توصیف شروع کر دیتے تھے۔
اس کتاب کا لکھاری کہتا ہے کہ ایک دن میں ایک مسجد کے گوشے میں تنہا بیٹھا تھا، وہاں ایک فقیر دوسرے فقیر سے اولیاء اللہ کے طریقے کی حکایات بیان کر رہا تھا۔ اسی دوران اس نے کہا؛ میں نے اپنی پوری زندگی میں (اپنے مشاہدے کی بنیاد پر) صرف ایک مردِ کامل دیکھا ہے اور میں جانتا ہوں کہ اس زمانے میں اس جیسا بے نفس اور بردبار کوئی دوسرا نہ ہوگا۔ پھر اس نے ہمارے حضرت خواجہ (باقی باللہ) کا نامِ مبارک لیا اور کہا؛ میں خواجہ قطب الدین (بختیار کاکی قدس سرہ) کے مزارِ شریف پر تھا کہ اچانک خبر پہنچی کہ حضرت خواجہ محمد باقیؒ تشریف لا رہے ہیں۔ خادمِ مزار نے مزار کے قریب ہی آپؒ کے بیٹھنے کے لیے ایک تخت (سریر) رکھا اور اس پر ایک سادہ سا فرش بچھا دیا۔ حضرت خواجہؒ کے تشریف لانے سے پہلے ہی وہاں ایک آزاد منش (بے قید) فقیر آ نکلا۔ اس کی نظر اس تخت اور فرش پر پڑی تو پوچھا؛ یہ کیا ہے اور کس کے لیے ہے؟ لوگوں نے کہا؛ فلاں عزیز (حضرت خواجہؒ) کے لیے ہے۔ وہ بے قید فقیر انتہائی سختی اور درشتی کے ساتھ آپؒ کی مذمت اور دشنام طرازی (گالیاں دینے) پر اتر آیا۔ اسی اثنا میں حضرت خواجہؒ تشریف لے آئے، تو وہ شخص آپؒ کے سامنے پہلے سے بھی زیادہ بیہودہ گوئی کرنے لگا اور کہنے لگا؛ اے فلاں! تو اس لائق کہاں ہے کہ تیرے لیے یہاں فرش بچھایا جائے؟ حضرت خواجہؒ کے ہمراہ درویشوں کی ایک بڑی جماعت تھی جو یہ سب دیکھ کر بے چین ہوگئی اور چاہتی تھی کہ اسے تنبیہ کرے اور سزا دے۔ مگر حضرت خواجہؒ نے سب کو ایک غصہ بھری نظر سے دیکھ کر اس ارادے سے باز رکھا، اور خود اس گالیاں دینے والے کے قریب گئے اور کمالِ عاجزی سے عذر پیش کرتے ہوئے فرمایا؛ جیسا آپ فرما رہے ہیں، میں ویسا ہی (گنہگار اور ناچیز) ہوں، میں اس لائق کہاں ہوں۔ یہ کام (فرش بچھانا) میری اجازت اور علم کے بغیر ہوا ہے، مجھے معاف کر دیں اور میری نحوست کی وجہ سے اپنا دماغ خراب نہ کریں۔ آپؒ اپنی مبارک آستین سے اس (فقیر) کی پیشانی کا پسینہ پونچھنے لگے اور انکساری کا اظہار فرمایا۔ پھر کچھ درہم منگوا کر اسے بطورِ ہدیہ دیے۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت خواجہؒ کے حال اور گفتگو میں ذرہ برابر بھی کوئی تبدیلی یا اضطراب نہیں دیکھا۔ اس وقت مجھے یقین ہو گیا کہ وہ 'نفسِ ملکی' (فرشتوں جیسی پاکیزہ صفت) جس کا تذکرہ سنا کرتے تھے، وہ اسی دنیا میں موجود ہے۔"

نظرات
ارسال یک نظر