مقصد اول
دربیان احوال پیر بزرگوار حضرت ایشان اعنی خواجہ عالی شان سراج العارفین رضی الملۃ والدین خواجہ محمد الباقی قدس اللّٰہ تعالیٰ سرہ العزیز و فرزندان و خلفای آن حضرت و این مقصد مشتمل ست بر چہار فصل
ہمارے حضرت (مجدد الف ثانیؒ) کے پیرِ بزرگوار، یعنی خواجہ عالی شان، عارفوں کے چراغ، رضی الملت والدین، خواجہ محمد الباقی (اللہ تعالیٰ ان کے سرِ عزیز کو پاکیزہ فرمائے) اور ان کی اولاد اور ان کے خلفاء کے احوال کے بیان میں۔ یہ مقصد چار فصلوں پر مشتمل ہے۔
فصل اول
دربیان احوال بدایت و نہایت آن حضــرت تا ایام سکونت ایشان بہ فیــروز آباد دہلی و توجہ ایشان بارشاد ہدایت طالبان معنوی والد بزرگوار حضرت خواجۂ ما قاضی عبدالسلام ست کہ از ارباب فضل و صفا بود و از نرمی دل ہموارہ مصداق وَلْيَبْكُوا۟ كَثِيرًا ولادت ڡ۱ حضرت خواجہ ما قدس سرہٗ در بلدۂِ کابُل بظہور پیوستہ فی حدود سنہ احدیٰ او اثنیٰ و سبعین و تِسْعَمِائة در روزگار صبی سیماے بزرگی از جبہۂ اطوار ایشان پیدا بودہ و جمال آثار ہمت ارجمند و تفرید بلند از آئینہ کاروبار ایشان ہویدا گاہ دران ایام روز تمام در گوشہ خزیدہ سر بگریبان خموشی میکشیدہ اند در تحصیل علوم رسمی شاگردی مجمع علوم و دانائ مولانای صادق حلوای کہ از علما اعلام آن ایام بود اختیار نمودہ برفاقت مولانا از کابُل بماوراء النہر شدہ اند و باندک روزگار از سُمُوِّ فطرت بدرسِ علامہ ایشان را بین الاقران امتیازی پدیدار آمدہ و از فضائل بہرۂِ تمام روزی گشتہ اگرچہ از تحصیل علوم صوری بقیہ ماندہ بود کہ بسلوک این راہ درآمدہ اند لیکن از ذکای فطرت و صفای نسبت دانش ایشان پایۂ بلند داشتہ چنانکہ یکی از صافی دلان صادق القول گفت روزی خادمان حضرت خواجہ دربدایت ترک تحصیل علوم رسمیہ و آغاز ہجوم جذبات الہیہ بمحفلِ یکی از افاضل درآمدند تقریبی را آن فاضل گفت اگر خدمت خواجہ روزی چند دیگر برسر مطالعہ علوم بودندے تامولویت ایشان بکمال و اکمل رسیدے چہ زیبا بودی حضرت خواجہ فرمودند مراد از کمال مولویت آنست کہ کتب متداولۂ مشکلہ را را چنانکہ حق آن باشد توان مطالعہ و افادہ نمود بلادعوی گفتہ می آید کہ ہر کتابی کہ حل آن حَدِیْدُ البَصَرِ دانند درمیان آرند امید کہ تشفی تمام حاصل آید فاضلی از تلامذۂ مولانا صادق باین فقیر گفت چون بسمع ما آشنایان رسید کہ خواجہ از تحصیل علوم بدرویشی رغبت نمودہ اند باہم میگفتم کہ ما ازین جَوان فطرتی و ہمتی دیدہ ایم کہ نتواند بود کہ او بکارے قَدَمْ نہد وآنرا بانجام نرساند آخر چنان شد کہ گمان بردہ بودیم بالجملہ حضرت خواجہ را ہم دراوقات تحصیل علوم کہ روزگار برنائ بود جوش مناسبتِ این راہ گاہ بصحبت باریافتگان محفل لِيْ مَعَ الـلّٰهِ میرسانید تاآنکہ دربلاد ماوراء النہر کہ معدن این طائفہ عزیزالوجود ست بسیاری ازکبار مشائخ آن عہد را دریافتہ نزد بعضی بعروس توبہ و اِنابت نیز ہم گوش گردیدند کما سیجئ بیانیہ منقولا عن کلامہ الشریف ہمدران وقت درزمان کہ گذرایشان بہندوستان افتاد بعض اقران ایشان را کہ دران دیار اصحاب جاہ بودند خیرخواہی صوری بران داشت کہ ایشان نیز درزمرۂ ارباب عسکر بوند و از امتعۂ دنیاویہ توانگر باشند اما ازانجا کہ روزی ایشان دولت دین و توانگری متاع یقین بود سعی آنان بجای نرسید سلطان جذبات الۤہیہ درکنف خلعت خویش بگرفت تابرد بجای کہ برد و چون جلوہ تقدیر ہمیخواست کہ نخست تعلقات کثـیرہ ایشان را ہریک تعلق باز آرد و از قنطرہ آن یک تعلق مجاز ببام حقیقت برآورد نخست دل نازنین ایشان را بیکی از دلبران صوری گرفتاری فرا پیش آمد و پس از روزے چند میان ایشان و آن محبوب ایشان دوری ضرورے بوقوع پیوست ؏
کان خال بجز دانَہ این دام نہ بود܀
![]() |
| کابُل، موجودہ افغانستان |
فصلِ اول
ان (حضرت خواجہ باقی باللہؒ) کے آغاز اور انجام کے احوال کے بیان میں، ان کے دہلی کے علاقے فیروز آباد میں سکونت اختیار کرنے اور طالبانِ حق کی ہدایت و ارشاد کی طرف توجہ فرمانے تک۔
ہمارے حضرت خواجہؒ کے والدِ بزرگوار قاضی عبدالسلام تھے، جو صاحبِ فضل و صفا تھے اور دل کی نرمی کی وجہ سے ہمیشہ (قرآنی آیت) "پس انہیں چاہیے کہ بہت روئیں" کا مصداق رہتے تھے۔ ہمارے حضرت خواجہ (قدس سرہ) کی ولادت شہرِ کابُل میں ۹۷۱ھ یا ۹۷۲ھ کے لگ بھگ ہوئی۔ بچپن ہی سے ان کے طور طریقوں سے بزرگی کے آثار ظاہر تھے اور ان کی بلند ہمت اور تنہائی پسندی (تفرید) کے جمالیاتی اثرات ان کے معمولات کے آئینے سے عیاں تھے۔ ان دنوں میں اکثر پورا دن کسی کونے میں دبک کر خاموشی کے گریبان میں سر ڈالے رہتے تھے۔
رسمی علوم کی تحصیل کے لیے انہوں نے اپنے دور کے جید عالم مولانا صادق حلوائی کی شاگردی اختیار کی (جو علوم و دانائی کا مجموعہ تھے)۔ مولانا کی رفاقت میں کابل سے ماوراء النہر (وسطی ایشیا) تشریف لے گئے۔ اپنی بلند فطرت کی وجہ سے تھوڑے ہی عرصے میں اپنے ہم عصروں میں نمایاں مقام حاصل کر لیا اور فضائلِ علمی سے بھرپور حصہ پایا۔ اگرچہ ظاہری علوم کی تحصیل کا کچھ حصہ ابھی باقی تھا جب آپ سلوکِ راہِ طریقت میں داخل ہوئے، لیکن اپنی فطری ذہانت اور باطنی نسبت کی صفائی کی وجہ سے آپ کا علم بہت بلند پایہ تھا۔
جیسا کہ ایک سچے اور صاف دل شخص نے بتایا: "شروع شروع میں جب حضرت خواجہ نے رسمی علوم کی تعلیم چھوڑی اور ان پر جذباتِ الٰہیہ کا ہجوم ہونے لگا، تو وہ ایک فاضل عالم کی محفل میں تشریف لے گئے۔ بات چیت کے دوران اس فاضل نے کہا: 'اگر حضرت خواجہ کچھ دن اور مطالعہ فرماتے تو ان کی مولویت (علمیت) کمال اور اکمل درجے کو پہنچ جاتی، کتنا اچھا ہوتا!" حضرت خواجہ نے فرمایا: "مولویت کے کمال سے مراد اگر یہ ہے کہ مشکل درسی کتابوں کا حق ادا کرتے ہوئے ان کا مطالعہ اور افادہ کیا جا سکے، تو میں بغیر کسی دعوے کے کہتا ہوں کہ جو کتاب بھی مشکل ترین سمجھی جاتی ہو، سامنے لائی جائے، امید ہے کہ مکمل تسلی بخش حل پیش کر دیا جائے گا۔"
مولانا صادق کے ایک شاگرد نے اس فقیر (مؤلف) سے کہا: "جب ہم نے سنا کہ خواجہ نے تعلیم چھوڑ کر درویشی اختیار کر لی ہے، تو ہم آپس میں کہتے تھے کہ ہم نے اس جوان میں ایسی فطرت اور ہمت دیکھی ہے کہ ممکن نہیں وہ جس کام میں قدم رکھے اسے پائے تکمیل تک نہ پہنچائے۔ آخر کار ویسا ہی ہوا جیسا ہم نے گمان کیا تھا۔"
بالجملہ، حضرت خواجہ کو حصولِ علم کے دوران (جب وہ جوان تھے) اس راہ (تصوف) سے ایسی مناسبت اور جوش تھا کہ کبھی کبھی ان بزرگوں کی صحبت میسر آتی جو "لی مع اللہ" (میرا اللہ کے ساتھ ایک وقت ایسا ہے) کی محفل کے مکین تھے۔ یہاں تک کہ ماوراء النہر کے شہروں میں، جو اس گروہ (صوفیاء) کی کان ہیں اس عہد کے بہت سے بڑے مشائخ کی زیارت کی اور بعض سے توبہ و انابت کا عہد بھی کیا۔ (جیسا کہ ان کے اپنے کلام سے آگے بیان کیا جائے گا)۔
اسی زمانے میں جب ان کا گزر ہندوستان سے ہوا، تو ان کے بعض ہم عصروں نے جو وہاں صاحبِ جاہ و منصب تھے ظاہری خیر خواہی کے طور پر چاہا کہ خواجہ بھی فوج (اربابِ عسکر) میں شامل ہو جائیں تاکہ دنیاوی مال و متاع سے مالا مال ہو سکیں۔ لیکن چونکہ ان کا رزق دولتِ دین اور متاعِ یقین تھا، اس لیے ان لوگوں کی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں۔ اللہ کے جذبات کے سلطان نے انہیں اپنی خلعت کی پناہ میں لے لیا تاکہ وہاں لے جائے جہاں لے جانے کا حکم تھا اور چونکہ تقدیر کا جلوہ یہ چاہتا تھا کہ پہلے ان کے کثیر (دنیاوی) تعلقات کو کسی ایک تعلق (مجازی عشق) کی طرف مائل کرے اور پھر اس مجازی پل کے ذریعے حقیقت کی چھت تک لے جائے، اس لیے پہلے ان کے نازک دل کو ایک ظاہری دلبر کی محبت میں گرفتار کر دیا، اور پھر کچھ دنوں بعد ان کے اور اس محبوب کے درمیان ایک ناگزیر دوری پیدا کر دے۔ (جیسا کہ مصرع ہے)؛
"وہ (محبوب کا) تِل اس (حقیقی) دام (جال) کے دانے کے سوا کچھ نہ تھا۔"
اسی زمانے میں، جدائی کے دکھوں کے ساتھ ساتھ اہل محبت اور اربابِ معرفت کی بعض کتابیں ان (خواجہ باقی باللّٰہ) کی نظر سے گزریں۔ ان کتابوں کے مطالعے کی برکت اور اللّٰہ کی تائید سے، اس گروہ (صوفیاء) کے احوال حاصل کرنے کے شوق نے ان کے دل کا گریبان تھام لیا۔ ایک درویش نے اس دل جلے (مؤلف) کو بتایا کہ حضرت خواجہ کی زبانِ در فشاں سے سنا، انہوں نے فرمایا: "میں اکابرین کی کتابوں میں سے ایک کتاب کے مطالعے میں مصروف تھا کہ (اللہ کی صفات) مجھ پر تجلی فرما ہوئیں اور مجھے مجھ سے ہی چھین لیا (بے خود کر دیا)۔"
پھر حضرت خواجہ بزرگ بہاء الحق والدین (خواجہ بہاؤالدین نقشبند) کی روحِ متبرک کی روحانی کششوں نے ذکر کی تلقین اور جذبات کے القاء سے آپ کو نوازا (فیضیاب کیا)۔ آپؒ نے ہمت کی آستین ہر چیز سے جھاڑ دی اور کمر بستہ ہو کر پوری توجہ کے ساتھ اس راستے کے مسافروں کے سراغ میں نکل کھڑے ہوئے۔
آپؒ کے مصاحبین میں سے ایک درویش نے، جو اس وقت موجود تھا، بتایا: "آپ اس راہ کی طلب کی زیادتی میں سالکین اور مجذوبین کی جستجو میں اس قدر دوڑ دھوپ فرماتے تھے کہ اس سے زیادہ انسانی قوت کے بس میں تصور نہیں کیا جا سکتا۔ لاہور شہر میں بارشوں کے دنوں میں، جب کیچڑ اور پھسلن کی کثرت کی وجہ سے گلیوں سے گزرنا نہایت مشکل ہوتا تھا، آپؒ اپنے جسم کی تمام تر نزاکت کے باوجود کتنے ہی محلوں، ٹیلوں، ویرانوں، قبرستانوں، بیابانوں اور باغوں کو صاحبِ دل بزرگوں کی تلاش میں چھان مارتے تھے۔"
ایک راوی نے کہا: "میں نے بھی ایک دن پرانی شناسائی کی بنا پر چاہا کہ اس سیر و تلاش میں آپ کا رفیق بنوں۔ انہوں نے اگرچہ بہت منع کیا مگر میں باز نہ آیا۔ جب ان کے ہمراہ چند گلیاں طے کیں تو بہت زیادہ کیچڑ کی وجہ سے مجھ پر تھکن طاری ہوگئی اور پاؤں میں درد ہونے لگا۔ حیا اور ادب کی وجہ سے مجھ میں عرض کرنے کی ہمت نہ تھی، مگر آپؒ اس بات سے آگاہ ہو گئے اور مجھے واپس بھیج دیا۔ تب میں نے جانا کہ وہ اس راہ میں کسی اور ہی (روحانی) پاؤں کی قوت سے گامزن ہیں۔" مصرع
اس راستے کو جنون کے پاؤں کے بغیر طے نہیں کیا جا سکتا۔
یہاں تک کہ ایک دن اس 'دیوانہ بظاہر اور فرزانہ بحقیقت' (عقل مند حقیقت) کے رحم و کرم کا دریا جوش میں آیا، انہوں نے آپؒ کو اپنے پاس بلایا اور مراد کے حصول کے لیے نظریں اور دعائیں فرمائیں، جس سے آپ کو بہت فوائد حاصل ہوئے۔ اس حوالے سے آپؒ (خواجہ باقی باللہ) کی زبانِ مبارک سے یہ کلمات جاری ہوئے؛ "اگرچہ ہم نے ویسی شاقہ (سخت) ریاضتیں نہیں کیں جیسی بعض اہل اللہ نے کیں، لیکن ہم نے وہ عظیم انتظار اور قلق (بے چینی) دیکھے ہیں جو خود بڑی ریاضتوں اور سختیوں کے ہم پلہ تھے۔"
نیز فرمایا کہ ان دنوں میں میری والدہ ماجدہ جب میری بے قراری، بے خوابی اور ناتوانی کی کثرت دیکھتیں تو نہایت شکستہ دل ہو کر بارگاہِ الہیٰ میں گریہ و زاری کے ساتھ عرض کرتیں؛ "اے خدا! میرے بیٹے کو، جو تیری طلب میں سب سے کٹ گیا اور جوانی کی لذتوں سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے، (اپنے مقصد میں) کامیاب فرما، یا پھر مجھے زندہ نہ رکھ کہ میں اس کی یہ ناکامی اور بے آرامی دیکھ سکوں۔" ان کی ان دعاؤں سے مجھے بہت سی فتوحات نصیب ہوئیں۔
مخفی نہ رہے کہ آپؒ کی والدۂِ ماجدہؒ سادات کے خاندان سے تھیں اور نہایت عبادت گزار خاتون تھیں۔ وہ ہمیشہ درویشوں کی خدمت میں مصروف رہتیں؛ باوجود لونڈیوں کی موجودگی کے، وہ خود اپنے ہاتھوں سے درویشوں کے لیے روٹیاں پکاتیں، ہنڈیا چڑھاتیں اور کھانا تقسیم کر کے خود خشک روٹی پر قناعت کرتیں۔
حضرت خواجہ (قدس سرہ) نے مختلف شہروں میں سیاحت کے دوران کبار مشائخ سے فیض پایا۔ ایک مرتبہ استخارہ کیا تو حضرت خواجہ محمد پارسا (قدس سرہ) کی روحِ مبارک ظاہر ہوئی اور فرمایا؛ "سلوک کا مقصد اخلاق کی درستی ہے، اور جب یہ دولت تمہیں میسر آچکی ہے تو دوبارہ اسے حاصل کرنا 'تحصیلِ حاصل' (فضول) ہے۔"
آپؒ نے اپنے احوال میں لکھا کہ پہلی بار توبہ خواجہ عبیدؒ کی خدمت میں کی، پھر سمرقند میں شیخِ افتخار کے ہاتھ پر توبہ کی، مگر وہ استقامت نہ رہی۔ پھر حضرت امیر عبداللہ بلخیؒ کے ہاتھ پر تجدیدِ توبہ کی جو ایک غیر متوقع نعمت تھی۔ بالآخر خواب میں حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبندؒ کی زیارت ہوئی اور توبہ کی صورت مکمل ہوئی اور اہل اللّٰہ کے طریقے کی طرف میلان پیدا ہوا۔ دو سال تک ایک بزرگ کے بتائے ہوئے ذکر و مراقبہ پر مداومت کی۔ آخر میں کشمیر پہنچے اور حضرت شیخ بابا والی (قدس سرہ) کی خدمت میں رہے، ان کی نظر سے بابِ قبولیت کھلا۔ ان کے انتقال کے بعد ارواحِ مشائخِ نقشبندیہ سے تلقینات حاصل ہوئیں۔ یہاں تک کہ حضرت مولانا خواجگی امکنگی (قدس سرہ) کی خدمت میں پہنچے اور مکمل رغبت کے ساتھ بیعت کی اور طریقہ خواجگان (نقشبندیہ) اخذ کیا۔
آپؒ کے کلام کا اختتام ان الفاظ پر ہوتا ہے؛ "اے اللہ! مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ، مسکینی میں موت دے اور قیامت کے دن مسکینوں کے گروہ میں اٹھا۔"
من از محیط محبت نشان ہمی دیدم܀
کہ استخوان عزیزان بساحل افتادست܀
یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ہمارے حضرت خواجہ 'اویسی' تھے اور آپؒ نے حضرت رسالت پناہ ﷺ اور حضرت خواجہ بزرگ بہاء الدین نقشبند اور ان کے خلفاءؒ کی روحانیت سے تربیت پائی اور انہی بزرگواروں کی عنایت سے اپنے کام (روحانی سفر) کو انجام تک پہنچایا۔ لیکن حصولِ کمال کے بعد چونکہ 'پیرِ ظاہر' کے بغیر بھی چارہ نہیں، اس لیے آپ ماوراء النہر تشریف لے گئے اور وہاں حضرت مولانا خواجگیؒ (امکنگی)ڡ٤ کی خدمت سے (ارشاد کی) اجازت حاصل کی۔
ایک سچے اور صاحبِ دل گواہ نے، جو اس وقت موجود تھا، اس حقیر (مؤلف) کو بتایا کہ؛ "ایک دن، اس سے پہلے کہ حضرت خواجہ ہندوستان سے ماوراء النہر روانہ ہوں، لاہور میں ایک مسجد میں نمازِ فرض ادا کرنے تشریف لے گئے۔ نماز کے دوران اچانک آپؒ کے سینۂ مبارک (سینۂ سکینہ) سے ایسی مہیب اور گرج دار آواز ظاہر ہوئی کہ پوری صف کے لوگ حیرت زدہ رہ گئے۔ سلام پھیرنے کے بعد حضرت خواجہ نہایت تیزی سے مسجد سے باہر نکل گئے اور اس کے بعد (مسجد کے بجائے) اپنے گھر میں دو تین قریبی ساتھیوں کے ساتھ جماعت فرمایا کرتے تھے۔"
اسی طرح ایک اور عزیز نے حکایت کی کہ؛ "میں بھی ان مقتدیوں میں شامل تھا، ایک دن نماز کے دوران میں نے دیکھا کہ حضرت خواجہ کا رخ اگرچہ قبلہ کی طرف ہے، مگر وہ ہماری طرف بھی ہے اور وہ ہمیں دیکھ رہے ہیں۔ اس حالت کے مشاہدے سے مجھ پر ایسا لرزہ طاری ہوا کہ میں نے پوری نماز پیچ و تاب اور کپکپی کی حالت میں مکمل کی، بعد میں جو دیکھا تھا وہ عرض کر دیا۔ آپ مسکرائے اور مجھے یہ بات ظاہر کرنے سے منع فرما دیا۔"
راقم الحروف (اللہ اسے معاف فرمائے) کہتا ہے کہ یہ مذکورہ دونوں واقعات اس بات پر 'عادل گواہ' ہیں کہ حضرت خواجہ کو حضورِ اکرمﷺ کی ذاتِ مبارک سے کس قدر کمالِ مناسبت اور اتباع حاصل تھی۔ کیونکہ حضورﷺ سے مروی ہے کہ نماز میں آپؒ کے سینۂ انور کے جوش کی آواز ہنڈیا کے ابلنے (پکنے) کی طرح آتی تھی۔ نیز یہ حضورﷺ کی خصوصیات (معجزات) میں سے تھا کہ آپؒ پیچھے بھی ویسا ہی دیکھتے تھے جیسا سامنے۔ لیکن سید الانبیاءﷺ کو تو یہ کیفیت ہر وقت حاصل تھی، جبکہ امت کے اس بزرگ کو اتباعِ سرورِ کائناتﷺ کی وجہ سے نماز میں جو مومن کی معراج ہے اگر کسی وقت یہ دولت حاصل ہو گئی تو یہ محال نہیں، کیونکہ بزرگوں نے کہا ہے کہ 'تابعِ کامل' کو اپنے 'متبوع' (جس کی پیروی کی جائے) کی ہر چیز سے ایک پرتو اور حصہ ملتا ہے۔
ان حالات و کمالات کے اور طالبوں کے آپ کے آستانے کی طرف رجوع کے باوجود، حضرت خواجہ اپنی بلند ہمت اور تنہائی پسندی (تفرید) کی وجہ سے (فوری طور پر) مسندِ ارشاد اور تعلیمِ طریقت پر نہ بیٹھے، بلکہ ماوراء النہر، بلخ اور بدخشاں کی سیاحت پر روانہ ہو گئے، تاکہ اس سلسلے اور دیگر سلسلوں کے جو بزرگ وہاں مسندِ ارشاد پر ہیں، ان سے مزید فوائد حاصل کریں اور اپنے احوال کی تصحیح فرمائیں۔ اس سفر میں آپ مولانا 'سپر عالی' (قدس سرہ) کی صحبت میں بھی رہے اور اپنے احوال انہیں سنائے اور ان سے بہت نوازشیں پائیں۔ (جیسا کہ کتاب 'نسمات القدس' میں اس کی تفصیل مذکور ہے)۔ وہاں سے آپؒ سمرقند روانہ ہوئے اور راستے میں ہندوستان کے بعض دوستوں کو خط لکھا جو آپؒ کے 'مکتوبات' میں درج ہے، جس کا پہلا شعر یہ ہے؛
میں نے محبت کے سمندر سے یہ نشان دیکھا ہے،
کہ (محبت کرنے والے) عزیزوں کی ہڈیاں ساحل پر پڑی ہوئی ہیں۔
![]() |
| اشک آباد |
اس دوران جب آپؒ ماوراء النہر کے شہروں میں سے کسی شہر کی طرف متوجہ تھے، حضرت مولانا اعظم خواجگی امکنگی (قدس سرہ) خواب (واقعہ) میں ان پر ظاہر ہوئے اور فرمایا: "اے فرزند! ہماری آنکھیں تمہارے راستے پر لگی ہوئی ہیں (ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں)۔" یہ سن کر حضرت خواجہ کا وقت نہایت خوش ہوا (یعنی آپ پر وجدانی کیفیت طاری ہوئی) اور آپ نے اپنا یہ شعر وہیں موزوں فرمایا یا وہیں آپ کی زبانِ مبارک پر جاری ہوا؛؎
میں غم سے آزاد (بے فکری سے) گزرا جا رہا تھا کہ اچانک،
گوشۂ کمین سے ایک 'عالم آشوب' (دنیا کو تڑپا دینے والی) نگاہ نے میرا راستہ روک لیا۔
کیونکہ حضرت مولانا (امکنگی) اس وقت اس سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے جلیل القدر مشائخ میں سے ایک متبرک بزرگ تھے، عمر رسیدہ تھے اور خواجہ بزرگ (بہاؤالدین نقشبند) کے خاص طریقے پر پہاڑ کی طرح ثابت قدم تھے۔ آپ کا نسب دو واسطوں سے حضرت خواجہ احرار (قدس سرہ) تک پہنچتا تھا اور آپ مرید و خلیفہ تھے اپنے والدِ ماجد مولانا درویش محمد کے، اور وہ (مرید تھے) قطب الاخیار خواجہ احرار (رحمہم اللہ) کے۔ چونکہ امید ہے کہ عنقریب ان اکابر اور ان کے خلفاء کے احوال کتاب 'نسمات القدس' میں اللہ کی مدد سے تفصیل سے لکھے جائیں گے، اس لیے یہاں اسی قدر (تذکرے) پر اکتفا کیا گیا ہے۔
بالجملہ، جب ہمارے حضرت خواجہ (باقی باللہ) قدس سرہ مذکورہ مولانا کی خدمت میں پہنچے، تو آپ نے نہایت عنایات اور نوازشیں دیکھیں۔ حضرت مولانا نے ان کے بلند احوال سننے کے بعد تین شبانہ روز (تین دن اور تین راتیں) مسلسل خلوت میں ان سے گفتگو فرمائی اور بعض مزید فوائد پر آگاہی دے کر فرمایا؛
"اللّٰہ سبحانہ کی عنایت اور اس سلسلہ عالیہ کے اکابر کی روحانی تربیت سے آپ کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ اب آپ کو واپس ہندوستان جانا چاہیے، کیونکہ وہاں اس سلسلہ عالیہ کو آپ کے ذریعے مکمل رونق حاصل ہوگی اور وہاں کے بلند مرتبہ طالبینِ حق آپ کی برکتِ تربیت سے فیضیاب ہوں گے۔"
ہمارے حضرت خواجہ نے اگرچہ کسرِ نفسی اور اپنے احوال میں قصور (کمی) دیکھتے ہوئے بہت سے عذر پیش کیے، لیکن حضرت مولانا اپنے اصرار (الحاح) سے باز نہ آئے۔ حتیٰ کہ استخارہ کرنے پر بھی حضرت مولانا کے فرمان کے مطابق ہی اشارہ ملا۔ حضرت مولانا کے ایک قریبی عزیز نے، جو اس وقت موجود تھے، بتایا کہ جب مولانا کے بعض پرانے خادموں اور صاحبِ نسبت یاروں نے سنا کہ حضرت مولانا نے خواجہ (باقی باللہ) کو ان چند دنوں کی صحبت میں خلافت اور اجازتِ کاملہ دے کر ہندوستان روانہ فرما دیا ہے، تو وہ (انسانی) غیرت کی وجہ سے جوش میں آ گئے۔ جب مولانا کو ان کے اس جوش و خروش کی خبر ملی تو آپ نے فرمایا؛ "یارانِ طریقت نہیں جانتے کہ اس جوان کا کام (پہلے سے) مکمل کر کے ہمارے پاس بھیجا گیا ہے۔ یہ یہاں صرف اپنے احوال کی تصحیح کے لیے آئے تھے۔ یقینًا جو (تیار ہو کر) اس طرح آتا ہے وہ اسی طرح (اجازت پا کر) جاتا ہے۔"
پس ہمارے حضرت خواجہ میٹھے پانی (زلال) کی طرح ہندوستان کے بیابانوں کے لب تشنہ (پیاسوں) کی خاطر اس وسیع گلستان (ہند) کی طرف متوجہ ہوئے، اور زمانہ 'زبانِ حال' سے اس شعر کا ہم نوا ہو گیا؛ ؎
ہندوستان کے تمام طوطے شکر چبانے والے (شیریں بیاں) ہو جائیں گے، اس 'فارسی قند' (میٹھے کلام/روحانیت) کی بدولت جو بنگال (ہندوستان) جا رہا ہے۔
چون بہ ہِند رسـیدند سالی دربلدۀِ لاہور بماندند وبسا علما وفضلاءِ آن بلدہ شـیفتہ محبت ایشان شدند لیکن ازانجا کہ شہر دہلی بقعہ ای است دارالاولیاء و بیت الفقراء آنجا آمدہ در قلعہ فیروز شاہی کہ سر منزلی ست بغایت دلکشا و مشرف بر دریا و مشتمل بر مسجدی در نہایت عظمت و برکت و صفا سکونت اختیار نمودند و تازمان ارتحال ازین دارِ پُر ملال بجاے دیگر انتقال نفرمودند
![]() |
| لاہور، موجودہ پاکستان |
جب وہ (حضرت خواجہ باقی باللہ) ہندوستان پہنچے تو ایک سال تک لاہور شہر میں قیام فرمایا۔ اس شہر کے بہت سے علماء اور فضلاء آپ کی محبت کے اسیر (شیفتہ) ہو گئے۔ لیکن چونکہ شہرِ دہلی ایسا مقام ہے جو 'دار الاولیاء' (ولیوں کا گھر) اور 'بیت الفقراء' (درویشوں کا ٹھکانہ) ہے، اس لیے وہاں تشریف لے آئے۔ یہاں آپ نے 'قلعہ فیروزی' (فیروز شاہ کوٹلہ) میں سکونت اختیار کی، جو نہایت دلکشا جگہ ہے، دریا (جمنا) کے کنارے واقع ہے اور ایک ایسی مسجد پر مشتمل ہے جو اپنی عظمت، برکت اور صفائی میں بے مثال ہے۔ آپؒ نے اس پرملال دنیا سے کوچ (وصال) کرنے تک اس جگہ سے کسی دوسری جگہ منتقل ہونا پسند نہیں فرمایا۔
![]() |
| دہلی میں حضرت خواجہؒ کا مزار مبارک، موجودہ بھارت |
١) تاریخِ تولد حضرتِ خواجہ ٩٧١ھ ١٢
٢) خواجہ محمد پارسا بخاری حنفی توفی سنة ۸۲۲ فی المدینة المنورہ ۱۲
٣) خواجہ محمد بهاء الدین نقشبند بخاری توفی سنۃ ۷۹۱ھ در بخارا ۱۲
٤) خواجگی امکنگی توفی سنة ۱۰۰۸ھ در بخارا ۱۲
٥) خواجہ عبیداللّٰه احرار توفی سنة ۸۹٥ھ در سمرقند ۱۲
ن۱ يَتَشَبَّثُ




نظرات
ارسال یک نظر