رد شدن به محتوای اصلی

زُبْدَۃُ الْمَقَامَات؛ مقصد اَوَّل، فصل سوم (ب۱۱ تا ۲۰)

ب۱۱ در بیان کریمہ وَٱلشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَ الْقَمَرِ إِذَا تَلاهَا بتقریب سرّ قَسَم بشمس و قمر و امثالہما برنگاشــتہ اند کہ اکابر تحقیق تعظیم مظاہر و مخلوق را از اَدَب مقام معرفت داشــتہ اند چہ اینہا مجالّے جمال مطلق اند و مظہریت انسان مر مطلق را نہ بآن معنی ست کہ ایشان عین مُطلق اند تَعَالیٰ الـلّٰهُ عَنْ ذٰلِكَ عُلُوًّا كَبِيرًا بل بآن معنی است کہ صفات و افعال مطلق ازپردهٔ اینہا بحکم لَوْنُ الْمَاءِ لَوْنُ إِنَائِهِ وہم برنگ اینہا ظہور کردہ و ارباب مشاہدہ را درین اجتماع و کثرت بصیرت کاملہ جُز بر نورِ ذات نمے افتد نہ باین معنی کہ ذات در ادراکِ ایشان می آید بل ہستئ او را بر نعت ذوق و محبّت و استہلاک و اضمحلال می یابند مثلًا آئینہ فرض کنیم کہ از غایت صفا بے آنکہ صورتی بر او اوفتد ہستی او را نمیتوان یافت اگر یکے عاشق آئینہ باشد در پردۂ صورت چشم بصیرتش شعاع آئینہ را دریابد و از سلطنتِ محبّت و شوق مستغرق ہستئ او شود تواند گفت کہ جُز ذات آئینہ نمے یابم خصوصًا کہ باین سرّ مُطّلع شود کہ صورتِ ظاہرہ بر روے آئینہ درمیان موجود نیست بل نمودیست بی بود موجود ہمان آئینہ است و بس 

ب۱۱ آیتِ کریمہ ’وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا...‘ کے بیان میں، سورج اور چاند وغیرہ کی قسم کھانے کے راز کے ضمن میں آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ ​تحقیق کرنے والے اکابرین نے (کائنات کے) مظاہر اور مخلوقات کی تعظیم کو مقامِ معرفت کا ادب قرار دیا ہے؛ کیونکہ یہ سب اس جمالِ مطلق (اللہ) کے جلوہ دکھانے کے مقامات ہیں۔ انسان کا اس مطلق (ذات) کے لیے مظہر ہونا اس معنی میں نہیں ہے کہ وہ خود 'عینِ مطلق' (خدا) بن گیا ہے — اللہ اس (شرک) سے بہت بلند و برتر ہے — بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس مطلق (اللہ) کی صفات اور افعال ان (مخلوقات) کے پردے میں، اس قاعدے کے مطابق کہ ’پانی کا رنگ وہی نظر آتا ہے جو برتن کا ہو‘، ان کے رنگ میں ظاہر ہوئے ہیں۔

​اہلِ مشاہدہ کی کامل بصیرت کو اس اجتماع اور کثرت (دنیا کی رنگینیوں) میں اللہ کے نورِ ذات کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ کی ذات ان کے ادراک (عقل) میں آ جاتی ہے، بلکہ وہ اس کی ہستی کو ذوق، محبت، فنا اور مٹ جانے (اضمحلال) کی کیفیت میں پاتے ہیں۔ مثلًا ہم ایک ایسا آئینہ فرض کریں جو اپنی صفائی اور چمک کی انتہا پر ہو، اس پر کوئی تصویر پڑے بغیر (اپنی چمک کی وجہ سے) اس کی اپنی ہستی کو پہچاننا ممکن نہ ہو۔ اب اگر کوئی اس آئینے کا عاشق ہو جائے، تو تصویر کے پردے میں اس کی چشمِ بصیرت آئینے کی شعاع (چمک) کو پا لے گی؛ اور محبت و شوق کے غلبے کی وجہ سے وہ آئینے کی ہستی میں غرق ہو جائے گا۔ تب وہ کہہ سکتا ہے کہ میں آئینے کی ذات کے سوا کچھ نہیں پا رہا۔ خصوصًا جب وہ اس راز سے باخبر ہو جائے کہ آئینے کے اوپر نظر آنے والی صورت (تصویر) حقیقت میں وہاں موجود نہیں ہے، بلکہ وہ تو ایک ایسی نمود ہے جس کا اپنا کوئی وجود نہیں؛ موجود تو صرف وہی آئینہ ہے اور بس۔

ب۱۲ در تحقیقِ کریمہ وَٱلنَّـہَارِ اِذَا جَلَّـہٰـا نوشــتہ اند مخفی نماند کہ روزیکہ آفتاب را ظاہر گرداند لیالی ایام بیض ست بخلاف روزہاے دیگر کہ آفتابِ آن روزہا را ظاہر میگرداند این چون از اثر بمؤثرست و آن از مؤثر باثر آن طریقہ علماست و این طریقہ عرفا و تعظیم لیل وقتیکہ بپوشاند نور آفتاب را بجہت آنست کہ محل فراغ عابدان و آرامگاہ ذاکران و خلوتخانہ مُحبّان ست مخفی نماند کہ پوشانیدن شب نورِ آفتاب را عبارت ازانست کہ نورِ آفتاب درین وقت منصبغ برنگ عَدَم شدە چہ سایہ نوریست کہ برنگ ظلمت برآمدہ و ظمت اثر اختفاے بعضے اشـیا ظاہرہ فے الیوم این مقام سخت نیکوست در ظہور عالَم کہ واجب تَعَالیٰ وَ تَقَدَّسَ ہمچنان در مقر بُطُونست لیکن احکام و آثارِ او کہ اسماء و صفاتِ اویند ظہور نمودہ اند و ہمچُنین مُمکن در تنگناے عَدَم متمکن نشـستہ لیکن حکم و اثرِ او برآمدہ باحکام و آثار واجب امتزاج گرفتہ و حجابِ مقصود شدہ ازین بیان بدریاب کہ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا را بلیالی ایّامِ بیض از وجہ دیگر نیز میتوان حمل کرد چہ دران اوقات آئینۂ ماہ مقابل آفتابست و آفتاب درو بتمام ظاہر لیکن چون ظہوری ست منصبغ برنگ آئینہ از نظر عامّہ مخفے شدە 

ب۱۲ آیتِ کریمہ ’وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا‘ کی تحقیق میں آپؒ نے تحریر فرمایا ہے کہ ​واضح رہے کہ وہ دن جو سورج کو ظاہر کرتا ہے، وہ 'ایامِ بیض' (چودھویں کے قریب کی روشن راتوں) کے دن ہیں، بخلاف دوسرے دنوں کے کہ ان میں سورج ان دنوں کو ظاہر کرتا ہے۔ (ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ) ایک طریقہ 'اثر سے مؤثر' کی طرف جانا ہے اور دوسرا 'مؤثر سے اثر' کی طرف۔ پہلا طریقہ علماء کا ہے (جو کائنات کو دیکھ کر خدا تک پہنچتے ہیں) اور دوسرا طریقہ عرفاء کا ہے (جو خدا کو دیکھ کر کائنات کو پہچانتے ہیں) ​اور رات کی تعظیم، اس وقت جب وہ سورج کے نور کو ڈھانپ لیتی ہے، اس وجہ سے ہے کہ وہ عبادت گزاروں کے لیے فراغت کا محل، ذاکرین کی آرام گاہ اور محبت کرنے والوں کا خلوت خانہ ہے۔ یہ بات پوشیدہ نہ رہے کہ رات کا سورج کے نور کو چھپا لینا اس بات کی علامت ہے کہ اس وقت سورج کا نور 'عدم' (نیستی) کے رنگ میں رنگ گیا ہے؛ کیونکہ یہ دراصل وہی نور ہے جو تاریکی کے رنگ میں ظاہر ہوا ہے، اور یہ تاریکی ان اشیاء کے چھپ جانے کا اثر ہے جو دن میں ظاہر ہوتی ہیں۔ ​کائنات کے ظہور میں یہ ایک بہت ہی عمدہ مقام (نکتہ) ہے کہ 'واجب تعالیٰ' اپنی شانِ باطن (بطون) میں اسی طرح پوشیدہ ہے، لیکن اس کے احکام اور اثرات، جو کہ اس کے اسماء و صفات ہیں؛ ظاہر ہو چکے ہیں۔ اور اسی طرح 'ممکن' (مخلوق) عدم کے تنگ خانے میں بیٹھا ہوا ہے (یعنی اس کا اپنا کوئی وجود نہیں)، لیکن اس کا حکم اور اثر باہر نکل آیا ہے اور 'واجب' (اللہ) کے احکام و آثار کے ساتھ مل جل گیا ہے، اور یہی چیز مقصود (خدا) کا حجاب بن گئی ہے۔ اس بیان سے یہ سمجھ لو کہ ’وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا‘ (قسم ہے رات کی جب وہ اسے ڈھانپ لے) کو ایک اور پہلو سے ایامِ بیض کی راتوں پر بھی محمول کیا جا سکتا ہے؛ کیونکہ ان اوقات میں چاند کا آئینہ سورج کے سامنے ہوتا ہے اور سورج اس میں پوری طرح ظاہر ہوتا ہے، لیکن چونکہ یہ ایک ایسا ظہور ہے جو آئینے (چاند) کے رنگ میں رنگا ہوا ہے، اس لیے یہ عام لوگوں کی نظروں سے چھپ گیا ہے (یعنی وہ اسے چاند کی چاندنی سمجھتے ہیں، سورج کا نور نہیں جانتے)۔

باب۱۳ در تفسیر کریمہ وَ قَدْ خَابَ مَن دَسَّہٰا تحریرنمودہ اند گم کردن نفس عبارت از گم کردن روحیست کہ بعد از تسویہ و تعدیل ارکان او درو نفح کردہ شد و از اثرِ آن نفخ کانّہ ھی شــدە و لہٰذا بسیاری از علما جُز نفس و ہیکل محسوس أمر دیگر ثبات نمیکنند و حالا عامۂ آدمیان درین منزل اند و گم کردن روح گم کردن خواص روحانیہ است و در مرتبۂ اَنعام زندگانی کردن أُولٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ یعنی خَیْبَہ و نا امیدی مخصوص کفار باشد ​لَا يَيْأَسُ مِنْ رَوْحِ ٱلـلّٰهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ چہ ہر کہ ایمان آورد بخدا و رسولؐ در آن وقت از قید نفس بتمام جست و بصفت خاصۂ روحانیہ مشرف شد بل بخُلقی ازاخلاق الۤہیہ متحقق گشت ولہٰـذا در کتاب حنفیہ مذکورست کہ اَلْإِيمَانُ غَيْرُ مَخْلُوقٍ ؎

اےگروہ مؤمنان شادی کنید

ہمچو سرو سوسن آزادی کنید

بسیاری از محققین مشائخ بر بینند کہ ہر کہ ایمان آورد بخدا و رسولؐ ایمان تحقیقے بعد ازان ہرگز رد ایمانِ او نمے شود ہر کہ بعد از ایمان مردود شدہ مجرد تقلید داشـتہ و آنکہ شافعیہ أَنَا مُؤْمِنٌ إِنْ شَاءَ ٱلـلّٰهُ میگویند بعضے بر ہمین معنے حمل کردہ اند یعنے أَنَا مُؤْمِنٌ تحقیقے إِنْ شَاءَ ٱلـلّٰهُ تَعَالیٰ

ب۱۳ "آیتِ کریمہ ’وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا‘ کی تفسیر میں آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ ​نفس کو 'گم کرنا' (یا آلودہ کرنا) دراصل اس 'روح' کو کھو دینا ہے جو انسانی ڈھانچے کی درستی اور اعتدال کے بعد اس میں پھونکی گئی تھی۔ اس (روحانی) پھونک کے اثر سے انسان (عظمت کے اس مقام پر پہنچا کہ) گویا وہ کچھ اور ہی ہو گیا۔ اسی وجہ سے بہت سے (ظاہری) علماء اس محسوس جسم اور ڈھانچے کے سوا کسی اور حقیقت کے قائل نہیں ہوتے، اور فی الوقت عام انسان اسی (مادی) درجے پر زندگی گزار رہے ہیں۔ ​روح کو کھو دینے کا مطلب روحانی خصوصیات کو ضائع کر دینا اور چوپایوں (جانوروں) کی طرح زندگی بسر کرنا ہے، جیسا کہ فرمایا؛ ’یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ‘۔ پس محرومی اور ناامیدی کا یہ مقام کافروں کے ساتھ مخصوص ہے (کیونکہ وہ روح کی حقیقت سے منکر ہیں)؛ ’بے شک اللّٰہ کی رحمت (روح) سے صرف کافر ہی ناامید ہوتے ہیں‘ ​کیونکہ جو شخص اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لاتا ہے، وہ اسی لمحے نفس کی قید سے مکمل طور پر نکل کر روح کی خاص صفت سے سرفراز ہو جاتا ہے، بلکہ وہ اللہ کے اخلاق میں سے کسی خلق (صفت) کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔ اسی لیے فقہ حنفی کی کتابوں میں یہ لکھا گیا ہے کہ ’ایمان مخلوق نہیں ہے‘ (یعنی یہ اللہ کا وہ نور ہے جو بندے کے دل میں آتا ہے) ؎

​اے مومنوں کے گروہ! خوشیاں مناؤ، اور سرو و سوسن (کے پھولوں) کی طرح (نفس کی غلامی سے) آزاد ہو جاؤ۔

​بہت سے محقق مشائخ کا یہ نظریہ ہے کہ جو شخص اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ پر 'ایمانِ حقیقی' لے آتا ہے، اس کے بعد اس کا ایمان کبھی رد (ختم) نہیں ہوتا۔ جو شخص ایمان لانے کے بعد مردود (بے ایمان) ہوا، اس کے پاس محض 'تقلیدی ایمان' تھا (حقیقی نہیں)۔ اور امام شافعیؒ کے پیروکار جو ’میں ان شاء اللّٰہ مومن ہوں‘ کہتے ہیں، بعض نے اس کا یہی مطلب لیا ہے کہ 'میں ان شاء اللّٰہ 'ایمانِ حقیقی' والا مومن ہوں' (تاکہ اپنی طرف سے دعویٰ نہ ہو بلکہ اللّٰہ کی توفیق پر نظر رہے)۔

ب١٤ در بیان معنے سورۀ اخلاص فرمودە اند این سورە را سورۀ اخلاص ازان گوینـد کہ از استماعِ آن اعتقاد بندە بآفریدگار از غبارِ شرک جلے و خفے خالص میگردد فے الجملہ اخلاص در عملِ او دست میدہد اما اخلاص اعتقاد از شرک خفے آنست کہ در الوہیت اعتقاد بذاتے بندد کہ در عرصۂ امکان ہیچ گونہ مثلے او را نباشد و الا آن معتقد او ممکن خواہد بود ازانست کہ اکابِر فرمودە اند کہ اَلتَّوْحِیْدُ إِفْرَادُ الْقِدَمِ عَنِ الْحَدَثِ وہم ازینجاست کہ ابوعلے دقاق رحمہ اللّٰہ در توحید حالے فرمودە کہ اَلتَّوْحِیْدُ غَرِیْمٌ لَا يُقْضٰى دَيْنُهُ چہ اضمحلالِ رسوم آثارِ بشــریت بالکلیہ گاە گاہے دست میدہد و آنہم کَالْبَرْقِ الْخَاطِفِ میگذرد بلکہ ازین سورە صاحب دولتے را کہ صفاے قلبے باشد توحید در پردۀ اعتقاد بدست مے آید کہ حالِ او ہیچ مخلوقے را مُیسّر نیست سخن بابِ مدینۃ العلم کرم اللّٰہ تعالیٰ وَجْہَہُ کہ اَلْإِخْلَاصُ نَفْیُ الصِّفَاتِ شک نیست کہ توحید درین درجہ تعلّق باحدیتِ ذات دارد و تجلےدر مقامِ احدیت قطعًا نمیباشد اگرچہ نعتِ احدیت باشد فَهِمَ مَنْ فَهِمَ 

ب١٤ سورہ اخلاص کے معنی کے بیان میں آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ اس سورہ کو 'سورہ اخلاص' اس لیے کہتے ہیں کہ اسے سننے سے بندے کا اپنے خالق پر جو اعتقاد (یقین) ہے، وہ واضح (جلی) اور چھپے ہوئے (خفی) شرک کے غبار سے خالص ہو جاتا ہے؛ اور خلاصہ یہ کہ بندے کے عمل میں اخلاص پیدا ہو جاتا ہے۔ ​اعتقاد کا 'شرکِ خفی' (چھپے ہوئے شرک) سے پاک ہو کر خالص ہونا یہ ہے کہ الوہیت (خدا مانے جانے) کے باب میں انسان ایسی ذات پر یقین رکھے جس کی 'عالمِ امکان' (کائنات) میں کسی قسم کی کوئی مثال نہ ہو؛ ورنہ (اگر وہ خدا کو کائنات کی کسی چیز جیسا سمجھے گا تو) وہ جس کا معتقد ہے وہ خدا نہیں بلکہ 'ممکن' (مخلوق) ہی ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اکابر نے فرمایا ہے کہ توحید قدیم (ہمیشہ رہنے والے اللہ) کو حادث (فنا ہونے والی مخلوق) سے جدا کرنے کا نام ہے‘ اور اسی لیے حضرت ابو علی دقاقؒ نے توحید کے حال (کیفیت) کے بارے میں فرمایا ہے کہ ’توحید ایک ایسا قرض خواہ ہے جس کا قرض ادا نہیں کیا جا سکتا‘۔ کیونکہ بشریت کے آثار اور رسموں کا مکمل طور پر مٹ جانا (اضمحلال) کبھی کبھار ہی حاصل ہوتا ہے اور وہ بھی اچانک لپکنے والی بجلی کی طرح گزر جاتا ہے۔ ​بلکہ اس سورہ کی برکت سے صاحبِ دولت (اہلِ اللہ) کو، جن کا دل صاف ہو چکا ہو، 'اعتقاد کے پردے' میں وہ توحید حاصل ہو جاتی ہے جس کی کیفیت کسی (عام) مخلوق کو میسر نہیں۔ بابِ مدینۃ العلم حضرت علی (کرم اللہ وجہہ) کا قول ہے کہ ’اخلاص (اللہ کی ذات سے) صفات کی نفی کر دینے کا نام ہے‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس درجے کی توحید کا تعلق 'احدیتِ ذات' (اللہ کی تنہا ذات) سے ہے، اور مقامِ احدیت میں تجلی (رویت) قطعًا نہیں ہوتی، اگرچہ وہ صفتِ احدیت ہی کیوں نہ ہو۔ پس جس نے سمجھنا تھا، اس نے سمجھ لیا۔

ب١٥ در تفسیر مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ فرمودە اند تواند بود کہ مراد از خلق آوانِ صبح باشد و شرِ صبح عبارت از شری بود کہ در بیداری بجہت لوازِمِ بشریت روی میـــدہد و سرورانیکہ در صبح شرار صریحا اضافہ نکرد چنانچہ در غاسق کہ شب ست تصریح اضافہ نمود بعظم شان صبح ست کہ آوانِ ظہورِانوارست این معنی مثل آنست کہ بعض فلق را عبارت از خلق داشــتہ اند مراد أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، مِنْ شَرِّ خَلَقَ دانســتہ اند در آوردن شر بعبارت مَا خَلَقَ اشارتست بآنکہ شرِ او بخلق حق ست لیکن تصریح نشدە بلکہ ظاہرًا مضاف بمخلوق شدە تا راە بندە بین الجَبر و القدر باشــد قدر ظاہر و جبر باطن وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اضافتِ شر بشب تواند بود بجہت مناسبتے باشد کہ میان شب و شر است و این مناسبت آنکہ شب بجہت عدمے بظہور مے آید یعنے چون شعاع آفتاب فرو میرود شب می آید ہمچنین شر پیشِ اہلِ تحقیق بہ نسبت انعدام اَمریست نہ بجہتِ وجود أمرے وجود خیرِ محض ست و ایضًا اشارت تواند بود بہ آنکہ أدبًا فرمودە اند ادب آنست کہ ذمائم را بظاہر نسبت ندہند بل بمظاہر مرتبط دارند و از سیاە کلیمۓ او بشمرند چنانچہ در معاصے بندە از استعداد و کسبِ خود دانسـتہ رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا بگوید نہ آنکہ نسبت بوجود دہد و گوید من مظہرے بیش نیستم ہرچہ در منست از جاے دیگرست تا گوید من چہ کنم ہمہ بخلق و تقدیر اوست مخفے نیست کہ از صبح و شب حضور و غفلت ارادە میتوان کرد و ہمچنین از غاسق خلق ارادە میتوان کرد چہ دراصل لغت غاسق ممتلے و سیر را میگویند خلق اینچنین کہ پُرست از قیومِ خود اگر نورِ وجود ازیک ذرّە او دور شود ہمان لحظہ آن ذرە بعدم رود و ایضًا غاسق سائل را نیز گویند خلق نیز سائل ست کہ اَلْأَعْرَاضُ لَا تَبْقٰى زَمَانَیْنِ و پناە گرفتن از شرخلق آنست کہ در خلوتخانہ شر نیاید و حجابِ مقصود نگردد

ب١٥ آیتِ کریمہ ’مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ‘ (اس کی مخلوق کے شر سے) کی تفسیر میں آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ ممکن ہے کہ 'فلق' (صبح) سے مراد صبح کا وقت ہو، اور 'صبح کا شر' ان برائیوں کو کہا جائے جو بیداری کے عالم میں بشری تقاضوں کی وجہ سے پیش آتی ہیں۔ اس سورت میں (لفظِ شر کو) صراحت کے ساتھ صبح کی طرف منسوب نہیں کیا گیا (یعنی 'شرِ فلق' نہیں کہا گیا)، جبکہ 'غاسق' (رات) کے معاملے میں شر کو اس کی طرف منسوب کیا گیا ہے؛ اس کی وجہ 'صبح' کی عظمت ہے کیونکہ یہ انوار کے ظہور کا وقت ہے۔ شر کو ’مَا خَلَقَ‘ (جو اس نے پیدا کیا) کے ساتھ لانا اس طرف اشارہ ہے کہ شر (برائی) کی تخلیق بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے، لیکن اسے صراحت سے اللہ کی طرف منسوب نہیں کیا گیا بلکہ بظاہر مخلوق کی طرف منسوب کیا گیا ہے تاکہ بندہ 'جبر اور قدر' کے درمیان (اعتدال کے) راستے پر رہے۔ باطنی طور پر 'جبر' ہے (کہ سب اللہ کے ہاتھ میں ہے) اور ظاہری طور پر 'قدر' (کہ بندہ خود ذمہ دار ہے)۔ شر کی نسبت رات (غاسق) کی طرف کرنا شاید اس لیے ہے کہ رات اور شر میں ایک مناسبت ہے؛ رات 'عدم' (نور کے نہ ہونے) کی وجہ سے آتی ہے، اسی طرح اہل درجۂ تحقیق کے نزدیک 'شر' بھی کسی وجودی چیز کا نام نہیں بلکہ کسی اچھائی کے نہ ہونے (انعدام) کا نام ہے۔ وجود تو محض خیر (بھلائی) ہی ہے۔ نیز اس میں ادب کی طرف بھی اشارہ ہے؛ یعنی ادب یہ ہے کہ بری چیزوں کی نسبت ظاہری طور پر اللہ کی طرف نہ دی جائے بلکہ انہیں مظاہر (مخلوق) سے جوڑا جائے اور اسے اپنی ہی 'سیاہ بختی' شمار کیا جائے۔ جیسا کہ گناہوں کے وقت بندہ اسے اپنی استعداد اور اپنی کمائی سمجھ کر ’رَبَّنَا ظَلَمْنَا‘ (اے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا) کہے، نہ کہ یہ کہے کہ میں تو صرف ایک مظہر (آلہ) ہوں، جو کچھ مجھ میں ہے وہ کہیں اور سے (اللہ کی طرف سے) ہے، اور یہ کہہ کر جان چھڑائے کہ 'میں کیا کروں یہ سب تو اللہ کی تخلیق اور تقدیر ہے'۔ ​یہ بات پوشیدہ نہ رہے کہ 'صبح' اور 'رات' سے مراد 'حضور' (یادِ الٰہی) اور 'غفلت' بھی لی جا سکتی ہے۔ اسی طرح 'غاسق' سے مراد مخلوق بھی لی جا سکتی ہے کیونکہ لغت میں غاسق اس چیز کو کہتے ہیں جو بھری ہوئی ہو۔ مخلوق بھی اپنے 'قیوم' (اللہ) سے بھری ہوئی ہے؛ اگر ایک لمحے کے لیے بھی وجود کا نور اس کے ایک ذرے سے دور ہو جائے تو وہ ذرہ عدم (فنا) میں چلا جائے۔ پناہ مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ خلوت خانۂ دل میں شر داخل نہ ہو اور وہ اللہ (مقصود) کے درمیان حجاب نہ بن جائے۔"

ب۱٦ در تحقیق الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ نگارش نمودە اند کہ وسوسہ کہ شیطان از جانب جن و انس مے اندازد و در دلہای آدمیان تواند بود بجہتِ دید قدرت و فعلِ ایشان باشــد این وسوسہ سہ قسم ست یکے مجرد خواطر و خیالات ست و این نسبت بکسے ست کہ بتوفیق اللّٰہ تعالیٰ ایمان دارد با آنکہ خالق افعال عباد حق ست سُبْحَانَەٗ لیکن بظاہر عقل و حس مشاہدە میکند کہ افعال عباد مربوط باختیار ایشان ست دوم آنکہ خالق افعال عباد عباد را دانند چنانچہ معتزلہ نسبت بہمہ آدمیان و جنــیان میگویند و بدتر ازین ست عمل عامہ نسبت بیکدیگر چہ معتزلہ فعل بندە را باِقْدَارِ حق میگوید یعنے حق تعالے او را ہمچُنین آفریدە کہ ہرچہ خواہد میکند دعا در معاملات ازین ہم ذہول دارند سوم آنکہ بندە را بالوہیت اَخَذ کند چنانکہ فرعون و شداد را کردند دفع وسوسہ اول آنست کہ از خلق حق را جدا نداند و فعل و صفت خلق را سایۂ فعل و صفت حق بداند و ربوبیت را عبارت از ظہور رب بصورت مربوب اعتقاد نماید ازینجاست انچہ شیخ اوحدے فرمودە ؎۔

تاجنبش دست ہست مادام

سایہ متحرک ست ناکام

پس اســتعاذە برب الناس مناسب اینست ازین معنے وسوسہ دوم نیزمرتفع مے شود لیکن اســتعاذە بملک الناس لائق بآنست کہ عجز ایشان ظاہر شود بدانکہ شــبیہ بوسوسۂ دوم ست آنکہ ظہور قدرت را در وجودِ تام اعتقاد نماید تامیانِ او و معتزلہ جز بظاہر و مظہر فرقے نماند علاج پناە بردن بملک الناس ست کہ مرتبہ جمع ست تا ظاہر شود کہ مدار بمشــیّۃ ازلیۃ است إِنَّكَ لَاتَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَٰكِنَّ اللّـٰهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ ۚ چون ســید ولدِ آدم را این حال ست دیگر را چہ رسد و ایضًا ظاہر شود کہ ہر چند فعـل و قدرت و مظہر اوست خلق و تاثیر در مظہر او نیست عالَم در ہر آن بعَدَم میرود مثل آن بظہور مے آید و خلق و تاثیر بتمام از مرتبہ الوہیت ست باین سخن وسوسۂ سوم نیز مرتفع شود بلکہ بہمان تفرقہ ظاہر و مظہر دفع شدە بود کہ صورتِ فرعون و شداد را بالوہیت گرفتہ بودند نہ حقیقتِ ایشان را لیکن اســتعاذە بآلہ الناس در دفع او مناسب ست۔

آیتِ کریمہ ’الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ‘ (وہ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے) کی تحقیق میں آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ ​وہ وسوسہ جو شیطان (جنوں اور انسانوں کی جانب سے) آدمیوں کے دلوں میں ڈالتا ہے، وہ (بنیادی طور پر) ان کی اپنی قدرت اور فعل کو دیکھنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ وسوسہ تین قسم کا ہے۔ پہلی قسم؛ صرف خیالات اور خطرات کا آنا ہے۔ یہ اس شخص کے لیے ہے جو اللہ کی توفیق سے ایمان رکھتا ہے کہ بندوں کے افعال کا خالق اللہ ہی ہے، لیکن ظاہری عقل اور حواس سے وہ یہ مشاہدہ کرتا ہے کہ بندوں کے کام ان کے اپنے اختیار سے بندھے ہوئے ہیں۔ دوسری قسم؛ یہ کہ بندوں کو ہی ان کے افعال کا خالق مان لیا جائے، جیسا کہ 'معتزلہ' تمام انسانوں اور جنوں کے بارے میں کہتے ہیں۔ اور عام لوگوں کا ایک دوسرے کے بارے میں (معاملات میں) طرزِ عمل اس سے بھی بدتر ہے؛ کیونکہ معتزلہ تو پھر بھی یہ کہتے ہیں کہ بندے کا فعل اللہ کے قدرت دینے (اقدار) کی وجہ سے ہے، یعنی اللہ نے اسے ایسا پیدا کیا ہے کہ وہ جو چاہے کرے؛ مگر عام لوگ تو معاملات میں اس (خالق) سے بھی غافل ہو جاتے ہیں۔ تیسری قسم؛ یہ کہ بندے کو 'الوہیت' (خدائی) کے مرتبے پر فائز کر دیا جائے، جیسا کہ فرعون اور شداد کے ساتھ کیا گیا۔ علاج اور دفعِ وسوسہ؛ پہلے وسوسے کا دفعیہ؛ یہ ہے کہ مخلوق کو حق سے جدا نہ سمجھے، بلکہ مخلوق کے فعل اور صفت کو اللہ کے فعل اور صفت کا 'سایہ' جانے۔ اور 'ربوبیت' کا مطلب یہ مانے کہ رب ہی مربوب (مخلوق) کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ جیسا کہ شیخ اوحدیؒ نے فرمایا؛ 

جب تک ہاتھ کی جنبش موجود ہے، سایہ لامحالہ متحرک رہے گا۔

پس اس معنی کے لیے ’رَبِّ النَّاسِ‘ (لوگوں کا پالنے والا) کے ساتھ پناہ مانگنا مناسب ہے، اس سے دوسرا وسوسہ بھی دور ہو جاتا ہے۔ دوسرے وسوسے کا دفعیہ؛ اس کے لیے ’مَلِكِ النَّاسِ‘ (لوگوں کا بادشاہ) کے ساتھ پناہ مانگنا موزوں ہے تاکہ ان (بندوں) کی عاجزی ظاہر ہو جائے۔ یاد رہے کہ دوسرے وسوسے سے مشابہ ایک اور حالت یہ ہے کہ انسان قدرت کے ظہور کو (مخلوق کے) وجودِ تام میں مستقل مان لے؛ یہاں 'معتزلہ' اور اس میں صرف 'ظاہر و مظہر' کا فرق رہ جاتا ہے۔ اس کا علاج ’مَلِكِ النَّاسِ‘ کی پناہ لینا ہے جو 'مرتبۂ جمع' ہے، تاکہ یہ ظاہر ہو جائے کہ مدار صرف 'مشیتِ ازلی' پر ہے۔ جب سیدِ ولدِ آدم (نبی کریم ﷺ) کا یہ حال ہے کہ (فرمایا گیا) آپؐ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، تو دوسروں کی کیا حیثیت؟ نیز یہ ظاہر ہو جائے کہ اگرچہ فعل اور قدرت کا 'مظہر' بندہ ہے، لیکن تخلیق اور تاثیر اس کے مظہر میں نہیں ہے۔ کائنات ہر آن 'عدم' (فنا) میں جا رہی ہے اور ویسی ہی دوبارہ ظاہر ہو رہی ہے؛ تخلیق اور تاثیر مکمل طور پر 'مرتبۂ الوہیت' سے ہے۔ تیسرے وسوسے کا دفعیہ؛ اس بیان سے تیسرا وسوسہ بھی دور ہو جاتا ہے، بلکہ وہ 'ظاہر و مظہر' کے فرق سے ہی دفع ہو گیا تھا (کہ فرعون وغیرہ نے اپنی صورت کو خدا سمجھ لیا تھا، اپنی حقیقت کو نہیں)۔ لیکن اس کے دفعیے کے لیے ’إِلٰهِ النَّاسِ‘ (لوگوں کا معبود) کے ساتھ پناہ لینا مناسب ہے۔

    ب۱۷ ایضًا در بتحقیق کریمہ مذکور رقم فرمودە اند وسوسۂ خناس از سہ قسم بیرون نیست یا بمصعیۃ مے اندازد یا دل بندە را در تصرف خود آوردە مملکت خواطر و خیالات میکند بے آنکہ ظہور معصیتے شود یا بکفر مے اندازد ​نَعُوْذُ بِالـلّٰهِ مِنْ شَرِّهٖ از قسم اول التجا برب بردن مناسب ست چہ معصیت واسطۂ موت مے شود چنانکہ بعض اکابِر کشف و تحقیق فرمودە اند کہ عصاۃ در دوزخ مے میرند نہ کفار صفت ایشان لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيٰى ست وربوبیت واسطہ وجود و حیات و در قسم دوم ست کہ ملکہ و مسخر بہ شیطان است التجا بملک بردن مناسبـست و در قسم سوم التجا بالہ بردن سزاوار 

    اسی طرح مذکورہ بالا آیت (الَّذِي يُوَسْوِسُ) کی تحقیق میں آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ ​وسوسہ ڈالنے والے خناس کے وسوسے تین قسموں سے باہر نہیں ہیں ​یا تو وہ (انسان کو) گناہ (معصیت) میں ڈالتا ہے ​یا بندے کے دل کو اپنے تصرف میں لے کر اسے وہموں اور خیالات کی آماجگاہ بنا دیتا ہے، چاہے بظاہر کسی گناہ کا ظہور نہ ہو ​یا پھر (انسان کو) کفر میں ڈال دیتا ہے، ہم اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ ​علاج اور مناسبت؛ ​پہلی قسم (گناہ) کا علاج؛ اس کے لیے 'رب' (پالنے والے) کی پناہ لینا مناسب ہے؛ کیونکہ گناہ 'موت' کا واسطہ بنتا ہے (روحانی موت)۔ جیسا کہ بعض صاحبِ کشف و تحقیق اکابر نے فرمایا ہے کہ گناہگار دوزخ میں (اپنے گناہوں کی سزا کاٹ کر) مر جاتے ہیں (تاکہ دوبارہ زندگی پا کر جنت میں جائیں)، برخلاف کفار کے کہ ان کی صفت یہ ہے کہ وہ وہاں نہ مریں گے اور نہ جییں گے۔ چونکہ 'ربوبیت' وجود اور زندگی عطا کرنے کا واسطہ ہے، اس لیے گناہ (جو موت لاتا ہے) کے مقابلے میں 'رب' کی پناہ موزوں ہے۔ ​دوسری قسم (خیالات کا غلبہ)؛ جس میں دل شیطان کا مسخر (غلام) اور اس کی مملکت بن جاتا ہے، اس کے لیے 'ملک' (بادشاہ) کی پناہ لینا مناسب ہے (تاکہ حقیقی بادشاہ کی حکومت دل پر قائم ہو)۔تیسری قسم (کفر)؛ اس کے لیے 'الٰہ' (معبودِ برحق) کی پناہ لینا سزاوار ہے (تاکہ باطل معبودوں اور انکارِ حق کا خاتمہ ہو)۔"

    ب۱۸ در تحقیق حدیث کَانَ اللّـٰهُ وَلَمْ يَڪُنْ مَعَەُ شَۓٌ رقم فرمودە اند کہ این کلام از مشکوۃ نبوت عَلےٰ صَاحِبِہَا مِنَ الصَّلوٰۃِ اَفْضَلُہَا بظہور رسیدە اشارە بمرتبہ اطلاق ست و تقدم آن برسائر مراتب تقدمیست ذاتی وَباَلْآنُ کَمَا کَانَ کہ باقتباس از انوارِ آن مشکوٰۃ بزبان بعض اکابِر صوفیہ جریان یافتہ عبارتست ازانکہ او ہمچنان بر صرافت اطلاقِ خودست ظہورِ بمقیدات جلوەِ اطلاق را بر نینداختہ دران حضرت ازل و ابد ظاہر و باطن در یک نقطہ جمع ست جمیع ذراتِ عالَم درو و آن متعاقِب موہوم الاتصال بنفسِ رحمت و قہر مے آیند و میروند و میان ہر دو آن دریاے لامنتہاے اطلاق مہیاست و از کوتاہی ظہور مقیدات نسبت باین ہمہ اطلاق بے انتہا نزدیک است کہ نظر عارِف كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلا وَجْهَهُ را مستمر بیند و آنکہ میگویند حفظ ما بین النفسین نیز عارِف را لابدست اینست کہ خود را بفنا و نیستی بردہد کہ آن نفسین این دو نفسِ رحمانیت و لہٰذا گفتہ اند نسبت بعارف اصلاح بین از حفظ بَیْن النفسین بہترست و الّا عارِف را چہ احتیاج ست بحفظ بین النفسین کہ او ازوے منفِک نیست چہ در اصلاح و چہ در غیرِ آن یا گویم اَلْآنُ کَمَا کَانَ عبارتست ازانکہ اشــیا نمودیست بے بود بوی از وجود خارجی بمشام او نرسیدە و ہمچنان در علم آرمیدە یا گوئیم وَ اللّٰە تَعَالیٰ اَعْلَمُ کَانَ اللّٰەُ بعد از ظہور وقتی بودە باشد کہ لِیْ مَعَ اللّٰەِ وَقْتٌ مبیَّن آنست و اَلْآنُ کَمَا کَانَ ہمچنان یا آنکہ اَلْآنُ کَمَا کَانَ باین معنے صحیح ست و اگر کَانَ اللّٰەُ بمعنے اول باشـد یعنے در نظر شہود من ہمچنان بود 
    حدیثِ مبارکہ ’کَانَ اللّٰهُ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُ شَيْءٌ‘ کی تحقیق میں آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ؛ ​یہ کلام جو مشکوٰۃِ نبوت سے ظاہر ہوا ہے، اللہ کی 'مرتبۂ اطلاق' (ہر قید سے آزاد ہستی) کی طرف اشارہ ہے، اور اس (اللہ) کا تمام مراتب پر مقدم ہونا 'تقدمِ ذاتی' ہے (یعنی وہ ہر چیز کی اصل ہے) ​اور جملہ ’وَالْآنَ کَمَا کَانَ‘ جو اسی نبوی روشنی کے اقتباس سے بعض اکابر صوفیہ کی زبان پر جاری ہوا، اس کا مطلب یہ ہے کہ: اللہ اب بھی اپنی اسی 'صرافتِ اطلاق' (خالص بے قید ہستی) پر قائم ہے۔ 'مقیدات' (محدود کائنات) کے ظہور نے اس کی 'بے قیدی' کے جلوے کو ختم نہیں کیا۔ اس (اللہ) کی بارگاہ میں ازل اور ابد، ظاہر اور باطن سب ایک 'نقطہ' پر جمع ہیں۔ ​کائنات کے تمام ذرات اس (نقطے) میں ہیں، اور یہ ذرات جو یکے بعد دیگرے (وہم کی حد تک جڑے ہوئے) نظر آتے ہیں، اللہ کی رحمت اور قہر کے نفس (سانس) کے ساتھ آ رہے ہیں اور جا رہے ہیں (یعنی ہر لمحہ فنا اور پیدا ہو رہے ہیں)؛ اور ان دونوں کے درمیان 'اطلاق کا لامحدود سمندر' موجود ہے۔ ان مقید چیزوں کے ظہور کی اس 'بے انتہا وسعت' کے سامنے اتنی کم حیثیت ہے کہ عارف کی نظر ہمیشہ ’کُلُّ شَیْءٍ هَالِکٌ إِلَّا وَجْهَهُ‘ (ہر چیز فنا ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے) کا مشاہدہ کرتی ہے ​اور وہ جو کہا جاتا ہے کہ عارف کے لیے 'دو سانسوں کے درمیانی وقفے کی حفاظت' (حفظِ مابین النفسین) ضروری ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود کو فنا اور نیستی میں لے جائے؛ کیونکہ وہ دو سانس دراصل 'رحمانیت کے دو سانس' ہیں (جن سے کائنات ہر لمحہ پیدا اور فنا ہو رہی ہے)۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ عارف کے لیے (اپنے باطن کی) اصلاح کرنا اس سانسوں کی حفاظت سے بہتر ہے، ورنہ عارف کو اس حفاظت کی کیا ضرورت جبکہ وہ اللہ سے کسی حال میں جدا نہیں ہے، چاہے وہ اصلاح میں ہو یا کسی اور کام میں ​یا میں یوں کہوں کہ ’الآن کما کان‘ سے مراد یہ ہے کہ اشیاء صرف ایک 'نمود' (دکھاوا) ہیں جن کی اپنی کوئی 'بود' (حقیقت) نہیں؛ انہیں خارجی وجود کی بو تک نہیں پہنچی اور وہ (اب بھی) اللہ کے علم ہی میں آرام کر رہی ہیں۔ یا ہم کہیں (واللہ اعلم) کہ ’کَانَ اللّٰهُ‘ ظہور کے بعد اس وقت کی طرف اشارہ ہے جس کے بارے میں ’لِی مَعَ اللّٰہِ وَقْتٌ‘ (میرا اللہ کے ساتھ ایک خاص وقت ہے) فرمایا گیا، اور ’الآن کما کان‘ بھی ویسا ہی ہے۔ یا یہ کہ یہ جملہ اس معنی میں صحیح ہے کہ (عارف کہے) 'میرے شہود (مشاہدے) کی نظر میں اللہ ویسا ہی ہے جیسا وہ پہلے تھا (یعنی مجھے اللہ کے سوا کچھ نظر نہیں آتا)'۔

    ب۱۹

    حدیثِ قدسی ’جسے میری محبت نے قتل کر دیا، میں ہی اس کی دیت (خون بہا) ہوں‘ کی تحقیق میں آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ ​حق سبحانہ نے (اس کلام میں) طریقۂ مراقبہ کو بیان فرمایا ہے کہ جب 'محبتِ ذاتی' (بندے کو) فنا اور موت کے درجے تک پہنچا دے، تو وہ محبت کے پانے کے ذوق اور تجلیِ ذات سے سرفراز ہو جاتا ہے۔ یہاں دیت سے مراد یہی پانے کا ذوق (ذوقِ یافت) ہے جو محبتِ ذاتی میں فنا ہو جانے کے بعد ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی مذکورہ طریقۂ مراقبہ، جو کہ محبتِ ذوقیہ کے ظہور سے عبارت ہے، یقینًا مقصود (اللہ) تک پہنچانے والا ہے اور اسی ضمن میں آپ نے فرمایا کہ (ہمارے) طریقے کا مدار ان تین چیزوں پر ہے؛ (١) اہلِ سنت و جماعت کے عقائد پر مضبوطی سے قائم رہنا (رسوخ)، (٢)ہمیشہ اللہ کی یاد اور آگاہی میں رہنا (دوامِ آگاہی)، (٣)​ ہمیشہ عبادت پر کاربند رہنا (دوامِ عبادت)۔

    ب۲۰ در تحقیق معنی حدیثِ قدسی أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِەٖ ذَكَرْتُەُ فِےنَفْسِے وَإِنْ ذَكَرَنِے فِے مَلَإٍ ذَكَرْتُەُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِّنْهُمْ یعنی فِے مَلَإٍ الْمَلَائِکَە فرمودند بخداے عَزَّ وَ جَلَّ نیکو گمان باید بود و بنفسِ خود بدگمان و خائف مشائخ را اختلاف ست در آنکہ غالب حال بندۀ مؤمن رجـا باید یا خوف بعضے گفتہ اند در پیرے رجا و در جوانی خوف و تحقیق آنست کہ ہمیشہ باید کہ رجا غالب باشـد و خیریت ملاء در صورتےکہ ذکر بندە مر حق را در ملاء آن سرور صَلَّے اللّٰەُ عَلَیْەِ وَ آلِەٖ وَ سَلَّمَ باشـد نہ باعتِبار آنست کہ رُسُل ملک افضل باشــد از رُسُلِ بَشَر بل باعتبارِ آنست کہ وجود روحانی آنسرور صَلَّے اللّٰەُ عَلَیْەِ وَ آلِەٖ وَ سَلَّمَ کہ در ملاء اعلیٰ ست ذکر حق سُبْحَانَەُ بندە را دران ملاء باشـد یا خیریت ملاء باعتبار آن باشـد کہ جماعتی از فرشــتگان اند کہ آن را مُہَیِّمِیْن گویند و آنہا افضل اند از رُسُلِ بَشَر ذکرِ بندە دران ملاء باشـد

    حدیثِ قدسی 'میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں جو وہ میرے ساتھ رکھتا ہے، اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اپنے نفس میں یاد کرتا ہوں، اور اگر وہ مجھے کسی محفل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس سے بہتر محفل (فرشتوں کی محفل) میں یاد کرتا ہوں' کی تحقیق میں آپ نے فرمایا ہے کہ اللّٰہ عزوجل کے ساتھ ہمیشہ نیک گمان (اچھی امید) رکھنا چاہیے اور اپنے نفس کے بارے میں بدگمان اور خوفزدہ رہنا چاہیے۔ مشائخ کے درمیان اس بات میں اختلاف ہے کہ مومن بندے پر 'رجا' (امید) غالب ہونی چاہیے یا 'خوف' (ڈر)؟ بعض نے کہا ہے کہ بڑھاپے میں امید اور جوانی میں خوف غالب ہونا چاہیے۔ لیکن (اصل) تحقیق یہ ہے کہ ہمیشہ 'رجا' (امید) کو ہی غالب ہونا چاہیے ​اور اس 'بہتر محفل' (ملاءِ خیر) کی خیریت (بہتری) جس میں اللّٰہ بندے کا ذکر کرتا ہے، اس صورت میں کہ جب بندہ حق سبحانہ کا ذکر حضورﷺ کی محفل میں کرے، اس اعتبار سے نہیں ہے کہ فرشتے (رسلِ ملک) انسانی رسولوں (رسلِ بشر) سے افضل ہیں، بلکہ اس اعتبار سے ہے کہ حضورﷺ کا وجودِ روحانی جو 'ملاءِ اعلیٰ' میں ہے، اللّٰہ سبحانہ اس محفل میں بندے کا ذکر فرماتا ہے ​یا پھر اس محفل کی 'خیریت' اس اعتبار سے ہے کہ فرشتوں کی ایک جماعت ایسی ہے جنہیں مہیمین کہا جاتا ہے اور وہ (مقامِ استغراق کی وجہ سے) رسلِ بشر سے بھی افضل ہیں؛ اللہ کی جانب سے بندے کا ذکر اس محفل میں ہونا (بہت بڑی سعادت ہے)۔

    فقط سہیل طاہر، سیالکوٹ








    نظرات

    پست‌های معروف از این وبلاگ

    زُبْدَۃُ الْمَقَامَات؛ مقصد اَوَّل، فصل دوم (الف)

     فصل دوم  مزار مبارک حضرت خواجہ بیرنگؒ دہلی، موجودہ بھارت

    زُبْدَۃُ الْمَقَامَات؛ آغاز

    بَرَکٰاتِ اَحْمَدِیَّہ نام دگر زُبْدَۃ الْمَقٰامٰاتِ تأريخ تأليف ۱۰۳۷ھ محـــمد ھــاشم کشمی بدخشانی وفات ۱۰٥٤ھ مصحح سُہیل طاہرؔ (نُسخہ؛ درمطبع نامی منشی نول کشور واقع کان پور مزین طبع شد ١٤٠٧ھ) قبر مبارک محمد ہاشم کشمیؒ ۱۰۰۰ھ تا ١٠٤٥ھ

    زُبْدَۃُ الْمَقَامَات؛ مقصد اَوَّل، فصل دوم (ب)

    اثباتِ صرف یعنی اللّٰہ گویند روزی عسکری بملازمتِ ایشان آمد ایشان بہ تقریب طہارت از مسجد برون رفتند خادِمِ این سپاہی برون در عنانِ اسپ گرفتہ ایســتادہ بود حین تخلی و استبرا بکرّات نظرِ کیمیا اثر ایشان بر آن خادِم افتادہ بودہ چون بمسجد در آمدہ اند خبر رســیدہ کہ خادِمِ آن عسکری را جذبہ و بیخودی بر خاک افــگندہ است و میان اسپان چون گوی ہر سوی غلطان ست و از قبیل شام تا پاسی از شب ہمچنان در اضطراب بودہ بآن گاہ بشوریدہ و روی ببازار نہادہ  و ہمچنان در صحرا برون رفتہ دیگر ہیچکس ازو خبری نیافت