رد شدن به محتوای اصلی

زُبْدَۃُ المَقَامَات؛ مقصد اَوَّل، فصل دوم (د)

بسیار بودی کہ بعضی از امرای مُخلصِ ایشان بخدمت آنحضرت سیم و زر میفرستادند کہ بہ صواب دیدِ ایشان بفقرا منقسِم گردد آنحضرت باوجود تفرید و آزادگی شَفَقَۃً عَلےٰ خَلْقِ اللّٰہِ خود متوجہ شدہ بمستحقان قسمت میکردند و در ضمن آن مبلغی از سرکار خود نیز میدادند مَؔعَ ذٰلِكَ بعض محتاجان دور از کار زبانِ طعن میکشودند اصحابِ ایشان میخواستند بمنع آنہا بکوشند آنحضرت بآئینی راہ انکِسار می پیمودند کہ یاران را غَضَب از سر میرفت و بجای آن نرمی و شکستگے می نشـست ونیاران را قولًا و فعلًا بر نیستی و کم دیدنِ خویش و بردباری دلالت مینمودند و آنرا دلیل راہ عرفان میفرمودند و اگر از اصحاب ایشان خلاف این امر ظاہر میشد بعتاب بسیار نصیحت می نمودند چنانکہ از مکتوبی کہ بشیخ تاج درین باب تحریر فرمودہ اند واضح خواہد شد ان شاء اللّٰہ سبحانہ و زہد و استِغناء ایشان از امتعۂ دنیویہ تابحدی بود کہ سخن امور دنیوی ہرگز مذکور مجلس شریف نمیشد مگر بتقریب سفارش حاجتمندی و ہرگز تدبیری درین امور برای خود دو رویش نمیکردند و درحق مُریدان رشید جز بفقر و مسکنت و فاقہ و قناعت نمی خواستند و میفرمودند بہرکہ امدادِ مالی ازما بظہورآید یقین داند کہ مارا بوی در محبّت دینی نقصانی ہست بعضی توانگران کہ از اہلِ اِرادت بودند التماس آن می نمودند کہ کفافی برای فقرای آستانِ ایشان مُعیّن نمایند ایشان درحق جمعی کہ نسبت معنوی بآنحضرت درست کردہ بودند رضا نمیدادند و بمادون ایشایان را مجوز میداشتند 

اکثر ایسا ہوتا تھا کہ آپؒ کے بعض مخلص امراء حضرتؒ کی خدمت میں سونا چاندی بھیجتے تھے تاکہ آپؒ کی صواب دید کے مطابق فقراء میں تقسیم کر دیا جائے۔ حضرت، اپنی تفرید اور آزادگی کے باوجود، شفقۃً علیٰ خلقِ اللّٰہ خود متوجہ ہو کر مستحقین میں اسے تقسیم فرماتے، اور اس کے ساتھ اپنی طرف سے بھی کُچھ رقم شامل کر دیتے۔ اس کے باوجود بعض دور افتادہ محتاج زبانِ طعن دراز کرتے۔ آپؒ کے اصحاب چاہتے کہ انہیں روکا جائے، مگر حضرتؒ ایسی انکساری کی راہ اختیار فرماتے کہ یاروں کا غصہ جاتا رہتا اور اس کی جگہ نرمی اور شکستگی آ بیٹھتی۔ آپؒ قولًا و فعلًا اپنے ساتھیوں کو اپنے آپؒ کو کم سمجھنے، نیستی اختیار کرنے اور بردباری کی تعلیم دیتے، اور اسے راہِ عرفان کی دلیل قرار دیتے۔ اگر اصحاب میں سے کسی سے اس کے خلاف کوئی بات ظاہر ہوتی تو سخت عتاب کے ساتھ نصیحت فرماتے، جیسا کہ شیخ تاج کے نام آپؒ کے ایک مکتوب سے اس باب میں واضح ہوگا، ان شاء اللّٰہ سبحانہ۔

اور آپؒ کا زہد اور دنیاوی متاع سے استغناء اس حد تک تھا کہ مجلسِ شریف میں کبھی دنیاوی امور کا ذکر نہ ہوتا، سوائے اس کے کہ کسی حاجتمند کی سفارش مقصود ہو۔ اپنے لیے کبھی ان امور میں کوئی تدبیر نہ فرماتے۔

اور اپنے رشید مریدوں کے حق میں فقر، مسکنت، فاقہ اور قناعت ہی پسند فرماتے۔ فرمایا کرتے تھے؛ جس شخص کے لیے ہماری طرف سے مالی امداد ظاہر ہو، وہ یقین کر لے کہ ہماری دینی محبت میں اس کے لیے کچھ نہ کچھ کمی ہے۔

بعض اہلِ ارادت مالدار لوگ درخواست کرتے کہ آپؒ کی خانقاہ کے فقراء کے لیے کوئی معین وظیفہ مقرر کر دیا جائے۔ حضرت ان لوگوں کے حق میں، جن کی آپؒ سے معنوی نسبت درست ہو چکی تھی، اس پر راضی نہ ہوتے؛ البتہ ان سے کم درجے والوں کے لیے اس کی اجازت دے دیتے تھے۔

و از غایت تنفر کہ ایشان از قبول امتعۂ دنیویہ بود وقتیکہ عزم جزم سفرِ حجاز کردہ بودند عبدالرّحیم المشتہر بخانخانان نام کہ از مخلصان این طائفہ بود و خصوصًا بحضرت خواجۂ ما عقیدت وارادتِ تمام داشــتہ چون آن خبربشنود صد ہزار روپیہ کہ بزبانِ ہند لک نامند بخرچِ زاد و راحِلہ ایشان درویشان مرسل داشــتہ عرض نمود کہ بقبول آن برمن منت نہند چون حضرت خواجہ آن بشنود روی درہم کشـید فرمودند بحج رفتن چون مائی کرای آن نمیکند کہ اینہمہ سیم و زر مسلمان را صَرفِ خود کنیم و ضائع سازیم نپذیرفتند و باز گردانیدند 

دنیاوی امتعہ قبول کرنے سے حضرتؒ کو اس قدر نفرت تھی کہ جب آپؒ نے سفرِ حجاز کا پختہ ارادہ فرمایا تو عبد الرّحیم، جو خانِ خاناں کے نام سے مشہور تھا اور اس طائفہ کے مخلصین میں سے تھا، خصوصًا ہمارے حضرت خواجہؒ سے کامل عقیدت و ارادت رکھتا تھا، جب اس نے یہ خبر سنی تو ایک لاکھ روپیہ جسے اہلِ ہند کی زبان میں ”لَکھ“ کہتے ہیں زادِ راہ اور سفر کے اخراجات کے لیے درویشوں کے ہاتھ بھیجا اور عرض کیا کہ اس کی قبولیت سے مجھ پر احسان فرمائیں۔ جب حضرت خواجہ نے یہ سنا تو آپ کا چہرہ متغیر ہو گیا اور فرمایا؛ ہم جیسے لوگوں کو حج پر جانا زیب نہیں دیتا کہ مسلمانوں کا اتنا سونا چاندی اپنے اوپر خرچ کریں اور اسے ضائع کریں۔ چنانچہ آپؒ نے اسے قبول نہ فرمایا اور واپس لوٹا دیا۔

و بی تقیدی ایشان در ملبوس و ماکول و مسکن تا بحدی بود کہ اگر چندین روز یک طعام غیر مرغوب و مطبوع نزدِ ایشان می آوردند ہرگز نمے گفتند کہ غیرِ این بیارند وکذٰلك اگر چندین روز جامہ دربدن شریف ماندہ شوخگین میشد نمیفرمودند کہ دیگر حاضر سازند و نیز چندین در خانہ تنگ و تیرە می بودند تا آن مسکن شکستہ شدی یا از خاک و خاشاک پر گشتی ازانجا کہ غرق لجۂ تسلیم و رضا بودند اظہار تعمیر و تنویر آن ہرگز نمیگردند
لباس، کھانے اور رہائش کے معاملے میں حضرت کی بے تقیدی اس حد تک تھی کہ اگر کئی دن تک کوئی ایسا کھانا پیش کیا جاتا جو نہ مرغوب ہوتا نہ طبیعت کے موافق، تو کبھی یہ نہ فرماتے کہ اس کے سوا کچھ اور لاؤ۔ اسی طرح اگر کئی دن تک ایک ہی لباس تنِ مبارک پر رہتا اور میلا ہو جاتا، تو بھی یہ نہ کہتے کہ دوسرا لباس حاضر کیا جائے۔ نیز بسا اوقات ایک تنگ اور تاریک مکان میں رہتے رہتے وہ جگہ شکستہ ہو جاتی یا گرد و غبار اور کوڑا کرکٹ سے بھر جاتی، مگر چونکہ وہ تسلیم و رضا کے سمندر میں غرق تھے، اس لیے اس کی مرمت یا روشنی کا اظہار و اہتمام ہرگز نہ فرماتے۔
باوجود این ہمہ تسلیم و فنا و رفتگیہا و ضعف بدن کہ ہمیشہ ایشان را بود در دوام وضو و تکــثیر طاعت شغف تمام داشـتند بعد از ادائے نمازِ عشا کہ بحجرە تشریف می بردند قدرے مراقب می نشـستند چون ضعف بر اعضا غَلَبہ میکرد برخاستہ تجدید وضو نمودە دوگانہ گذاردە باز میگشـتند باز چون اعضا بضعف و درد می آمد چنان میکردند اکثر شب چنین میگذشت 

اس تمام تسلیم، فنا، رفتگی اور ہمیشگی ضعفِ بدن کے باوجود، حضرت کو دوامِ وضو اور کثرتِ طاعت کا کامل شغف تھا۔ نمازِ عشا ادا کرنے کے بعد جب حجرے میں تشریف لے جاتے تو کچھ دیر مراقبہ میں بیٹھتے۔ جب اعضا پر ضعف غالب آ جاتا تو اٹھ کر وضو کی تجدید فرماتے، دو رکعت نماز ادا کرتے اور پھر لوٹ آتے۔پھر جب اعضاء میں دوبارہ ضعف اور درد محسوس ہوتا تو اسی طرح کرتے۔ اکثر رات اسی حال میں گزر جاتی۔

و احتیاط در لقمہ تا بحدی میفرمودند کہ ہدیہ کہ میرســید اگرچہ آنرا بحکم حدیث صحیح نَحْنُ لَا نَرُدُّ الْہَدْیَةَ رد نمیکردند امّا بخصوصہ خرچ ہم نمیکردند بل از محل اطیب قرض حسنہ میگرفتند و در بدلِ آن آنرا میدادند کہ بحکمِ فقہا آن درجہ دیگر در حِلَّت پیدا میکند و تاکیدِ تمام میفرمودند کہ پزندە طعام بوضو بود بل از ارباب حضور و صفا باشد و ہنگام طبخ بحرف دنیاوی نہ پردازد و میفرمودند از لقمہ کہ بی حضوری و احتیاط خوردہ شود دودی میخیزد کہ مجاری فیض را می بندد و ارواحِ طیبہ کہ وسیلہ فیض اند مقابل قلب نشوند و ہمہ مُریدان را برین احتیاط ترغیب میفرمودند وجمعی کہ فی الجملہ مسامحت دران جائز میداشتند ضرر آن را در احوالِ آنان معائنہ می فرمودند 

لقمہ کے بارے میں آپؒ اس قدر احتیاط فرماتے تھے کہ جب کوئی ہدیہ آتا، اگرچہ حدیثِ صحیح کے حکم کے مطابق «ہم ہدیہ ردّ نہیں کرتے» اسے رد نہ کرتے لیکن اسے خاص اپنے مصرف میں بھی نہ لاتے۔ بلکہ کسی پاکیزہ ذریعے سے قرضِ حسنہ لیتے اور اس کے بدلے وہ ہدیہ دے دیتے، تاکہ فقہاء کے حکم کے مطابق اس کی حِلَّت ایک اور درجہ پیدا کر لے۔ مزید برآں پوری تاکید فرماتے کہ کھانا پکانے والا باوضو ہو، بلکہ اربابِ حضور و صفا میں سے ہو، اور پکانے کے وقت کسی دنیاوی بات میں مشغول نہ ہو۔ فرماتے تھے کہ جو لقمہ بے حضوری اور بے احتیاطی کے ساتھ کھایا جائے، اس سے ایسا دھواں اٹھتا ہے جو مجاریِ فیض کو بند کر دیتا ہے، اور ارواحِ طیبہ، جو فیض کا وسیلہ ہیں، قلب کے مقابل نہیں آتیں۔ آپؒ تمام مریدوں کو اس احتیاط کی ترغیب دیتے تھے، اور جن لوگوں کے لیے فی الجملہ اس میں کچھ مسامحت جائز رکھتے تھے، ان کے احوال میں اس کی مضرت کو خود مشاہدہ فرمایا کرتے تھے۔

روزی یکی از درویشان صاحب حال و کشف آمدہ معروض داشت کہ درکارِ خود بستگی می بینم و در باطن کدورت می یابم ندانم چہ تقصیر از من سرزدە آنحضرت مُتوجّہ فرمودند در لقمہ بی احتیاطی رفتہ است او معروض داشت کہ لقمہ ہمان لقمہ ہر روزہ است ایشان فرمودند رفتہ نیک تفحص نمائی کہ غیر ازین معلوم نمیشود البتہ در جزوی از اجزاء آن فتوری رفتہ چون نیک تفتیش نمود معلوم شد کہ دوسہ چوبی برای سوختن کہ نہ ازان چوبہای احتیاطے بودہ داخل کردہ بودند 

ایک دن ایک درویش، جو صاحبِ حال و کشف تھا، حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں اپنے کام (سلوک) میں بندش محسوس کرتا ہوں اور باطن میں کدورت پاتا ہوں، مگر نہیں جانتا کہ مجھ سے کون سی تقصیر سرزد ہوئی ہے۔ حضرت نے توجہ فرمائی اور ارشاد کیا؛ لقمے میں بے احتیاطی ہوئی ہے۔ اس نے عرض کیا؛ لقمہ تو وہی روز مرہ والا لقمہ ہے۔ حضرت نے فرمایا؛ جا کر اچھی طرح تحقیق کرو، اس کے سوا کچھ معلوم نہیں ہوتا، ضرور اس کے کسی جزو میں کوئی فتور واقع ہوا ہے۔ جب اس نے اچھی طرح تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ جلانے کے لیے دو تین لکڑیاں ایسی شامل کر دی گئی تھیں جو ان احتیاط والی لکڑیوں میں سے نہ تھیں۔

و کذٰلك در ہمہ امور عمل ایشان بر عزیمت و اولی بودە ازانجا کہ در کتب احادیث در قرأتِ فاتحہ خلف امام مرویات کثیرہ صحیحہ آمدہ چند روز بران ہم آمدہ بودند فاتحہ خلف اِمام قرأت نمایند درین اثنا امام الائمہ سراج الاُمّہ امام ابوحنیفہ را رَضِیَ اللّٰهُ عَنْەُ در معاملہ دیدہ اند کہ قصیدہ غــرّا در مدح خود میخواندہ اند کہ ازان این مضمون مستفاد میگردیدە کہ چندین اولیاءِ کِبار در مذہبِ من بودہ اند بعد ازین واقعہ ترک قرأت خلف امام نمودہ اند

اسی طرح تمام امور میں حضرتؒ کا عمل عزیمت اور اولیٰ ہی پر ہوتا تھا۔ چونکہ کتبِ احادیث میں امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنے کے بارے میں بہت سی صحیح روایات وارد ہوئی ہیں، اس لیے چند روز تک آپؒ بھی امام کے پیچھے فاتحہ پڑھتے رہے۔ اسی اثنا میں آپ نے امامُ الائمہ، سراجُ الامّہ، امام ابوحنیفہ رضی اللّٰه عنہ کو ایک معاملے (خواب) میں دیکھا کہ وہ اپنی مدح میں ایک قصیدۂ غرّا پڑھ رہے ہیں، جس سے یہ مضمون مستفاد ہوتا تھا کہ میرے مذہب میں کتنے ہی بڑے بڑے اولیاء گزرے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد حضرتؒ نے امام کے پیچھے قرأت کرنا ترک کر دیا۔

و این احتیاطہا کہ در لقمہ گفتہ شد از نزاکت و صفای نسبت لطیف شریف ایشان نیز بود چنانکہ آئینہ از غایتِ صفا تابِ نفس ہم ندارد ازاینجا بودہ کہ در صف جماعہ در جانبِ خود از خلص اصحابِ خویش را ایستادہ میگرداندہ کہ اگر بیگانہ مے بودە فی الحال غفلت و نقصانِ او یا خطراتِ او درآئینۂ ایشان منعکس مے شدە روزی یکی از درویشان کہ محتاج الحاف بودە و در خاطرش التماس طلب آن عبور مینمودە باایشان نماز کردہ آن خطرہ او بر ایشان ظاہر شدہ بعد از أدای نماز فرمودہ کہ بفُلان و ہرکہ احتیاج لحاف دارد بدہند آن درویش میگفتہ کہ ہمیشہ ازان روز ترسان می بود کہ مبادا خطرۂِ کہ موجب ملامت ایشان باشد برمن بگذرد و تفرید ایشان را آن پایہ بود کہ از بدایت تا نہایت بہیچ یک ازاحوال بلند و مکاشف ارجمند سرہمّت ایشان فرو نمی آمد درعین بحرِ یافت دم از نایافت زدە خشک لب بودند این رباعیہ شریفہ نیز دلالت برین حال ایشان می نماید رباعی 

در راہ خدا جملہ ادب باید بود܀

تاجان باقیست در طلب باید بود܀

دریا دریا اگر بکامت ریزند܀

گم باید کرد و خشک لب باید بود܀

اور یہ احتیاطیں جو لقمے کے بارے میں بیان ہوئیں، آپؒ کی لطیف و شریف نسبت کی نزاکت اور صفا ہی کا اثر تھیں؛ چنانچہ جس طرح آئینہ اپنی انتہائی صفائی کے باعث سانس کی بھاپ بھی برداشت نہیں کرتا، اسی طرح آپؒ کا حال تھا۔ اسی وجہ سے جماعت کی صف میں اپنے پہلو میں اپنے خاص اور مخلص اصحاب کو کھڑا فرماتے، کیونکہ اگر کوئی بیگانہ ہوتا تو اس کی غفلت، کمی یا خطرات فورًا آپؒ کے آئینۂ دل میں منعکس ہو جاتے۔ایک روز ایک درویش، جو لحاف کا محتاج تھا اور دل میں اس کی درخواست کا خیال لا رہا تھا، آپؒ کے ساتھ نماز میں شریک ہوا۔ اس کا وہ خطرہ آپؒ پر ظاہر ہو گیا۔ نماز کے بعد فرمایا کہ فلاں کو اور جسے بھی لحاف کی حاجت ہو، دے دیا جائے۔ وہ درویش کہا کرتا تھا کہ اس دن کے بعد میں ہمیشہ اس بات سے ڈرتا رہتا تھا کہ کہیں کوئی ایسا خیال مجھ پر نہ گزرے جو حضرتؒ کی ملامت کا سبب بنے اور آپؒ کی تفرید کا یہ درجہ تھا کہ ابتدا سے انتہا تک کسی بلند حال یا عظیم مکاشفہ میں بھی آپؒ کی ہمت کا سر فرو نہ آتا۔ عین بحرِ یافت میں رہ کر بھی نایافت کا دم بھرتے اور خشک لب رہتے۔ یہ رباعیِ شریف بھی آپؒ کے اسی حال پر دلالت کرتی ہے؛ 

،راہِ خدا میں سراپا ادب ہونا چاہیے
جب تک جان باقی ہے طلب میں رہنا چاہیے۔
،اگر تیری مراد کے مطابق دریا پر دریا انڈیل دیے جائیں
تب بھی خود کو گم رکھنا اور خشک لب رہنا چاہیے۔

فقط سُہیل طاہر، سیالکوٹ۔

نظرات

پست‌های معروف از این وبلاگ

زُبْدَۃُ الْمَقَامَات؛ مقصد اَوَّل، فصل دوم (الف)

 فصل دوم  مزار مبارک حضرت خواجہ بیرنگؒ دہلی، موجودہ بھارت

زُبْدَۃُ الْمَقَامَات؛ آغاز

بَرَکٰاتِ اَحْمَدِیَّہ نام دگر زُبْدَۃ الْمَقٰامٰاتِ تأريخ تأليف ۱۰۳۷ھ محـــمد ھــاشم کشمی بدخشانی وفات ۱۰٥٤ھ مصحح سُہیل طاہرؔ (نُسخہ؛ درمطبع نامی منشی نول کشور واقع کان پور مزین طبع شد ١٤٠٧ھ) قبر مبارک محمد ہاشم کشمیؒ ۱۰۰۰ھ تا ١٠٤٥ھ

زُبْدَۃُ الْمَقَامَات؛ مقصد اَوَّل، فصل دوم (ب)

اثباتِ صرف یعنی اللّٰہ گویند روزی عسکری بملازمتِ ایشان آمد ایشان بہ تقریب طہارت از مسجد برون رفتند خادِمِ این سپاہی برون در عنانِ اسپ گرفتہ ایســتادہ بود حین تخلی و استبرا بکرّات نظرِ کیمیا اثر ایشان بر آن خادِم افتادہ بودہ چون بمسجد در آمدہ اند خبر رســیدہ کہ خادِمِ آن عسکری را جذبہ و بیخودی بر خاک افــگندہ است و میان اسپان چون گوی ہر سوی غلطان ست و از قبیل شام تا پاسی از شب ہمچنان در اضطراب بودہ بآن گاہ بشوریدہ و روی ببازار نہادہ  و ہمچنان در صحرا برون رفتہ دیگر ہیچکس ازو خبری نیافت