رد شدن به محتوای اصلی

زُبْدَۃُ المَقَامَات؛ مقصد اَوَّل، فصل دوم (ہ)


روزی عزیزی یکی از مخلصان ایشان کتاب نوشــتہ بود ایشان بر ظہرِ آن کتابت رقم نمودند کہ دریغ این عاجز گرفتار را قوتِ کار نماند و اگر نہ بتوفیق اللّٰہ تعالیٰ درین دو روزۀ عمر دیوانہ وار ماتم باز ماندگی خود میداشت و در جست و جوی کیمیای مقصود تگ و دوی می نمود و زندگانی فدای این راہ میکرد حق تعالیٰ درین افتادگی نیز دردی و آشوبی کرامت فرماید کہ کارِ دوجہانی خود را در قبضۂ اختیار و اقتدارِ او نہادہ از مجموع گرفتاریہا فراغی بیابم آمین یاربّ العالمین اُمیّد ازان برادر آنست کہ روی بر خاک بنہد و از براۓ حُصُولِ این آرزوی فقیر از خدای عزوجل بخواہد کہ دُعَاء الْغَائِبِ لِلْغَائِبِ اَسْرَعْ اجَابَۃً آمدہ  

ایک دن ان (حضرت خواجہ) کے ایک مخلص عزیز نے کوئی تحریر لکھی، تو آپ نے اس کے پیچھے یہ رقم فرمایا؛ افسوس! اس گرفتارِ عاجز (یعنی مجھ) میں اب کام (عمل) کی طاقت نہ رہی، ورنہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے زندگی کے اس دو روزہ دور میں، میں دیوانہ وار اپنی محرومی اور پیچھے رہ جانے کا ماتم کرتا، اور مقصودِ حقیقی کی کیمیا کی تلاش میں دوڑ دھوپ کرتا اور اپنی زندگی اس راہ پر فدا کر دیتا۔ (دعا ہے کہ) حق تعالیٰ اس بے چارگی کی حالت میں بھی ایسا درد اور تڑپ عطا فرمائے کہ میں اپنے دونوں جہانوں کے معاملات اس (خدا) کے قبضۂ اختیار و اقتدار میں سونپ کر تمام گرفتاریوں سے فراغت پا لوں۔ آمین یا رب العالمین! اس بھائی سے امید یہ ہے کہ وہ (بارگاہِ الٰہی میں) اپنا چہرہ خاک پر رکھے اور اس فقیر کی اس آرزو کے حصول کے لیے خدائے عزوجل سے دعا کرے، کیونکہ (حدیث میں) آیا ہے کہ غیر حاضر کی غیر حاضر کے لیے دعا سب سے جلد قبول ہوتی ہے۔

والدُّعاء از خدمت شیخ تاج الدین سلمہ اللّٰہ شنودم کہ گفت روزے حضرت خواجۂ ما را وقتی رویداد کہ ہمچنین بندہای قبا کشادہ باسینۂ عریان و دســتارِ پریشان متوجّہ ساحلِ دریا شدند آثار شکستگے بسـیار و قلق فراوان و اندوۀِ عظیم از ایشان ظاہر بود من در قفاۓ ایشان میرفتم بعد از مدتی ایشان از آمدن من اِطّلاع یافتہ بآە و دردِ تمام فرمودند کہ ای فلان آنقدر واردات و احوال و فیوضات و انوار و اسرار میریزند کہ اگر این دریا سیاہی شود از نوشـتن آن کوتاہی کند اما مرا ازینہا چہ کہ مطلوبِ من از دید و دانش دورست لہ قدّس سرّە 
طلب بیچون ومطلب ہیچگونہ܀
نہ آنرا شـبہ و نی این را نمونہ܀

اور (یہ) دعا میں نے شیخ تاج الدین سلمہ اللہ کی زبانی سنی، انہوں نے کہا کہ ایک دن ہمارے حضرت خواجہ (باقی باللہؒ) پر ایک ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ آپؒ قبا (لبادے) کے بند کھولے ہوئے، سینہ عریاں (کھلا) کیے ہوئے اور پریشان دستار کے ساتھ (بے خودی میں) دریا کے کنارے کی طرف چل پڑے۔ آپؒ سے شکستگی (عاجزی و درماندگی) کے آثار، شدید بے چینی اور عظیم غم ظاہر ہو رہا تھا۔ میں آپؒ کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ کچھ دیر بعد آپؒ کو میرے (یعنی تاج الدین) آنے کی اطلاع ہوئی تو انتہائی آہ اور درد کے ساتھ فرمایا؛ اے فُلاں! اس قدر واردات، احوال، فیوضات، انوار اور اسرار (مجھ پر) برس رہے ہیں کہ اگر یہ دریا سیاہی بن جائے تو ان کو لکھنے سے قاصر رہے، مگر مجھے ان سب سے کیا لینا دینا؟ میرا مطلوب (اللہ) تو دیکھنے اور جاننے (عقل و ادراک) سے بہت دور ہے۔

طلب (خدا کی پیاس) 'بے چون' ہے (جس کی کوئی کیفیت بیان نہیں ہو سکتی) اور مطلب (خدا کی ذات) 'ہیچ گونہ' ہے (جس کی کوئی مثال نہیں)۔ نہ اس طلب کی کوئی مشابہت ہے اور نہ ہی اس مطلب کا کوئی نمونہ مل سکتا ہے۔

و ہم شیخ تاج الدین حکایت کردند کہ روزی در صف جماعت نماز در پہلوی ایشان بودم درمیانِ نماز آثارِ استیلای گریہ و اضمحلال ازیشان احساس نمودم بعد از اداۓ نماز ہمچنان حیران و گریان بحجرۂ شریف رفتند من نیز بر اثر ایشان در آمدم و ہمچنان ایشان را گریان و کثیر الاحزان یافتم بعد از ساعتی گستاخی نمودہ پرسیدم کہ سببِ این گریۂ بے اختیار و اندوە و آشفتگے بسـیار چہ باشد گفتند ازین بگذرد و مارا بدین درد بگذار ازانجا کہ بعنایتِ ایشان بس دلیر بودم الحاح نمودم فرمودند در عینِ نماز کہ معراجِ مؤمن ست روحِ من در طَلَبِ مَطْلَب وراء الوراء عروج نمودہ در جست و جوی آن چندانکہ مقدور داشت این مرغ پر و بال زد بدستش ہیچ نیامد ناچار حیران و گریان خود را در قفسِ قالَِب انداخت این گریۂ او ازین حسرت بود 

اور شیخ تاج الدین ہی نے یہ حکایت بیان کی کہ ایک دن میں (مسجد میں) نماز کی صف میں آپؒ کے پہلو میں کھڑا تھا۔ نماز کے دوران میں نے ان پر گریہ اور اضمحلال (ٹوٹ پھوٹ/بے خودی) کے آثار محسوس کیے۔ نماز کی ادائیگی کے بعد وہ اسی طرح حیران اور روتے ہوئے اپنے حجرۂ شریف میں چلے گئے۔ میں بھی ان کے پیچھے پیچھے حجرے میں چلا گیا اور انہیں ویسا ہی گریان اور غم زدہ پایا۔ تھوڑی دیر بعد میں نے گستاخی کرتے ہوئے پوچھا کہ اس بے اختیار رونے، دکھ اور شدید پریشانی کا سبب کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا؛ اس بات کو چھوڑ دو اور ہمیں اسی درد میں رہنے دو۔ چونکہ میں ان کی عنایت کی وجہ سے (ان سے گفتگو میں) کافی نڈر تھا، اس لیے میں نے اصرار کیا۔ تب آپؒ نے فرمایا؛ نماز کے دوران، جو کہ مومن کی معراج ہے، میری روح اپنے مقصد (خدا) کی طلب میں وراء الوراء عروج کرگئی۔ اس (مقصد) کی جستجو میں جہاں تک ممکن تھا، اس (روح کے) پرندے نے پر و بال مارے مگر اس کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ ناچار حیران اور روتی ہوئی اس نے خود کو (واپس) اس جسم کے قفس میں ڈال دیا۔ یہ اس کا رونا اسی حسرت کی وجہ سے تھا۔

و ہم شـیخ تاج الدین فرمودند روزی در حجرۂ خاص ایشان در آمدم ایشان را بغایت مغلوب و مستہلک دیدم در حکایت شدم اما آثار شعور بکام خود در ایشان نیافتم بیشتر گفت و گو و سوال درمیان آوردم تا بعد ساعتی چند بتکلم آمدند و ساعت بساعت آثارِ صحو ظاہر شدن گرفت بعد ازان فرمودند فُلان کس امروز عجب رسیدے و کَلِّمْنِیْ یَا حُمَیْرَایَ ما شدی کہ در حیرت و دہشت و نیستی عجب رفتہ بودیم  

​شیخ تاج الدین ہی نے یہ بھی فرمایا کہ ایک دن میں آپؒ کے حجرۂ خاص میں گیا، تو آپؒ کو غایت درجہ (کیفیت میں) مغلوب اور فنا پایا۔ میں نے بات شروع کی مگر آپؒ میں ہوش و حواس کے آثار نہ پائے۔ میں نے گفتگو اور سوالات بڑھائے یہاں تک کہ کچھ دیر بعد آپؒ کلام کرنے کے قابل ہوئے اور آہستہ آہستہ ہوش کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ اس کے بعد آپؒ نے فرمایا؛ اے فُلاں! آج عجب (مقامِ حیرت) تک رسائی ہوئی تھی، اور 'کَلِّمْنِیْ یَا حُمَیْرَاءُ' (اے حمیرا! مجھ سے کلام کرو) والی کیفیت پیش آئی تھی (تاکہ استغراق سے بشری ہوش کی طرف آ سکیں) کہ ہم حیرت، دہشت اور نیستی (خود کو مٹا دینے) کے عالم میں عجیب جگہ پہنچ گئے تھے۔ 

ہم ازین غَلَبۂ تفرید ایشان بود کہ سری بمشیخت و صحبت داشتن ایشانرا اصلا نبود و ایام توجہ ایشان بتربیت درویشان بدوسہ سالی نکشید چون حضرت ایشان ما قدس سرە از یمن انظار و الطافِ ایشان بکمال و اکمال رسیدند آنحضرت خود را از صحبت و تعلیم ارباب ارادت باز کشیدند و یاران را چہ بتعریف و چہ بتکلیف بایشان حوالہ نمودند چنانکہ تفصیل آن در احوال حضرت ایشان بیاید اِن شاءاللّٰہ سبحانہ

آپؒ پر تفرید (تنہائی اور خدا سے لو لگانا) کا یہ غلبہ اسی وجہ سے تھا کہ آپ کو پیری مریدی (مشیخت) اور صحبتیں رکھنے کا ذرا بھی شوق نہ تھا۔ آپ کی درویشوں کی تربیت کی طرف توجہ کا دورانیہ دو تین سال سے زیادہ نہ کھنچا۔ جیسے ہی ہمارے حضرت (مجدد الف ثانی) آپ کی نظروں اور مہربانیوں کی برکت سے کمال اور اکمال تک پہنچ گئے، آپ نے خود کو مریدوں کی تعلیم اور صحبت سے کھینچ لیا اور دوستوں کو (تربیت کے لیے) ان (حضرت مجدد) کے حوالے کر دیا، جیسا کہ اس کی تفصیل حضرت مجدد کے احوال میں آئے گی، ان شاء اللہ۔"

و خود انزوا گزیدند و بشیوۂ قطبِ آفاق بوعلی دقاق قدس اللّٰہ سرە بدرد و اندوەِ عظیم سر بگریبان نیستی در کشیدند و جز بنمازِ جماعت بمسجد جامع نمیشدند و ہرکہ ایشانرا میدید ناچار از حدیث مَنْ اَرَادَ وَاَنْ یَنْظُرَ اِلیٰ مَیِّتٍ یَمْشِیْ فِیْ وَجْہِ الْاَرْضِ فَلْیَنْظُرْ اِلےٰ اِبْنِ اَبیِ قُحَافَةَ یاد میکرد 

اور آپؒ نے خود گوشہ نشینی (انزوا) اختیار کر لی اور قطبِ آفاق حضرت بوعلی دقاق (قدس اللہ سرہ) کے طریقے پر، شدید درد اور غم کے ساتھ اپنا سر 'نیستی' (فنا) کے گریبان میں ڈال لیا۔ آپ (اپنے حجرے سے) صرف مسجدِ جامع میں نمازِ جماعت کے لیے ہی نکلتے تھے۔ اور جو کوئی بھی آپؒ کو دیکھتا، اسے ناچار اس حدیث کی یاد آ جاتی (جس کا مفہوم یہ ہے) کہ؛ جو شخص یہ چاہے کہ وہ زمین کے چہرے پر چلتے پھرتے کسی ایسے شخص کو دیکھے جو (اپنی انا اور خواہشات سے) مر چکا ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ ابنِ ابی قحافہ (حضرت ابوبکر صدیقؓ) کو دیکھ لے۔

مَؔعَ ذٰلِكَ از ہیبت و دہشت دیدارِ ایشان کہ ہر کجا میبود نَقش دیوار میشد و غافلان را بمجرد دیدنِ ایشان بمصداق خبر اذا رؤا ذکر اللّٰە بظہور میرســید تا بجائیکہ روزی عُبُورِ ایشان بیکی از قراے کہ سکنہ آن مزارعان ہنود بودە بوقوع انجامیدہ بمجردی کہ نظرِ آن جماعہ بر ایشان افتادە باہمدیگر میگفتہ اند کہ این عجب مردیست کہ از دیدنِ او خدا بیادِ ما آید و از عظمت صحبت بل رویت ایشان چہ آشـنا را و چہ بیگانہ را سخن برلب و مُدّعا در دل می پیچـــد و با این ہمہ انکسار ایشان از دہشت ایشان بســیار مردم دانا از جا میرفتند 

اس (انتہائی عاجزی) کے باوجود، آپؒ کے دیدار کی ہیبت اور دہشت کا یہ عالم تھا کہ آپؒ جہاں کہیں بھی ہوتے، (لوگوں کا یہ حال ہوتا کہ) ہر شخص تصویرِ دیوار (ساکت و جامد) بن کر رہ جاتا۔ اور غافل لوگوں کا آپ کو محض دیکھ لینا ہی اس حدیث کی عملی تصویر بن جاتا کہ؛ اللہ والے وہ ہوتے ہیں جنہیں دیکھنے سے خدا یاد آ جائے۔ یہاں تک کہ ایک دن آپؒ کا گزر ایک ایسی بستی سے ہوا جس کے رہنے والے ہندو کسان تھے۔ جیسے ہی ان لوگوں کی نظر آپؒ پر پڑی، وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے؛ یہ کیسا عجیب شخص ہے کہ اسے دیکھ کر ہمیں اپنا خدا یاد آ رہا ہے۔ آپ کی صحبت، بلکہ محض آپ کے دیدار کی عظمت کا یہ اثر تھا کہ کیا واقف (اپنا) اور کیا بیگانہ (غیر)، ہر ایک کی زبان پر بات اور دل میں موجود مقصد (خوف و ہیبت سے) وہیں دب کر رہ جاتا تھا۔ آپؒ کی اس تمام عاجزی (انکسار) کے باوجود، آپؒ کی ہیبت کا یہ عالم تھا کہ بہت سے دانا اور سمجھدار لوگوں کے بھی ہوش اڑ جاتے تھے۔

فقط سہیل طاہر، سیالکوٹ

نظرات

پست‌های معروف از این وبلاگ

زُبْدَۃُ الْمَقَامَات؛ مقصد اَوَّل، فصل دوم (الف)

 فصل دوم  مزار مبارک حضرت خواجہ بیرنگؒ دہلی، موجودہ بھارت

زُبْدَۃُ الْمَقَامَات؛ آغاز

بَرَکٰاتِ اَحْمَدِیَّہ نام دگر زُبْدَۃ الْمَقٰامٰاتِ تأريخ تأليف ۱۰۳۷ھ محـــمد ھــاشم کشمی بدخشانی وفات ۱۰٥٤ھ مصحح سُہیل طاہرؔ (نُسخہ؛ درمطبع نامی منشی نول کشور واقع کان پور مزین طبع شد ١٤٠٧ھ) قبر مبارک محمد ہاشم کشمیؒ ۱۰۰۰ھ تا ١٠٤٥ھ

زُبْدَۃُ الْمَقَامَات؛ مقصد اَوَّل، فصل دوم (ب)

اثباتِ صرف یعنی اللّٰہ گویند روزی عسکری بملازمتِ ایشان آمد ایشان بہ تقریب طہارت از مسجد برون رفتند خادِمِ این سپاہی برون در عنانِ اسپ گرفتہ ایســتادہ بود حین تخلی و استبرا بکرّات نظرِ کیمیا اثر ایشان بر آن خادِم افتادہ بودہ چون بمسجد در آمدہ اند خبر رســیدہ کہ خادِمِ آن عسکری را جذبہ و بیخودی بر خاک افــگندہ است و میان اسپان چون گوی ہر سوی غلطان ست و از قبیل شام تا پاسی از شب ہمچنان در اضطراب بودہ بآن گاہ بشوریدہ و روی ببازار نہادہ  و ہمچنان در صحرا برون رفتہ دیگر ہیچکس ازو خبری نیافت