ب۲۱ حقیقتِ مراقبہ انتظارست و صفاے انتظار در طلب مقصودست در حالتی کہ طالب از حول و قوت خود بیرون آمدە باشد و مشــتاق لقای مقصود و مستغرق بحر ہواے او باشد جَلَّ ذِكْرُهٗ دیدِ حول و قوۃ غبار کوشـش ست و انتظار آســتانہ کشـش این قسم مراقبہ جُز منتہی قریب الانتہا را دست نمیدہد ولہٰـذا ابو الجناب نجم الکبریٰ قدس الـلّٰه ســرە در بیان دہ اصل کہ موت بالارادە را بران داشــتہ این مراقبہ را اصل نہم ساختہ لیکن مبتدئ عاشق را تقلید منتہے باید کرد و خود را از حول و قوت خود بر آوردە انتظار محض باید بود اما سائر مراقبات کہ مطلوب را مقید بیند بشکل و مثال و علم و خیال کردە در عرصہ تعقل آرند فرود انیست و معلول ؎۔
ہرچہ پیشِ تو پیش ازان رِە نیست܀
غایتِ فہم تست الـلّٰه نیست܀
مراقبہ کی حقیقت انتظار ہے، اور انتظار کی صفائی مقصود کی طلب میں ہے، ایسی حالت میں کہ طالب اپنی طاقت اور قوت (حول و قوت) سے بالکل باہر آ چکا ہو، مقصود کی ملاقات کا مشتاق ہو اور اس (محبوب) کی ہوا کے سمندر میں غرق ہو۔ اپنی طاقت اور قوت کو دیکھنا 'کوشش کا غبار' ہے (جو رستے کی رکاوٹ بنتا ہے)، جبکہ انتظار 'کشش کا آستانہ' ہے۔ اس قسم کا مراقبہ صرف ان منتہی (کمال تک پہنچنے والے) حضرات کو حاصل ہوتا ہے جو انتہا کے قریب ہیں۔ اسی لیے ابو الجناب حضرت نجم الدین کبریٰ (قدس اللہ سرہ) نے ان دس اصولوں میں، جن پر انہوں نے 'موت بالارادہ' کی بنیاد رکھی ہے، اس مراقبے کو نویں اصل قرار دیا ہے لیکن ایک مبتدی عاشق کو بھی چاہیے کہ وہ منتہی (کاملین) کی تقلید کرے، خود کو اپنی طاقت اور قدرت سے باہر نکال کر 'محض انتظار' بن جائے۔ رہے دوسرے مراقبے، جن میں مطلوب (اللہ) کو کسی شکل، مثال، علم یا خیال میں مقید کر کے عقل کے دائرے میں لایا جاتا ہے، تو وہ ادنیٰ درجے کے اور معلول (ناقص) ہیں ؎۔
جو کچھ بھی تیرے سامنے آتا ہے وہ (اصل) راستہ نہیں ہے، وہ تو تیری اپنی سمجھ کی انتہا ہے، وہ اللہ نہیں ہے۔
ب۲۲ نگارش نمودە اند نمـاز را حقیقت ست و صورتی ظہورِ حقیقتِ او موقوف ست بمشرف شدن بہ موت اختیارے و طلوع این شرف از راە سلوک بتنے بردَەْ اصل مشہورست و طالب صلوٰۃ حقیقے اکثر مستعد نزول جذب الۤہی باشـد و قابلیت تقدم جذبہ بر سلوک داشـتہ باشـد وظیفۂ او آنکہ بعد از طہارتِ باطن بتوبۂ نصوح و خالےکردن دل از آرزوہاے نفسانی کہ مضر را ہروانست توجہ بحضرتِ حق سُبْحَانَەٗ نماید توجہے مجمل ہیولانے الوصف پاک از اعتقادات مستحسن و مستنکر و کلمۂ إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَٰوَٰتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا را شِعار باطنِ خود سازد و یمکن کہ کشـش غیبے در رسـد و او را ازو بسـتاند و معنے وَ مَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ پے آوردە جلوە گر شود تعلقش قوت گیرد حقیقت مراقبہ کہ انتظار حصول مقصودست بظہور آید و طہارتش را صفاے دیگر پیــدا شود پرتَوِ تجلۓ ذاتی بزبان حال با او بے علتے و بے نیازے مطلب را درمیان نہد معنے توکل را کہ برون آمدن از رؤیت اسبابست در یابد اگر لطفِ حق مدد نماید بیند کہ توجہ نیز از دستِ خود را ازین صفت خالی شــناسد الـلّٰه اکبر من ان یتوجە الیە وغیرہ روے نماید این زمان توجہ دیگر پیشــش آید وَ مَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ را بزبان دیگر بخواند حواس و قوایش بتمام از عمل معزول شوند بصفت عزلت متحقق شود بوراثت قبول خطاب فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ پیدا کند و از عہدۀ امر وَٱذْكُر رَّبَّكَ إِذَا نَسِيتَ بر آید تنزیہ حق کند و سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَ بِحَمْدِكَ گفتن گیرد قدم در مقامِ توحید و اتحاد بنہد ازینجا بان ترقے کند کہ کل کائنات را مضمحل و ناچیز یابد کلمۂ لآ اِلۤہ غیرك سر از نقاب تواری برآرد اینجا خلاصۂ قناعت در مقام نیستیش بیفگند باز تواند بود کہ اَذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ لباس دیگر پوشــیدە کار فرمای او شود خود را بعد قرار داد بمشقت عمل صبر نماید درین موطن حکمت ارسال رسل و نتائج تکالیف برو روشن سازند تعوّذ نمودە بےتکلیف شروع بقرأت نماز کنــد فتح دیگرش روی دہد بصراط مستقیم مُہْتَد شود بسعادت رَّضِيَ اللّـٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ۚ برسـد چون درین مقام متمکن شود معنے ہم الَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ وصف حالِ او شود اینست صلوٰۃ حقیقے اگر کنہ ذات برو تجــلے کند خواە درین منزل خواە پیــش ازین منزل فناے حقیقے باطنش از مجموع امور سرد شود درو نایافت گریبان گیر جانـش شود و معنے اِشْتَهٰے عَدَماً لَّا عَوْدَ لَهٗ دل نشــینش گردد ؎۔
جانا بقمار خانہ رندی چندند
با مردم کم عیار کم پیوندند
رندی چندند کس نداند چندند
بر نسـیہ و نقد ہر دو عالَم خندند
تواند بود کہ فقرش بہ نہایت رسـد و مظہراسم اَلْغَنِے شود و ہنوز درد مند باشـد این دردست کہ مقصود آفرینش عبادتِ روحیہ ہمین دردست
تحریر فرمایا ہے کہ نماز کی ایک حقیقت ہے اور ایک صورت۔ اس کی حقیقت کا ظہور 'موتِ اختیاری' (ارادی موت) کے شرف پر موقوف ہے، اور یہ شرف سلوک کے ان دس مشہور اصولوں پر چلنے سے حاصل ہوتا ہے۔ حقیقی نماز کا طالب اکثر اللہ کے 'جذب' کے نزول کے لیے مستعد (تیار) ہوتا ہے اور اس میں یہ قابلیت ہوتی ہے کہ جذبہ اس کے سلوک پر مقدم ہو جائے۔ اس کا وظیفہ یہ ہے کہ توبہ نصوح کے ذریعے باطن کو پاک کرنے اور دل کو نفسانی آرزوؤں سے خالی کرنے کے بعد (جو کہ سالک کے لیے زہر ہیں) حق سبحانہ کی طرف متوجہ ہو۔ یہ توجہ 'مجمل اور ہیولانی' ہونی چاہیے، یعنی ہر قسم کے (ذہنی) پسندیدہ یا ناپسندیدہ عقائد کے نقش و نگار سے پاک ہو۔ وہ ’میں نے اپنا رخ اس کی طرف کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا‘ کو اپنے باطن کا شعار بنا لے۔ ممکن ہے کہ کوئی غیبی کشش آ پہنچے اور اسے خود اس سے چھین لے (فنا کر دے) اور ’میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں‘ کے معنی اس پر جلوہ گر ہو جائیں۔ اس کا تعلق (حق سے) مضبوط ہو جائے اور 'انتظارِ مقصود' (مراقبہ) کی حقیقت ظاہر ہو۔ تب اس کی طہارت کو ایک اور ہی صفا حاصل ہوگی اور تجلیِ ذاتی کا پرتو زبانِ حال سے اسے بے نیازی کا سبق دے گا۔ وہ 'توکل' کے اصل معنی کو پا لے گا جو کہ 'اسباب کو دیکھنے سے باہر نکل آنے' کا نام ہے۔ اگر اللہ کا لطف مدد کرے تو وہ دیکھے گا کہ یہ 'توجہ' بھی اس کے اپنے بس میں نہیں تھی، اور وہ خود کو اس صفت سے بھی خالی پائے گا۔ تب 'اللہ اکبر' (اللہ اس سے کہیں بڑا ہے کہ اس کی طرف توجہ کی جا سکے) کی حقیقت روشن ہوگی۔ اس مقام پر اس کے حواس اور قوائے جسمانی معطل ہو جائیں گے اور وہ 'عزلت' (تنہائی) کی صفت کو پا لے گا۔ اسے خطابِ الٰہی ’پس اس کے ساتھ تہجد (بیداری) اختیار کرو‘ کی وراثت ملے گی اور وہ ’اپنے رب کو یاد کرو جب تم (خود کو) بھول جاؤ‘ کے حکم پر پورا اترے گا۔ وہ حق کی تنزیہہ کرے گا اور ’سبحانک اللھم و بحمدک‘ پکار اٹھے گا۔ وہ توحید اور اتحاد کے مقام پر قدم رکھے گا اور تمام کائنات کو مضمحل اور ناچیز پائے گا۔ یہاں ’تیرے سوا کوئی معبود نہیں‘ کا کلمہ پردوں سے باہر نکل آئے گا۔ پھر ہو سکتا ہے کہ اسے دوبارہ اپنی ہستی کا احساس دلایا جائے تاکہ وہ عمل کی مشقت پر صبر کرے؛ اس مقام پر اسے 'ارسالِ رسل' (نبیوں کے بھیجے جانے) کی حکمت اور شرعی احکامات کے نتائج سمجھائے جائیں گے۔ تب وہ بلا تکلف نماز شروع کرے گا اور 'صراطِ مستقیم' پر ہدایت پا کر ’اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے‘ کی سعادت پائے گا۔ جب وہ اس مقام پر متمکن ہو جائے گا تو ’وہ اپنی نمازوں پر ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں‘ اس کے حال کی صفت بن جائے گی۔ یہی حقیقی نماز ہے۔ اگر اس پر 'ذاتِ حق' کی تجلی ہو جائے تو فنائے حقیقی کی وجہ سے اس کا باطن تمام امور سے سرد (بے تعلق) ہو جائے گا، اور اس کی جان کو 'نایافت' (اللہ کی بے پایاں ذات) گھیر لے گی۔ تب اسے ایسی 'نیستی' کی تڑپ ہوگی جس کے بعد 'ہستی' کی طرف واپسی نہ ہو؎۔
اے جان! اس رندی کے قمار خانے میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو کم عیار لوگوں سے میل جول نہیں رکھتے۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کتنے ہیں، وہ تو دونوں جہانوں کے نقد و ادھار (دنیا و آخرت) پر ہنستے ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ اس کا فقر اپنی انتہا کو پہنچ جائے اور وہ اللہ کے اسم 'الغنی' کا مظہر بن جائے، مگر پھر بھی وہ دردمند رہے۔ یہی وہ 'درد' ہے جو تخلیقِ کائنات کا مقصود ہے، اور روح کی اصل عبادت یہی درد ہے۔
ب۲٣ بعد از تحقیقِ مقامات و ہنگامۂ سلوک نگارش نمودە اند ہر کہ در مقام معصیت است یا رغبتی بہ دنیا دارد یا سبب بین ست یا اکتفا بِمَا لَا بُدَّ معاش ندارد یا مخــالطِ خلق ست یا اوقاتش بذکر حق سُبْحَانَەٗ معمور نیست یا از خدا عَزَّوَجَلَّ میخواہد یا در مقام مجاہدە بانفس نیست یا نظرے بخود و احوال خود و مداری بحول و قوۃ دارد یا تسلیم احکامِ ازلیہ نیست در سلوک طریق تحقیق ناقص ست و مخفے نمـاند کہ بعضے از اہلِ نہایت کہ از خود وبایستِ خود برآمدە اند در اکتفا و عدم اختلاط و مجاہدہ بجہت بعضے از نسیات حقانیہ ثابت نماندە اند وَ لِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا اکابر خانوادۀ نقشبندیہ مے فرمایند قَدَّسَ اللّٰەُ تَعَالیٰ اَرْوَاحِہِمْ کہ ہر کرا درد این راە دامنگیر شود بعد از توبہ نصوح و بقدرِ طاقت رعایتِ زُہُد و توکل و قناعت و عُزلت و صبر و توحیـد و توجہ سائر مقامات کردە اوقات مصروف ذکر الۤہی گرداند رعایتِ مذکورە را سفر در وطن میگویند غَایَةُ الْأَمْرِ اہتمام بذکر و توجـہ دارند و توجہ مذکور را باز گشت میگوینـد میفرمایند کہ طریق ذکر بجذبہ میکشد و بمددِ جــذبہ جمیع مقامات بسہولت و استقامت بدست مے آید و حقیقتِ توجہ مذکور و مراقبـہ مذکورە کہ وجہے از وجوە یادداشت است و صفتِ رضا بعد از تقویت نسبت جذبہ و کمالِ آن بآسانی روے مے نماید۔
سلوک کے مقامات اور اس کی گہما گہمی کی تحقیق کے بعد آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ ہر وہ شخص جو (ابھی تک) گناہ کے مقام پر ہے، یا دنیا کی رغبت رکھتا ہے، یا اسباب پر نظر رکھتا ہے، یا بقدرِ ضرورت معاش پر قناعت نہیں کرتا، یا مخلوق میں بہت زیادہ گھلا ملا رہتا ہے، یا اس کے اوقات حق سبحانہ کے ذکر سے آباد نہیں ہیں، یا (صرف) اپنی مرادیں اللہ سے مانگتا ہے، یا نفس کے خلاف مجاہدہ نہیں کر رہا، یا اپنی ذات اور اپنے احوال پر نظر رکھتا ہے اور اپنی طاقت و قوت (حول و قوت) پر بھروسہ کرتا ہے، یا احکامِ ازلیہ (تقدیر) کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرتا؛ تو وہ تحقیق کے راستے پر چلنے میں 'ناقص' ہے اور یہ بات پوشیدہ نہ رہے کہ 'اہلِ نہایت' (کمال تک پہنچے ہوئے لوگ) میں سے بعض جو اپنی ہستی اور اپنی خواہشات سے باہر نکل آئے ہیں، وہ بعض الٰہی کیفیات (نسیاتِ حقانیہ) کے غلبے کی وجہ سے قناعت، لوگوں سے علیحدگی اور مجاہدہ (کی ظاہری پابندیوں) پر (عام طریقے کے مطابق) ثابت قدم نہیں رہ پاتے (کیونکہ وہ ایک الگ ہی عالم میں ہوتے ہیں)؛ اور 'ہر ایک کے لیے ایک رخ ہے جس کی طرف وہ مڑتا ہے'۔ سلسلہ نقشبندیہ کے اکابر فرماتے ہیں کہ؛ جس کسی کو اس راستے کا 'درد' لگ جائے، اسے چاہیے کہ توبہ نصوح کے بعد اپنی طاقت کے مطابق زہد، توکل، قناعت، عزلت، صبر، توحید اور توجہ جیسے تمام مقامات کی رعایت کرتے ہوئے اپنے اوقات کو ذکرِ الٰہی میں صرف کرے۔ ان مذکورہ مقامات کی رعایت کرنے کو 'سفر در وطن' کہتے ہیں۔ وہ زیادہ اہتمام ذکر اور توجہ پر کرتے ہیں اور اسی توجہ کو 'باز گشت' (اللہ کی طرف پلٹنا) کہتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ذکر کا طریقہ 'جذب' کی طرف کھینچتا ہے، اور جذب کی مدد سے تمام مقامات (صبر، توکل وغیرہ) بڑی سہولت اور استقامت کے ساتھ حاصل ہو جاتے ہیں۔ اور اس توجہ اور مراقبہ کی حقیقت، جو کہ 'یادداشت' (ہر لمحہ یادِ الٰہی) کی ایک صورت ہے، اور صفتِ رضا؛ یہ سب 'نسبتِ جذب' کے مضبوط اور مکمل ہونے کے بعد بڑی آسانی سے حاصل ہو جاتی ہیں۔
ب٢٤ در آخـرِ شرحِ رباعیاتِ خود کہ از مصنفاتِ دقیقۂ شــریفۂ ایشان ست و مسمٰے بسلسلۃ الاحرار نگارش فرمودە اند ؎۔
این سـکہ کہ من زدم بنام فقر است܀
وین روشنی از نُور تمام فقـــر است܀
برخیز و رەِ خواجۂ احــــــــرار بگیر܀
کان راە از سرحد مقام فقــــر است܀
اؔقرب و اعلیٰ طریق مشائخ قَدَّسَ ٱلـلّٰهُ اَسْرَارَهُمْ طریقۂ علیہ احراریہ نقشبندیہ است اوّل در آمد ایشان در ادراک بسیط است کہ غلبۂ جہت حقیقت بر خلقت است و محل تجلی انوار ذات ست و ظہور وجہ خاص است مؔقــــدمہ این معنی را کہ مغلوبۃ ادراکِ مرکب و ظہور تباشیرِ صُبح سعادتِ وصول ست حؔضور و آگاہی میگویند و ہرگاە در غَلَبات کشـش و انجذاب ادراکات بتمام از میان رخت بر بندد و بل بہ نعتِ آگاہی نیــز شُعُورے نماند تعبیر بفنا و فناۓ فنأ مے کنند تواتر این نسبت را وجود عدم مے گویند و بلکہ ظہور این نسبت را بتواتر عظیم می شمرند
وصل اعدام اگر توانی کرد܀
کار مردان مرد تــــانی کرد܀
اؔز این جاست کہ درین وقت مے گویند وجود عدم منجر بوجود فنا شـــد ہمانا کہ از فنا فناۓ صفات بشریت مے خواہند وؔ ہرگاە حق سُبْحَانَہٗ بہ محض عنایت نورے بخشید کہ در پرتو آن نُور دیدند کہ حضور بہ آن بحضرت پرتوے است از وصف حضور ذاتی نہ آنحضرت بخودش فناۓ حقیقی مشرف شــدند از ایشان نہ نام ماند نہ نشان ہرچہ بہ ایشان منسوب بود تمام بہ اصل رســید این مقام مقــام بقاء بالـلّٰہ است این وجود را وجود فنا مے گویند و مے گویند وجود فنا بوجود بشـریت ہرگز عود نمےکند یعنی عادۃ الـلّٰہ برین جارے است کہ فــانی بہ اوصافش رد نمےشود حوالۂ تکمیل ناقصان درین منزل ست این کشف را کشفِ عَلِیَہ مے گویند تعبیر بہ تجلّے ذاتی و شہود ذاتے و یاد داشت میکنند و حقیقت اَنْ تَعْبُدَ ٱلـلّٰهَ كَاَنَّكَ تَرَاهُ درین موطن میداننــد و رؤیۃ اُخروی را نیز درین منزل اثبات مے کنــند و فرق میان احسان و رؤیۃ ہمچون فرق میان مشاہدہ صاحب جمال در وقت صبح و در وقتِ اشراق آفتاب مے دانند و مے گویند ہر چہ کہ انکشاف ذاتے صفت بصیرتست اما چون حق سُبْحَانَہٗ خبر دادە کہ پیــہ پارۀ چشم را مدخلے خواہد بود آمنا و صــدّقنا اگر می گفت پیشانے شما را مدخل خواہم داد آن زمان نیز ایمان مے آوردیم و شہود مَا نَظَرْتُ فِي شَيْءٍ إِلَّا وَرَأَيْتُ اللّـٰهَ فِيهِ أَوْ قَبْلَهُ أَوْ مَعَهُ را پیش از اطلاع بر اصول این طائفہ تصدیق بر آن اصول چندان اعتباری نمے نہند اسم مُعاینہ بران اطلاق نمی کنـد چنانچہ بعضےکردە اند ہمگی اہتمام ایشان در کشف غلبہ و غَلَبات آن نسبت کثیرۀ صفاتیہ نیــز از نظرِ ایشان محو می شود اؔز صفت و فعل جُز ذات ہیچ نمی بیـــنند در عرصۂ وجود جُز یکذات بحت در نظرِ شان بصیرت شان نمی نماید این ست نہایت مقام انبیأ و اولیـــا إِنَّ إِلٰی رَبِّكَ الْمُنْتَهٰی۔ وَ لَيْسَ وَرَاءَ الْعُبَّادَانِ قَرْيَــــةٌ
اپنی رباعیات کی شرح (سلسلۃ الاحرار) کے آخر میں آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ ؎۔
یہ سکہ جو میں نے ڈھالا ہے، یہ فقراء (اہلِ اللہ) کے نام پر ہے؛ اور یہ روشنی ان فقراء کے مکمل نور سے ہے۔ اٹھو اور 'خواجہ احرار' کا راستہ اختیار کرو، کیونکہ وہ راستہ فقراء کے مقام کی آخری سرحد سے شروع ہوتا ہے۔
مشائخ کا سب سے قریب اور اعلیٰ ترین راستہ 'طریقۂ عالیہ نقشبندیہ احراریہ' ہے۔ اس راستے میں پہلا قدم 'ادراکِ بسیط' (سادہ شعور) ہے، جہاں بندے کی 'حقیقت' اس کی 'خلقت' (مادی وجود) پر غالب آ جاتی ہے؛ یہی انوارِ ذات کی تجلی اور اللہ کے 'وجہِ خاص' کے ظہور کا مقام ہے۔
اس کیفیت کے آغاز کو، جہاں انسان کا مرکب ادراک (دنیاوی سوچ) مغلوب ہو جاتا ہے اور وصال کی صبح کی روشنی نمودار ہوتی ہے، اسے 'حضور و آگاہی' کہتے ہیں۔ اور جب اللہ کی 'کشش اور جذب' اس قدر غالب آ جائے کہ تمام انسانی ادراکات رختِ سفر باندھ لیں، یہاں تک کہ خود اپنی 'آگاہی' کا بھی شعور نہ رہے، تو اسے 'فنا اور فنائے فنا' سے تعبیر کرتے ہیں۔ جب یہ کیفیت مسلسل رہے تو اسے 'وجودِ عدم' کہتے ہیں، بلکہ اس نسبت کے (مسلسل) ظہور کو 'تواترِ عظیم' شمار کیا جاتا ہے ؎۔
اگر تم فنا کے لمحات کو (یادِ الٰہی سے) جوڑ سکو، تو تم مردِ میدان کا کام کر سکتے ہو۔
اسی لیے اب یہ کہا جاتا ہے کہ 'وجودِ عدم' بڑھ کر 'وجودِ فنا' بن گیا ہے۔ 'فنا' سے مراد انسانی صفات کا فنا ہو جانا ہے۔ اور جب حق سبحانہ محض اپنی عنایت سے وہ نور بخشتا ہے جس کے پرتو میں بندہ دیکھتا ہے کہ اس کی 'حضور و آگاہی' بھی اس کی اپنی نہیں بلکہ اللہ کے 'حضورِ ذاتی' کا ایک پرتو ہے، تب وہ 'فنائے حقیقی' سے مشرف ہو جاتا ہے۔ پھر اس کا نام رہتا ہے نہ نشان؛ جو کچھ اس سے منسوب تھا وہ سب اپنی 'اصل' (اللہ) تک پہنچ گیا۔
یہ مقام 'بقاء باللہ' ہے۔ اس وجود کو 'وجودِ فنا' کہتے ہیں، اور یہ وجودِ فنا کبھی بھی دوبارہ 'وجودِ بشریت' کی طرف نہیں لوٹتا۔ یعنی اللہ کا طریقہ یہی ہے کہ جو اللہ میں فنا ہو جائے وہ دوبارہ اپنی (ناقص) انسانی صفات کی طرف نہیں پلٹتا۔ ناقص لوگوں کی تکمیل کا حوالہ اسی منزل سے ہے۔ اس کشف کو 'کشفِ علیہ' (بلند کشف) کہتے ہیں، اور اسے تجلیِ ذاتی، شہودِ ذاتی اور 'یادداشت' سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ حدیث ’اَنْ تَعْبُدَ الـلّٰهَ كَاَنَّكَ تَرَاهُ‘ (احسان) کی حقیقت اسی مقام کو جانتے ہیں۔ آخرت میں اللہ کے دیدار (رؤیت) کو بھی اسی منزل میں ثابت کرتے ہیں۔ اس 'احسان' (گویا دیکھ رہا ہے) اور 'رؤیت' (حقیقی دیکھنا) میں وہی فرق ہے جو کسی خوبصورت کو صبح کی روشنی میں دیکھنے اور سورج نکلنے (اشراق) کے وقت دیکھنے میں ہوتا ہے۔
اور وہ فرماتے ہیں کہ ہر انکشافِ ذاتی 'بصیرت' (باطنی آنکھ) کی صفت ہے، لیکن چونکہ حق سبحانہ نے خبر دی ہے کہ (آخرت میں) آنکھ کے ڈیلے (پیہ پارۂ چشم) کو بھی اس میں دخل ہوگا، تو ہم اس پر ایمان لائے اور اسے سچ مانا۔ اگر اللہ فرماتا کہ تمہاری پیشانی کو اس میں دخل ہوگا تو ہم اس پر بھی ایمان لاتے۔ اس گروہ (نقشبندیہ) کے اصولوں پر مطلع ہونے سے پہلے، ’میں نے جس چیز کو دیکھا اس میں اللہ کو دیکھا‘ جیسے شہود کو وہ زیادہ معتبر نہیں مانتے اور اس پر 'معائنہ' کا نام اطلاق نہیں کرتے، جیسا کہ بعض نے کیا ہے۔ ان کی تمام تر توجہ تجلیِ ذاتی کے غلبے پر ہوتی ہے، یہاں تک کہ صفات کی کثرت بھی ان کی نظر سے محو ہو جاتی ہے۔ وہ صفت اور فعل میں ذاتِ الٰہی کے سوا کچھ نہیں دیکھتے۔ وجود کے میدان میں انہیں صرف 'ذاتِ بحت' (خالص ذات) کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔
یہی انبیاء اور اولیاء کے مقام کی انتہا ہے۔ ’بے شک تمہارے رب ہی کی طرف انتہا ہے‘۔ اور ’عبادان (آخری بستی) کے پیچھے کوئی بستی نہیں ہے‘ (یعنی اس سے آگے کوئی مقام نہیں)۔
ب۲۵ رقم فرمودە اند کہ عین الیقین در ذاتِ حق سُبحانہ عبارت از علم حضوری ست بذاتِ حق در پردۀ اسما و صفات و حق الیقین علم با آنکہ این علم علمِ حضوری ست و عالَم عین معلوم ست تجلے صوری پیش از رســیدن بکمالِ توحید داخل عین الیقین نیست چہ حاضر مدرکہ صورتی بیش نیست با علم آنکہ وی صورتِ حقست سبحانہ و ہمچنین تجلّےمعنوی نیــز داخل نیست چہ حاضر مدرکہ صور علمیہ بیش نیست با علم آن کہ معلومِ حق ست سبحانہ اما بعد رسـیدن بکمالِ توحید ہمہ عینِ الیقین ست بل حق الیقین ست بلکہ دران مؤطن جُز تجلّی ذاتی تجلّی نیست چہ بحقیقت جُز احدیتِ مجردە نیست اے موحدِ کامل صاحبِ ذوق این معنی این رموز کہ بیان کردیم آگاە شدە باشی تو چہ فرق میان تجلّے معنوے و تجلّے ذاتے با آنکہ تجلّۓ ذاتے نیز در پردۀ أسما و صفات ست بالجملہ ہرچہ حاضر مدرکہ ہست تجلّے منسوب بآنست فا فہم و نیز از بعض مقدماتِ سابق معلوم کردە باشی کہ ہرگاە سالک شروع در شہود ذاتی بکند و دران کمال پیدا کند از تجلیاتِ صوریہ و معنویہ فراغی خواہد داشت خلاصہ و مقصود ہمــہ تجلّیاتِ صوریہ او را حاصل ست ہر گاە صاحبِ صور حسیہ و علمیہ حاضرِ او باشــد از حضور صور فقط فراغی خواہد داشت اگر گفتہ شود کہ تعبیریکہ تجلّے معنوی را کردی لازم مے آیدکہ ارباب عقاید ہر گاە یقینے باعتقادیات خود داشـتہ باشند صاحب تجلے معنوی باشند و حال آنکہ از خواص تجلّۓ معنوی افنای سالکست چنانچہ مقرر اربابِ آنست میگوئیم فرق میان تجلّے اعتقادی و تجلّے معنوی نہ آنست کہ در تجلے اعتقادی مذکور یقین ست با آنکہ این صورت معتقدە صورت حقست و در تجلے معنوی یقین ست با آنکہ این ذی صورت حق ست با تقرر صورتِ علمیہ در مدرکہ بالجملہ در تجلّے معنوی باطن در پردۀ علم گرفتار معلوم ست بتفاصیل قطعًا کاری ندارد و تجلّے اعتقادی در صورت علمیہ و شیون مندرجہ دران و بنسبت صورتِ مادی صورتِ متفرق و پریشان ست
ب۲٦ فرمودە اند تَوَكُّل نہ آنست کہ ترکِ اســباب کنند و بنشــینند چہ این سُوءِ اَدَب است بلکہ اقامت بســبب مشروع مثل کتابت وغیرە می باید کرد و نظر بر سبب بر ندوخت زیرا کہ سبب مثل دروازە است کہ حق سُبْحَانَەٗ برای وصول مسبب ساختہ است درین میان کس دروازە را بندد کہ از بالا خواہد بر تافتن بے ادبی کردە باشد چــہ دروازە بنا کردۀ اوست و دلیل است بر آنکہ او کشادە نباید بست بعد ازان او داند خواە از راەِ دروازە فرستد یا از بالا بر تابد
آپ نے ارشاد فرمایا ہے کہ؛ توکل کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان اسباب (ذرائع) کو ترک کر دے اور (ہاتھ پر ہاتھ دھر کر) بیٹھ جائے؛ کیونکہ ایسا کرنا 'سوئے ادب' (اللہ کی بارگاہ میں بے ادبی) ہے۔ بلکہ (درست طریقہ یہ ہے کہ) مشروع اسباب جیسے کتابت وغیرہ کو اختیار کیا جائے، لیکن اپنی نظر ان اسباب پر نہ گاڑی جائے۔ اس کی مثال یوں ہے کہ سبب (ذریعہ) ایک 'دروازے' کی طرح ہے جسے حق سبحانہ نے مسبب (مقصود) تک پہنچنے کے لیے بنایا ہے۔ اس دوران اگر کوئی شخص دروازہ بند کر دے اور یہ چاہے کہ اسے (رزق یا فیض) اوپر سے (غیبی طریقے سے) ملے، تو اس نے بے ادبی کی ہے؛ کیونکہ یہ دروازہ اسی (اللہ) کا بنایا ہوا ہے اور اس کا موجود ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اسے کھلا رکھنا چاہیے، بند نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے بعد یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ چاہے تو دروازے کے راستے (فیض) بھیجے یا اوپر سے عطا فرما دے۔
ب۲۷ فرمودە اند تا حضور ذاتی کہ حضور صاف عبارت ازانست سالک را حاصل نشود از تقید توحید جسمانی خلاصی نیابد چہ توحیدِ صوری در مراتبِ اجسام می باشد چنانچہ وجودِ جسمانی خود را وغیر را وجودِ حق میداند و درینوقت تمیز و تفرقہ باقی است روح بفنا و اضمحلال نرســیدە است زیرا کہ بروح است تمیز ہر چیــز این موحد بتوحیدے کہ مقرر علمای دین و صوفیہ محققین ست رضوان الـلّٰه علیہم اجمعین نرســیدە و آن عبارتست از مدلول کریمہ وَاللّـٰەُ مِنْ وَرَائِهِمْ مُحِيطٌ کہ تنزیہِ صرف منزە از صفۃ تنزیہ است تا فروغ حضورِ ذاتی در نگیرد و روح را بفنا و اضمحلال نرساند حجاب از چہرۀ مقصود بر نیفتد اگر چہ آن حال لمحہ باشد و این ہمان قدر کہ در تقدیر است روی رفتہ می نماید عَلٰی تَفَاوُتِ الِاسْتِعْدَادَاتِ پس ہمیشہ منتظر باید بود کہ حق سُبحانہ بوجودِ موہوب صفاتیکہ مقربانِ خود را مخصوص گردانیدە مشرف سازد و درین کسب را اصلا مدخل نیست بمحض موہبتِ اوست سبحانہ
آپ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب تک سالک کو 'حضورِ ذاتی' (جس سے مراد خالص موجودگی ہے) حاصل نہ ہو جائے، وہ 'توحیدِ جسمانی' کی قید سے خلاصی نہیں پاتا۔ کیونکہ 'توحیدِ صوری' (ظاہری توحید) ابھی اجسام کے مراتب میں ہی ہوتی ہے؛ مثلاً وہ اپنے وجودِ جسمانی اور دوسروں کے وجود کو اللہ کا وجود تو مانتا ہے، لیکن اس وقت بھی تمیز (فرق کرنا) اور تفرقہ باقی رہتا ہے، کیونکہ روح ابھی 'فنا اور اضمحلال' (مٹ جانے) تک نہیں پہنچی ہے۔ اور یہ روح ہی ہے جس کی وجہ سے ہر چیز میں فرق اور تمیز (ثنویت) باقی رہتی ہے۔ ایسا موحد (ابھی تک) اس توحید تک نہیں پہنچا جو علمائے دین اور صوفیائے محققین (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے ہاں مقرر ہے، اور وہ توحید اس آیتِ کریمہ ’اور اللہ ان کے پیچھے سے (ان سب کو) گھیرے ہوئے ہے‘ کا مدلول ہے۔ یعنی ایسی 'تنزیہِ صرف' (خالص پاکیزگی) جو خود 'پاک قرار دینے' (تنزیہ) کی صفت سے بھی بلند و برتر ہے۔ جب تک حضورِ ذاتی کی چمک (فروغ) اثر نہ کرے اور روح کو فنا و نیستی تک نہ پہنچا دے، تب تک مقصود کے چہرے سے حجاب نہیں اٹھتا، چاہے وہ حال ایک لمحے کے لیے ہی کیوں نہ ہو؛ اور یہ حال ہر شخص کی استعداد کے فرق کے مطابق اتنا ہی رونما ہوتا ہے جتنا اس کی تقدیر میں ہے۔ پس ہمیشہ اس بات کا منتظر رہنا چاہیے کہ حق سبحانہ اپنے 'موہوب وجود' (عطا کردہ وجود) کے ذریعے ان صفات سے مشرف فرمائے جو اس نے اپنے مقرب بندوں کے لیے مخصوص کی ہیں۔ اور اس (عطا) میں انسانی کاوش کا اصلًا کوئی عمل دخل نہیں، یہ محض اس (اللہ) کی بخشش اور موہبت ہے۔
ب۲۸ روزی بعض علما دران معرفت شرحِ رباعیاتِ ایشان کہ صور علمیہ عکسِ اعتبارات و حیثیاتِ ذات است و نمودِ خارجی کائنات عکس العکس یعنی عکس آن صور علمیہ است کہ بر آئینۂ ذات افتادە ترددی می نمودە اند کہ اگر عکس صُوَرِ عِلْمِیَہ بر ظاہرِ وجود افتد نہایت ذاتِ حق و محلیۃ وجودِ مطلق تَعَالٰی شَانُهٗ لازم می آید درینوقت حضرت خواجہ قَدَّسَ الـلّٰهُ سِرَّهُ الْأَقْدَس بسردقت ایشان رســیدە پرســیدە اند کہ چہ مذاکرە میرفت شبہۂ خود را معروض داشــتہ اند فرمودە اند بی نہایتیِ حق سُبحانہ نہ بآن معنی ست کہ در اجسام ست باعتبار طول و عرض بل بآن معنی ست کہ بی تعین و تمیزست دیگر محل آن صور ذات نیست کہ محلیۃ لازم آید بلکہ محلِ آن وَہَم ست چنانچہ صورت منتقش در آئینہ نہ درونِ اوست و نہ برونِ او وہم حکم میکند کہ بر روی آئینہ است محلِ او خیال است کہ آنرا مثال متصل گویند و آئینہ ہمچنان بر صرافت و بیرنگے خودست
ایک دن کچھ علما آپ کی رباعیات کی اس تشریح پر کہ 'علمی صورتیں (صور علمیہ) اللہ کی ذات کے اعتبارات کا عکس ہیں، اور کائنات کا خارجی ظہور عکس کا عکس ہے (یعنی ان علمی صورتوں کا عکس جو اللہ کی ذات کے آئینے پر پڑا ہے)'، اس بات پر تذبذب اور شک کا اظہار کر رہے تھے کہ اگر علمی صورتوں کا عکس اللہ کے وجود پر پڑے گا، تو اس سے اللہ کی ذات کا 'محدود' ہونا اور اس کا کسی چیز کا 'مقام' (محلیت) بننا لازم آئے گا (جو کہ اللہ کی شان کے خلاف ہے)۔ اس وقت حضرت خواجہ (قدس اللہ سرہ) ان کی اس باریک سوچ تک پہنچ گئے اور پوچھا کہ کیا بحث ہو رہی ہے؟ جب انہوں نے اپنا شبہ (شک) پیش کیا، تو آپ نے فرمایا؛ حق سبحانہ کی 'لامتناہیت' اس معنیٰ میں نہیں ہے جو اجسام میں ہوتی ہے (یعنی لمبائی اور چوڑائی کے اعتبار سے)، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر قسم کی حد بندی (تعین) اور تمیز سے پاک ہے۔ دوسری بات یہ کہ اللہ کی ذات ان صورتوں کا 'محل' (جگہ) نہیں ہے کہ اس پر محلیت کا اعتراض آئے، بلکہ ان صورتوں کا محل 'وہم' ہے۔ اس کی مثال یوں ہے کہ آئینے میں نظر آنے والا نقش (تصویر) نہ آئینے کے اندر ہوتا ہے اور نہ ہی اس سے باہر، بلکہ 'وہم' یہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ آئینے کی سطح پر ہے۔ اس (تصویر) کا اصل محل 'خیال' ہے جسے 'مثالِ متصل' کہتے ہیں، جبکہ آئینہ اپنی اصلی حالت (صرافت) اور بے رنگی پر جوں کا توں برقرار رہتا ہے۔
ب۲۹ ہمدرین محـل فرمودە اند کہ توحید حاصل مے باید کرد و توحیدِ محققانِ متکلمین لَا مُؤَثِّرَ فِي الْوُجُودِ إِلَّا ٱلـلّٰهُ است یعنی تمام قدرتِ خود را بحق دادن و خود را ازان خالی ساختن اگرچہ بعضے از متاخرین علما قدرت مؤثرە را بہ بندە ہم فی الجملہ اثبات میکنند و توحیدِ ایشان لَا مَعْبُودَ إِلَّا ٱلـلّٰهُ است اما مذہبِ اصح ہمان است لَا مُؤَثِّرَ فِي الْوُجُودِ إِلَّا ٱلـلّٰهُ و صوفیہ چنانچہ فعل و قدرت را منسوب بحق میدارند باقی صفاتِ سبعہ از علم و سمع و بصر و حیٰوة و اِرادت و کلام را نیز منسوب بحق میکنـند
ب۳۰ روزی فرمودە اند کہ معرفت را مراتب بسـیارست اگر سالک از حقــائق نصیب وافر داشــتہ بہتر و الّا اصل کار بر شریعت بودن ست توحید سالم آنست کہ بہ تعینِ خود کہ انا بر سرِ او می افتد اضافت کنی و از استعدادِ او شمارے و کمالات را بحضرتِ اطلاق راجع داری ہر چند کہ معتقد لَا مَوْجُودَ إِلَّا الـلّٰهُ باشے درین بیان یکی سوال کردە آنکہ شــیخ ابو علی فارمدی قدس سرە فرمودە میتواند کہ سالک متخلق شود بجمیع اسماء و صفاتِ الۤہی و ہنوز واصل نباشـد بآن سخن مشہور تناقض دارد کہ تَخَلُّقُ بِأَخْلَاقِ الۤہِی بعد از وصول حاصل مے شود فرمودە اند کہ در کلامِ ایشان لفظ تواند بود واقع شــدە پس میتواند کہ بعضے را در سَیْرُ إِلَى الـلّٰهِ حاصل شود لیکن اگر کسے اصطلاح سازد و تخلق قبل از وصول را تخلق گوید و بعد از وصول را تحقق مناسب ست
ایک دن آپ نے ارشاد فرمایا کہ معرفت کے بہت سے درجات ہیں۔ اگر سالک (روحانی) حقائق سے وافر حصہ رکھتا ہو تو یہ بہت بہتر ہے، ورنہ اصل کام شریعت پر قائم رہنا ہی ہے۔ 'توحیدِ سالم' (سلامتی والی توحید) یہ ہے کہ تم اپنی 'تعین' (حد بندی) کو، جس پر 'انا' (میں) کا غلبہ طاری ہوتا ہے، اپنی ذات کی طرف منسوب کرو اور اسے اپنی استعداد (صلاحیت) سے جانو، جبکہ تمام کمالات کو 'حضرتِ اطلاق' (اللّٰہ) کی طرف راجع کرو (یعنی کمال اللّٰہ کا ہے اور نقص میرا ہے)؛ چاہے تم ’لَا مَوْجُودَ إِلَّا اللّٰهُ‘ (اللّٰہ کے سوا کوئی موجود نہیں) کے معتقد ہی کیوں نہ ہو۔ اس دوران کسی نے سوال کیا کہ حضرت شیخ ابو علی فارمدی (قدس سرہ) نے فرمایا ہے کہ ممکن ہے کہ سالک اللّٰہ کے تمام اسما و صفات کے ساتھ متخلق (آراستہ) ہو جائے اور پھر بھی وہ واصل (اللّٰہ تک پہنچا ہوا) نہ ہو۔ تو کیا یہ بات اس مشہور قول کے متضاد نہیں ہے کہ اللّٰہ کے اخلاق سے آراستہ ہونا وصال کے بعد حاصل ہوتا ہے؟ آپ نے جواب میں فرمایا کہ ان کے کلام میں ممکن ہے کے الفاظ آئے ہیں۔ پس یہ ممکن ہے کہ کچھ لوگوں کو سیر الی اللّٰہ کے دوران ہی یہ (اخلاق) حاصل ہو جائیں لیکن اگر کوئی اصطلاح بنانا چاہے تو وصال سے پہلے اخلاق پانے کو تخلق کہے اور وصال کے بعد پانے کو تحقق کہے، تو یہ زیادہ مناسب ہے۔
فقط سہیل طاہر، سیالکوٹ


نظرات
ارسال یک نظر