اکثر ایسا ہوتا تھا کہ آپؒ کے بعض مخلص امراء حضرتؒ کی خدمت میں سونا چاندی بھیجتے تھے تاکہ آپؒ کی صواب دید کے مطابق فقراء میں تقسیم کر دیا جائے۔ حضرت، اپنی تفرید اور آزادگی کے باوجود، شفقۃً علیٰ خلقِ اللّٰہ خود متوجہ ہو کر مستحقین میں اسے تقسیم فرماتے، اور اس کے ساتھ اپنی طرف سے بھی کُچھ رقم شامل کر دیتے۔ اس کے باوجود بعض دور افتادہ محتاج زبانِ طعن دراز کرتے۔ آپؒ کے اصحاب چاہتے کہ انہیں روکا جائے، مگر حضرتؒ ایسی انکساری کی راہ اختیار فرماتے کہ یاروں کا غصہ جاتا رہتا اور اس کی جگہ نرمی اور شکستگی آ بیٹھتی۔ آپؒ قولًا و فعلًا اپنے ساتھیوں کو اپنے آپؒ کو کم سمجھنے، نیستی اختیار کرنے اور بردباری کی تعلیم دیتے، اور اسے راہِ عرفان کی دلیل قرار دیتے۔ اگر اصحاب میں سے کسی سے اس کے خلاف کوئی بات ظاہر ہوتی تو سخت عتاب کے ساتھ نصیحت فرماتے، جیسا کہ شیخ تاج کے نام آپؒ کے ایک مکتوب سے اس باب میں واضح ہوگا، ان شاء اللّٰہ سبحانہ۔
اور آپؒ کا زہد اور دنیاوی متاع سے استغناء اس حد تک تھا کہ مجلسِ شریف میں کبھی دنیاوی امور کا ذکر نہ ہوتا، سوائے اس کے کہ کسی حاجتمند کی سفارش مقصود ہو۔ اپنے لیے کبھی ان امور میں کوئی تدبیر نہ فرماتے۔
اور اپنے رشید مریدوں کے حق میں فقر، مسکنت، فاقہ اور قناعت ہی پسند فرماتے۔ فرمایا کرتے تھے؛ جس شخص کے لیے ہماری طرف سے مالی امداد ظاہر ہو، وہ یقین کر لے کہ ہماری دینی محبت میں اس کے لیے کچھ نہ کچھ کمی ہے۔
بعض اہلِ ارادت مالدار لوگ درخواست کرتے کہ آپؒ کی خانقاہ کے فقراء کے لیے کوئی معین وظیفہ مقرر کر دیا جائے۔ حضرت ان لوگوں کے حق میں، جن کی آپؒ سے معنوی نسبت درست ہو چکی تھی، اس پر راضی نہ ہوتے؛ البتہ ان سے کم درجے والوں کے لیے اس کی اجازت دے دیتے تھے۔
دنیاوی امتعہ قبول کرنے سے حضرتؒ کو اس قدر نفرت تھی کہ جب آپؒ نے سفرِ حجاز کا پختہ ارادہ فرمایا تو عبد الرّحیم، جو خانِ خاناں کے نام سے مشہور تھا اور اس طائفہ کے مخلصین میں سے تھا، خصوصًا ہمارے حضرت خواجہؒ سے کامل عقیدت و ارادت رکھتا تھا، جب اس نے یہ خبر سنی تو ایک لاکھ روپیہ جسے اہلِ ہند کی زبان میں ”لَکھ“ کہتے ہیں زادِ راہ اور سفر کے اخراجات کے لیے درویشوں کے ہاتھ بھیجا اور عرض کیا کہ اس کی قبولیت سے مجھ پر احسان فرمائیں۔ جب حضرت خواجہ نے یہ سنا تو آپ کا چہرہ متغیر ہو گیا اور فرمایا؛ ہم جیسے لوگوں کو حج پر جانا زیب نہیں دیتا کہ مسلمانوں کا اتنا سونا چاندی اپنے اوپر خرچ کریں اور اسے ضائع کریں۔ چنانچہ آپؒ نے اسے قبول نہ فرمایا اور واپس لوٹا دیا۔
اس تمام تسلیم، فنا، رفتگی اور ہمیشگی ضعفِ بدن کے باوجود، حضرت کو دوامِ وضو اور کثرتِ طاعت کا کامل شغف تھا۔ نمازِ عشا ادا کرنے کے بعد جب حجرے میں تشریف لے جاتے تو کچھ دیر مراقبہ میں بیٹھتے۔ جب اعضا پر ضعف غالب آ جاتا تو اٹھ کر وضو کی تجدید فرماتے، دو رکعت نماز ادا کرتے اور پھر لوٹ آتے۔پھر جب اعضاء میں دوبارہ ضعف اور درد محسوس ہوتا تو اسی طرح کرتے۔ اکثر رات اسی حال میں گزر جاتی۔
لقمہ کے بارے میں آپؒ اس قدر احتیاط فرماتے تھے کہ جب کوئی ہدیہ آتا، اگرچہ حدیثِ صحیح کے حکم کے مطابق «ہم ہدیہ ردّ نہیں کرتے» اسے رد نہ کرتے لیکن اسے خاص اپنے مصرف میں بھی نہ لاتے۔ بلکہ کسی پاکیزہ ذریعے سے قرضِ حسنہ لیتے اور اس کے بدلے وہ ہدیہ دے دیتے، تاکہ فقہاء کے حکم کے مطابق اس کی حِلَّت ایک اور درجہ پیدا کر لے۔ مزید برآں پوری تاکید فرماتے کہ کھانا پکانے والا باوضو ہو، بلکہ اربابِ حضور و صفا میں سے ہو، اور پکانے کے وقت کسی دنیاوی بات میں مشغول نہ ہو۔ فرماتے تھے کہ جو لقمہ بے حضوری اور بے احتیاطی کے ساتھ کھایا جائے، اس سے ایسا دھواں اٹھتا ہے جو مجاریِ فیض کو بند کر دیتا ہے، اور ارواحِ طیبہ، جو فیض کا وسیلہ ہیں، قلب کے مقابل نہیں آتیں۔ آپؒ تمام مریدوں کو اس احتیاط کی ترغیب دیتے تھے، اور جن لوگوں کے لیے فی الجملہ اس میں کچھ مسامحت جائز رکھتے تھے، ان کے احوال میں اس کی مضرت کو خود مشاہدہ فرمایا کرتے تھے۔
ایک دن ایک درویش، جو صاحبِ حال و کشف تھا، حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں اپنے کام (سلوک) میں بندش محسوس کرتا ہوں اور باطن میں کدورت پاتا ہوں، مگر نہیں جانتا کہ مجھ سے کون سی تقصیر سرزد ہوئی ہے۔ حضرت نے توجہ فرمائی اور ارشاد کیا؛ لقمے میں بے احتیاطی ہوئی ہے۔ اس نے عرض کیا؛ لقمہ تو وہی روز مرہ والا لقمہ ہے۔ حضرت نے فرمایا؛ جا کر اچھی طرح تحقیق کرو، اس کے سوا کچھ معلوم نہیں ہوتا، ضرور اس کے کسی جزو میں کوئی فتور واقع ہوا ہے۔ جب اس نے اچھی طرح تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ جلانے کے لیے دو تین لکڑیاں ایسی شامل کر دی گئی تھیں جو ان احتیاط والی لکڑیوں میں سے نہ تھیں۔
اسی طرح تمام امور میں حضرتؒ کا عمل عزیمت اور اولیٰ ہی پر ہوتا تھا۔ چونکہ کتبِ احادیث میں امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنے کے بارے میں بہت سی صحیح روایات وارد ہوئی ہیں، اس لیے چند روز تک آپؒ بھی امام کے پیچھے فاتحہ پڑھتے رہے۔ اسی اثنا میں آپ نے امامُ الائمہ، سراجُ الامّہ، امام ابوحنیفہ رضی اللّٰه عنہ کو ایک معاملے (خواب) میں دیکھا کہ وہ اپنی مدح میں ایک قصیدۂ غرّا پڑھ رہے ہیں، جس سے یہ مضمون مستفاد ہوتا تھا کہ میرے مذہب میں کتنے ہی بڑے بڑے اولیاء گزرے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد حضرتؒ نے امام کے پیچھے قرأت کرنا ترک کر دیا۔
در راہ خدا جملہ ادب باید بود܀
تاجان باقیست در طلب باید بود܀
دریا دریا اگر بکامت ریزند܀
گم باید کرد و خشک لب باید بود܀
اور یہ احتیاطیں جو لقمے کے بارے میں بیان ہوئیں، آپؒ کی لطیف و شریف نسبت کی نزاکت اور صفا ہی کا اثر تھیں؛ چنانچہ جس طرح آئینہ اپنی انتہائی صفائی کے باعث سانس کی بھاپ بھی برداشت نہیں کرتا، اسی طرح آپؒ کا حال تھا۔ اسی وجہ سے جماعت کی صف میں اپنے پہلو میں اپنے خاص اور مخلص اصحاب کو کھڑا فرماتے، کیونکہ اگر کوئی بیگانہ ہوتا تو اس کی غفلت، کمی یا خطرات فورًا آپؒ کے آئینۂ دل میں منعکس ہو جاتے۔ایک روز ایک درویش، جو لحاف کا محتاج تھا اور دل میں اس کی درخواست کا خیال لا رہا تھا، آپؒ کے ساتھ نماز میں شریک ہوا۔ اس کا وہ خطرہ آپؒ پر ظاہر ہو گیا۔ نماز کے بعد فرمایا کہ فلاں کو اور جسے بھی لحاف کی حاجت ہو، دے دیا جائے۔ وہ درویش کہا کرتا تھا کہ اس دن کے بعد میں ہمیشہ اس بات سے ڈرتا رہتا تھا کہ کہیں کوئی ایسا خیال مجھ پر نہ گزرے جو حضرتؒ کی ملامت کا سبب بنے اور آپؒ کی تفرید کا یہ درجہ تھا کہ ابتدا سے انتہا تک کسی بلند حال یا عظیم مکاشفہ میں بھی آپؒ کی ہمت کا سر فرو نہ آتا۔ عین بحرِ یافت میں رہ کر بھی نایافت کا دم بھرتے اور خشک لب رہتے۔ یہ رباعیِ شریف بھی آپؒ کے اسی حال پر دلالت کرتی ہے؛
،راہِ خدا میں سراپا ادب ہونا چاہیے
جب تک جان باقی ہے طلب میں رہنا چاہیے۔
،اگر تیری مراد کے مطابق دریا پر دریا انڈیل دیے جائیں
تب بھی خود کو گم رکھنا اور خشک لب رہنا چاہیے۔

نظرات
ارسال یک نظر