
ب۳۱ روزی بنظر مبارکِ ایشان آن معرفت در آمدە کہ حضرت مخدومی جامی قَدَّسَ ٱلـلّٰهُ سِرَّهُ السَّامِي در نقدِ نصوص آوردە اند گاە باشد کہ در حال حضور بی آن کہ از حِس غائب شوند بعضے از حقائق امورِ غیبیہ برین طائفہ کشف شود آنرا مکاشفہ خوانند و مکاشفہ ہرگز کاذِب نبود چہ مکاشفہ عبارتست از تفردِ روح بمطالعہ مغیبات در حالِ تجرد از غواشی بدن فرمودە اند کہ این مضمون را حضرت مخدومی قدس سرەٗ از ترجمۂ عَوَارِف گرفتہ اند و تحقیق آنست کہ در بعضی مکاشفات کہ خیال را دران مدخلی نیست نیز خطای میشود اما علومِ یقینے کہ بر مدرکہ ملہم میشود خطا را آنجا دخلی نیست درین محل درویشے معروض داشت کہ در بعض علوم یقین کہ بطریقِ الہام معلوم میگردد نیز خطاے یافتہ مے شود سببِ آن چہ باشـد فرمودند سببش آنست کہ بعضے از مُقَدَّمَاتِ مُسَلَّمَۂ خود کہ پیش صاحبِ این دید بنعت یقینے مقررست آنرا بآن عُلُوم ضم کردە است خطا ازان راە آمدە و الا خطا را در صرف علوم مہملہ چہ گنجاے علماے علومِ عقــلیہ کہ مراعاتِ قوانینِ منطقیہ مے نمایند گاە خطا در فــکرِ شان راە مے یابد سِرش ہمانست کہ مقدماتِ مقررۀ خود را یقینے خیال کردە دران دخل دادە اند و الّا منطق علمی ست کہ رعایتِ او ذہن را از خطا در فکر نگاە میدارد اگر استعمال صرف منطق مے بود بے ضمِ مقدماتِ خود ہرگز خطا نمے خورد و انگاە فرمودند کہ بمتوجہان الی الـلّٰه کشف ہیچ درکار نیست کہ کشف دو نوعست دنیوی آن خود اصلًا بکاری نمی آید و کشفِ اُخروی و آن در کتاب و سُنت مُبیَّن شدە است برای عمل کافی است و ہیچ کشفے بآن برابر نہ
ایک دن آپ کی نظرِ مبارک سے حضرت مخدومی جامی قدس اللّٰہ سرہ کی وہ معرفت گزری جو انہوں نے نقدِ نصوص میں لکھی ہے کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اہل اللّٰہ (اپنے) حواس سے غائب ہوئے بغیر، حالتِ حضور میں کچھ غیبی حقائق کا مشاہدہ کرتے ہیں، اسے مکاشفہ کہتے ہیں اور مکاشفہ کبھی جھوٹا (کاذب) نہیں ہوتا، کیونکہ مکاشفہ سے مراد روح کا بدن کے پردوں سے آزاد ہو کر تنہائی میں غیبی امور کا مطالعہ کرنا ہے۔
آپ نے (اس پر تبصرہ کرتے ہوئے) فرمایا کہ حضرت جامیؒ نے یہ مضمون عوارف المعارف کے ترجمے سے لیا ہے۔ مگر (اصل) تحقیق یہ ہے کہ کچھ ایسے مکاشفات جن میں خیال کا کوئی دخل نہیں ہوتا، ان میں بھی خطا (غلطی) ہو جاتی ہے۔ البتہ وہ یقینی علوم جو براہِ راست عقل (مدرکہ) پر الہام ہوتے ہیں، وہاں خطا کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ اس موقع پر ایک درویش نے عرض کیا کہ بعض اوقات ان یقینی علوم میں بھی، جو الہام کے ذریعے معلوم ہوتے ہیں، غلطی پائی جاتی ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ نے فرمایا اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنے کچھ پہلے سے مانے ہوئے نظریات (مقدماتِ مسلمہ) کو، جو اس کی نظر میں یقینی ہوتے ہیں، ان الہامی علوم کے ساتھ ملا دیتا ہے۔ غلطی اس راستے سے آتی ہے، ورنہ خالص الہامی علم میں خطا کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ (اسی طرح) عقلی علوم کے وہ علما جو منطق کے قوانین کی رعایت کرتے ہیں، اگر کبھی ان کی فکر میں غلطی آ جاتی ہے تو اس کا راز بھی یہی ہے کہ انہوں نے اپنے کچھ پہلے سے طے شدہ مفروضوں کو یقینی خیال کر کے منطق کے ساتھ جوڑ دیا ہوتا ہے۔ ورنہ منطق تو وہ علم ہے جس کی رعایت ذہن کو سوچ کی غلطی سے بچاتی ہے۔ اگر صرف منطق کا استعمال ہوتا اور اس میں اپنے پہلے سے قائم کردہ مقدمات شامل نہ کیے جاتے، تو کبھی غلطی نہ ہوتی۔ پھر آپ نے فرمایا اللّٰہ کی طرف متوجہ ہونے والوں (سالکین) کے لیے 'کشف' کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ کشف دو طرح کا ہے؛ ایک دنیوی (دنیا کی باتیں معلوم ہونا)، وہ تو کسی کام کا نہیں؛ دوسرا اخروی (آخرت کے معاملات)، اور وہ قرآن و سنت میں واضح طور پر بیان کر دیا گیا ہے۔ عمل کے لیے وہی کافی ہے اور کوئی کشف اس (قرآن و سنت) کے برابر نہیں ہو سکتا۔
ب۳۲ میفرمودە اند مشائخ را باعث بر تربیت و ارشاد خلق یکے از سہ چیز است و میشود الہام حق سبحانہ یا حکم و أمر پیر یا شَفَقَت بر خلق الـلّٰه یعنے چون خلق را بر ضلالت می بیند و ضلالت را موجبِ عذاب و ضررِ آنہا میداند از غایتِ ترحم دفعِ عذاب ایشان میخواہند پس مقتضاۓ شفقت آنست کہ ترویجِ شریعت را لازم گرفتہ خلق را بوعظ و نصیحت بحفظِ آداب و اقامتِ شرائع أمر کنند مثل تعلیم و تعلم فقہ و حدیث و عمل کردن بموجبِ آن اما آنکہ اینہا را واصل سازند در شفقت شــرط نیست امرِ زائدی ست در شفقت و باین تقریب فرمودە اند کہ حاصلِ این طریقہ تربیتِ انجذابِ ایمانی ست کہ دعوتِ تمامت انبیا و رسل بدان واقع ست۔
مشائخ کو لوگوں کی تربیت اور ہدایت (ارشاد) پر آمادہ کرنے والی چیز تین میں سے کوئی ایک ہوتی ہے یا تو اللّٰہ سبحانہ کی طرف سے الہام، یا اپنے پیر کا حکم اور امر، یا پھر اللّٰہ کی مخلوق پر شفقت یعنی جب وہ لوگوں کو گمراہی (ضلالت) میں دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ گمراہی ان کے لیے عذاب اور نقصان کا باعث بنے گی، تو انتہائی رحم دلی کی وجہ سے وہ ان سے عذاب کو دور کرنا چاہتے ہیں۔ پس شفقت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ شریعت کی ترویج (پھیلاؤ) کو لازم پکڑیں اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کے ذریعے آداب کی حفاظت اور شرعی احکام پر قائم ہونے کا حکم دیں؛ جیسے فقہ و حدیث کا سیکھنا اور سکھانا اور ان کے مطابق عمل کرنا۔ رہا یہ نکتہ کہ وہ ان لوگوں کو (مقامِ وصال تک پہنچا کر) واصل بنا دیں، تو یہ شفقت کے لیے شرط نہیں ہے، بلکہ یہ شفقت سے زائد ایک اور امر ہے۔ اور اسی حوالے سے آپ نے فرمایا کہ اس طریقے (نقشبندیہ) کا حاصل ایمانی جذبے کی تربیت کرنا ہے، اور تمام انبیاء اور رسولوں کی دعوت کا اصل مقصد یہی رہا ہے۔
ب۳۳ میفرمودە اند کہ نہایتِ قُربِ بندە و اتصال او نسبت بذاتِ حق سبحانہ زیادە بران نیست کہ دوام آگاہی و آرام کہ بہ فنا کشـد حاصل شود و چون این نسبت حاصل شد سالک بحصول این نسبت مشرف بمرتبۂ ولایت شد و کمالاتی کہ در حصول مقامات و تجلّیات اسمــا و صفاتِ سالکان طرق دیگر را بہ تفصیل حاصل میشود دیگرست این حصول نسبت قرب و اتصال کہ بذاتِ حق سُبْحَانَہٗ حاصل میشود بمرتبۂ وِلَایَتِ خَاصَّہ میرساند اول در آمد طلاب این طریقہ در سرحدِ فناست و معنی اندراج نہایَت در بِدَایَة کہ کبراے سلسلۂ ما اشارە بدان کردە اند اینجاست
آپ ارشاد فرماتے تھے کہ بندے کے قرب کی انتہا اور حق سبحانہ کی ذات کے ساتھ اس کا اتصال (جڑنا) اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ اسے دوامِ آگاہی (مسلسل باخبری) اور وہ آرام (سکونِ قلب) حاصل ہو جائے جو اسے فنا تک لے جائے۔ جب یہ نسبت حاصل ہو جاتی ہے، تو سالک اس نسبت کی برکت سے مرتبۂ ولایت سے مشرف ہو جاتا ہے۔ رہی بات ان کمالات کی جو دوسرے راستوں کے سالکین کو مختلف مقامات کے طے کرنے اور اسما و صفات کی تجلیات کے مشاہدے سے تفصیل کے ساتھ حاصل ہوتے ہیں، تو وہ ایک الگ چیز ہے۔ اس سلسلے (نقشبندیہ) میں قرب و اتصال کی جو نسبت حق سبحانہ کی ذات کے ساتھ حاصل ہوتی ہے، وہ براہِ راست ولایتِ خاصہ کے مرتبے تک پہنچاتی ہے۔ اس طریقے کے طلبہ کا پہلا قدم ہی فنا کی سرحد میں ہوتا ہے؛ اور ہمارے سلسلے کے اکابر نے جو ’انتہا کا ابتدا میں سمو جانا‘ (اندراجِ نہایت در بدایہ) کا اشارہ فرمایا ہے، اس کا اصل مطلب یہی ہے۔
ب٣٤ بتقریب ترقی بعد الموت فرمودە اند کہ حضرت شیخ ابن عربی رضی الـلّٰه عنہ گفتہ اند اگر کسے بہ نیتِ صحیح و اعتقادِ درست در راەِ حق سُبْحَانَەٗ در آید و آدابِ شَرِیْعَتِ غَرَّاء کَمَا حَقَّہٗ بجا آورد و او را از اذواق و مواجیـدِ این طائفہ در حینِ حیات نصیبے نباشد البتہ بعد از موت احوال و اذواق این طائفہ اش بدہند حضرت خواجہ روّح الـلّٰه روحه بعد ازین نقل تا ملّی کردە فرمودە اند بلکی این چنین کس را ہمدرین عالَم وقتست احتضار باین دولت مشرف سازند بعد ازان بہ زبانِ مبارک آوردە اند کہ اعتِقاد درُست و رعایتِ احکامِ شریعت و اخلاص و دوام توجہ بہ جناب حق سُبْحَانَەٗ بزرگترین دولتی ست ہیچ ذوق و وجدان برابرِ این نعمتِ عظیم نیست ؏۔
این داشــتہ باش گو دگر ہیچ مباش܀
موت کے بعد (روحانی) ترقی کے ذکر کے موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت شیخ ابنِ عربی رضی الـلّٰه عنہ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص صحیح نیت اور درست اعتقاد کے ساتھ حق سبحانہ کی راہ میں داخل ہو جائے اور روشن شریعت کے آداب کو کماحقہ (جیسا کہ حق ہے) بجا لائے، اور زندگی کے دوران اسے اس گروہ (اہلِ تصوف) کے باطنی ذوق اور وجدانی کیفیات سے کوئی حصہ نہ ملے، تو (اللّٰہ کے فضل سے) اسے موت کے بعد اس گروہ کے احوال اور اذواق (باطنی لذتیں) ضرور عطا کیے جائیں گے۔
حضرت خواجہ روّح الـلّٰه روحہ نے اس نقل کے بعد تھوڑی دیر تأمل کیا (غور فرمایا) اور پھر فرمایا بلکہ ایسے شخص کو اسی دنیا میں موت کے وقت (حالتِ احتضار میں) بھی اس دولت (مشاہدہ و وجد) سے مشرف کیا جا سکتا ہے۔
اس کے بعد آپ نے زبانِ مبارک سے ارشاد فرمایا کہ اعتقاد کی درستی، احکامِ شریعت کی رعایت، اخلاص، اور جنابِ حق سبحانہ کی طرف ہمیشہ توجہ رکھنا؛ یہ سب سے بڑی دولت ہے۔ کوئی بھی باطنی ذوق اور وجدان اس عظیم نعمت کے برابر نہیں ہو سکتا ؏۔
یہ تیرے پاس ہے تو پھر چاہے کچھ اور نہ بھی ہو، تو غم نہ کر۔
ب۳٥ فرمودە اند طریقۂ انجذاب و محبتِ الہیہ موصل ست و او را روی خبر بسوی ذاتِ حق سُبحانہ نیست بخلافِ طُرُقِ دیگر کہ روی بجانبِ انوار نیز دارند لاجرم بعضے بہمان انوار باز میمانند و این انجذاب و محبت در جمیع افرادِ انسانی ست اما پوشیدە است اہلِ این سلسِلۂ علیۂ نقشبندیہ تربیت ہمان انجذاب میکنند۔
آپ نے ارشاد فرمایا ہے کہ (اللّٰہ کی طرف سے) کھچاؤ اور محبتِ الٰہیہ کا یہ طریقہ (سیدھا اللّٰہ تک) پہنچانے والا ہے، اور اس (طریقے) کی توجہ کا رخ سوائے ذاتِ حق سبحانہ کے کسی اور طرف نہیں ہوتا۔ برخلاف دوسرے راستوں کے کہ ان کا رخ (ذات کے ساتھ ساتھ) انوار و تجلیات کی جانب بھی ہوتا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعض سالک انہی انوار و لطائف میں الجھ کر (اصل منزل سے) رہ جاتے ہیں اور یہ انجذاب اور محبت تمام انسانوں کے اندر (بیج کی طرح) موجود ہے، لیکن (غفلت کے پردوں میں) چھپی ہوئی ہے۔ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے بزرگ اسی (اندرونی) کشش اور انجذاب کی تربیت کرتے ہیں (تاکہ وہ بیدار ہو کر سالک کو ذاتِ حق تک لے جائے)۔
ب۳٦ فرمودە اند رُؤْيَةٌ بِالْبَصَرِ بعد از موت ست چہ رویت اِنْکِشَافِ تَام ست و تا روح متعلقِ این بدن ست اِنْکِشَافِ تَام صورت نمی بندد و چہ ہر چند بے تعلق گردد لَا أَقَلَّ علاقہ حیات باقی خواہد بود اگر چند بصرافتِ اصلی بماند تعلق خود باقی ست
آپ نے ارشاد فرمایا ہے کہ آنکھ سے اللّٰہ کا دیدار (رؤیت) موت کے بعد ہی (ممکن) ہے؛ کیونکہ رؤیت سے مراد انکشافِ تام (مکمل مشاہدہ) ہے، اور جب تک روح اس بدن کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، مکمل انکشاف کی صورت پیدا نہیں ہو سکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روح (ریاضت کے ذریعے) اس بدن سے کتنی ہی بے تعلق کیوں نہ ہو جائے، کم از کم زندگی کا تعلق (علاقۂ حیات) تو باقی رہے گا ہی؛ اور جب تک یہ تعلق باقی ہے (مکمل انکشاف نہیں ہو سکتا)، چاہے روح اپنی اصل صفائی اور لطافت (صرافتِ اصلی) پر ہی کیوں نہ پہنچ جائے۔
ب۳۷ بتقریبِ سماع فرمودە اند آنہای کہ از صوفیۂ صافیہ بسماعِ نغمہ قائل شــدە اند حکمت درین آن دیدە اند کہ در وقتِ اسـتماع نغمہ طبیعت ساکن و بر جای خود میباشد لا جرم روح در ادراک معانی بیشـتر میرسد محبوب آنہا معنی ست نغمـــہ را مثل زیورِ آن میدانند و الّا بنفس نغمـہ مبتلا نیستند یکی ازحاضران این بیت شیخ سعدی را برخواندە ؎۔
گہ آواز خوش بہتر از روی خوش܀
کہ آن حظِ نفس است این قوتِ روح܀
فرمودە اند ہر دو یکیست یعنی اگر رائ و مستمع از اہل نفس آمد آن دیدە و شنیدە ہر دو نفسانی ست و اگر از اصحابِ روح اند ہر دو روحانے ست و فرمودە اند کہ در ملفوظاتِ شیخ نظام الدین مسطورست کہ از شرائطِ نغمـہ یکی آنست کہ بر مستمع محبتِ حق سُبْحَانَہٗ غالِب باشد یکی از مخلصان معروض داشت کہ مَحبّتِ حق سُبْحَانَەٗ را چہ علامتی ست فرمودند اتباعِ تامْ آن مخلص عرض کرد تواند بود کہ صاحبِ اِتّباع را مطلب بہشت باشد یا رستن از عذابِ دوزخ فرمودند اینچنین کسے صاحبِ اتباعِ تام نیست و او را از اہل اللّٰہ نمیتوان شمرد این اتباع ظاہری است و اتباعِ باطنی آنکہ در باطنش جُز حق سُبْحَانَەٗ مطلبے نباشد
سماع (قوالی یا نغمہ سننے) کے ذکر کے موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا ہے کہ وہ صوفیائے صافیہ جو سماع سننے کے قائل ہوئے ہیں، انہوں نے اس میں حکمت یہ دیکھی ہے کہ سماع سننے کے وقت انسان کی طبیعت (جسمانی میلان) ساکن ہو کر اپنی جگہ ٹھہر جاتی ہے، جس کے نتیجے میں روح کو معانی کے ادراک (سمجھنے) کے لیے زیادہ موقع مل جاتا ہے۔ ان (صوفیہ) کا اصل محبوب وہ معنی (حقیقت) ہوتا ہے، وہ سماع کو تو اس معنی کا ایک زیور (لباس) سمجھتے ہیں؛ ورنہ وہ خود سماع (کی دھن) میں مبتلا نہیں ہوتے۔ وہاں موجود لوگوں میں سے ایک نے شیخ سعدیؒ کا یہ شعر پڑھا ؎۔
کبھی اچھی آواز اچھے چہرے سے بہتر ہوتی ہے، کیونکہ وہ (چہرہ دیکھنا) نفس کی لذت ہے اور یہ (آواز سننا) روح کی غذا ہے۔
آپ نے (تبصرہ کرتے ہوئے) فرمایا یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں (یعنی آواز ہو یا چہرہ، دونوں کا حکم ایک ہے)۔ اگر دیکھنے والا اور سننے والا اہلِ نفس (نفسانی خواہشات والا) ہے تو اس کا دیکھنا اور سننا دونوں نفسانی ہیں؛ اور اگر وہ اصحابِ روح (روحانی مرتبے والا) ہے تو دونوں روحانی ہیں۔ مزید فرمایا کہ حضرت شیخ نظام الدین اولیاءؒ کے ملفوظات میں درج ہے کہ سماع کی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ سننے والے پر محبتِ حق سبحانہ غالب ہو۔ ایک مخلص عقیدت مند نے عرض کیا کہ محبتِ الٰہی کی کیا نشانی ہے؟ آپ نے فرمایا اتباعِ تام (مکمل پیروی)۔ اس مخلص نے پھر عرض کیا کیا یہ ممکن ہے کہ اتباع کرنے والے کا مقصد جنت کا حصول یا دوزخ سے نجات ہو؟ آپ نے فرمایا ایسا شخص صاحبِ اتباعِ تام نہیں ہے اور اسے اہلِ اللّٰہ میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ محض ظاہری اتباع ہے؛ جب کہ اتباعِ باطنی یہ ہے کہ اس کے باطن میں حق سبحانہ کے سوا کوئی اور مقصد نہ ہو۔
ب۳۸ روزی فرمودە طریقِ سلف مشائخ آن بود کہ اول بہ تَزْکِیَہ نَفْس تحصیل مقامات مشغول میشدند چون موانع قربِ الۤہی کہ خواطر و ہَوَاجِس ست بتزکیہ دور میشد بقدر تزکیہ نورِ ایمانی قوت می یافت تا بجاے میرسـیدند کہ جز حق سُـبْحَانَہٗ نزد بصیرتِ ایشان نمی ماند و جمیع اوصاف و افعال را ازو میدیدند و صور و اجسام عالَم در رنگِ سرابی مے نمودشان و مظاہر را مخلوق و معدوم مییافتند و توحیدِ صوری بعضے را بعد از فرود آمدن حاصل می شد و بعضے را نہ آنگاە فرمودە اند طریقۂ علیۂ نقشبندیہ قدس الـلّٰه اسرار ہالیہا ہمان طریقِ سلف است لیکن در ابتدا بہ تحصیلِ مقامات مقید نمیشوند و نیز فرمودە اند آنہا کہ از راە توحیـد صوری میروند خطر بسـیار دارند و نیز فرمودە میتواند کہ شخصے بحضرت حق سُبْحَانَەٗ اقرب باشد یعنی اِسْتِہْلَاک وَ اِضْمِحْلَال داشــتہ باشد و اَکْرَم نبود چنانچہ یکے تحصیل مقامات کردە است و نتیجۂ مقامات را کہ استہلاک و اضمحلال است درین عالَم نیافتہ این اکرم ست نزد حق سبحانہ کریمہ إِنَّ أَكرَمَكُم عِندَ الـلّٰهِ أَتقاكُم ۚ ناطق برین است۔
ایک دن آپ نے ارشاد فرمایا کہ سلف مشائخ (پہلے بزرگوں) کا طریقہ یہ تھا کہ وہ شروع میں نفس کے تزکیے اور مقاماتِ روحانی کے حصول میں مشغول ہوتے تھے۔ جب اللّٰہ کے قرب میں رکاوٹ بننے والے خیالات اور وسوسے (ہواجس) تزکیے کے ذریعے دور ہو جاتے، تو اس صفائی کی مقدار کے مطابق ان کا نورِ ایمانی قوی ہوتا جاتا۔ یہاں تک کہ وہ اس مقام پر پہنچ جاتے کہ ان کی بصیرت (باطنی آنکھ) کے سامنے حق سبحانہ کے سوا کچھ نہ رہتا۔ وہ تمام اوصاف اور افعال کو اللّٰہ ہی کی طرف سے دیکھتے، اور کائنات کی صورتیں اور اجسام انہیں سراب (چمکتا دھوکا) کی طرح نظر آتے۔ وہ تمام مظاہر کو مخلوق اور (اپنی اصل میں) معدوم (ختم ہونے والا) پاتے۔ ان میں سے کچھ لوگوں کو 'توحیدِ صوری' (کائنات میں اللّٰہ کا مشاہدہ) اس بلند مقام سے واپس آنے کے بعد حاصل ہوتی اور کچھ کو نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ قدس اللّٰہ اسرارہم بھی دراصل وہی سلف کا طریقہ ہے، لیکن اس میں ابتدا میں مقامات (کی سخت محنت) کی قید نہیں لگائی جاتی (بلکہ ابتدا ہی جذب و توجہ سے ہوتی ہے)۔ مزید فرمایا کہ جو لوگ صرف توحیدِ صوری (ہر چیز میں خدا دیکھنا) کے راستے سے چلتے ہیں، ان کے لیے خطرہ بہت ہے (کہ کہیں وہ مخلوق اور خالق کے فرق کو نہ مٹا بیٹھیں)۔ پھر یہ اہم نکتہ بیان فرمایا کہ یہ ممکن ہے کہ ایک شخص اللّٰہ کے زیادہ قریب (اقرب) ہو یعنی اس میں فنا اور مٹ جانے (استہلاک) کی کیفیت زیادہ ہو، مگر وہ اللّٰہ کے ہاں زیادہ باعزت (اکرم) نہ ہو۔ اس کے برعکس، ایک وہ شخص ہے جس نے مقامات طے کیے (تقویٰ اور شریعت کی پابندی کی) مگر اس فنا اور مٹ جانے کا وہ نتیجہ اس دنیا میں اسے (ظاہری طور پر) نہیں ملا، تو ایسا شخص اللّٰہ کے نزدیک زیادہ باعزت (اکرم) ہے۔ قرآنِ کریم کی یہ آیت ’بے شک اللّٰہ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے‘ اسی حقیقت کی گواہ ہے۔
ب۳۹ فرمودە اند کہ وَلایت بفتح واؤ قُربِ بندە را گویند کہ بحق سُبْحَانَەٗ دارد و بالکسر (وِلایت) آن معنی را کہ موجب قبول خلق میشود و اہل عالَم بدان میگردند و این بتکوینات تعلُّق دارد خوارِق و تصرُّفات داخل قسم ثانی ست شخصی از حاضران سوال کردە کہ برکائی کہ بمستعدان میرسد اثر کدام قسم ست فرمودە اند کہ اثر وَلایت بالفتح است و در اثناے آن بیان بتقریب استفادۀ طالبان فــرمودند کہ ہر گاە آئینۂ طالب مُحاذی آئینۂ مُرشد میشود ہر چہ دران آئینہ است بقدرِ مناسبت پرتو می اندازد انگاە فرمودە اند کہ کسے باشد کہ ازان دو قسم ولایت او را یکی حاصل باشد و دیگرے بود کہ از ہر دو نصیب وافر داشــتہ باشد یا بشخصی یکے ازان دو بیشتر بود و بدیگرے کمتر مشائخ نقشبندیہ رحمہم الـلّٰه را ہمیشہ وَلایت بفتح بر وِلایت بکسر را بیکے از مخلصان میگذارد و وَلایت بفتح را با خود مے برد و نیز فرمودند گاە بحکم زَلّتی وِلایت بکسر را از ولی باز می ستانند چنانچہ اِبنِ فارِض رحمہ الـلّٰه ازان پیرِ بقال می آرد و آن در نفحات مسطور است
آپ نے ارشاد فرمایا ہے کہ وَلایت (واؤ کے فتح/زبر کے ساتھ) سے مراد وہ قرب ہے جو بندے کو حق سبحانہ کے ساتھ حاصل ہوتا ہے۔ جب کہ وِلایت (واؤ کے کسر/زیر کے ساتھ) وہ مرتبہ ہے جو مخلوق میں قبولیت کا باعث بنتا ہے اور اہل عالم اس کی طرف رجوع کرتے ہیں؛ اس کا تعلق تکوینات (کائناتی تصرفات) سے ہے اور کرامات و تصرفات اسی دوسری قسم میں داخل ہیں۔ حاضرین میں سے کسی نے سوال کیا کہ وہ برکت جو مستعد طالبوں کو پہنچتی ہے، وہ کس قسم کا اثر ہے؟ آپ نے فرمایا وہ 'وَلایت' (بالفتح یعنی قربِ خداوندی) کا اثر ہے۔ اسی دوران طالبوں کے فیض حاصل کرنے کے طریقے کے بارے میں فرمایا جب طالب کا آئینہ مرشد کے آئینے کے سامنے (محاذی) ہوتا ہے، تو مرشد کے آئینے میں جو کچھ ہوتا ہے، وہ طالب کی مناسبت کے بقدر اس پر پرتو (عکس) ڈالتا ہے۔ پھر فرمایا کوئی ایسا ہوتا ہے جسے ان دو قسموں میں سے صرف ایک حاصل ہوتی ہے، اور کوئی ایسا جسے دونوں سے وافر حصہ ملتا ہے۔ مشائخِ نقشبندیہ (رحمہم اللہ) ہمیشہ وَلایت بالفتح (قربِ الٰہی) کو وِلایت بالکسر (خلق میں تصرف) پر ترجیح دیتے ہیں۔ بلکہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ وِلایت بالکسر کو اپنے کسی مخلص مرید کے سپرد کر دیتے ہیں اور وَلایت بالفتح کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ نیز فرمایا کبھی کسی لغزش (زلت) کی وجہ سے وِلایت بالکسر (تصرف کی طاقت) کسی ولی سے واپس لے لی جاتی ہے، جیسا کہ ابنِ فارضؒ نے اس پیرِ بقال کے بارے میں نقل کیا ہے جو نفحات الانس میں درج ہے۔
ب٤٠ روزی فرمودند کہ معاملۂ برزخ و حشر خوش معاملۂ دور و درازیست انگاە سکوتے و تَأَمُّلے کردە فرمودند ہیـــچ سعادتی برابرِ این نیست کہ کسے را اُنسے بحضرت حق سُبْحَانَہٗ حاصل شود بعد ازانکہ دوامِ انس حاصل شـد ہیچ انتظار نمی باشـد و فرمودند کہ سُبْحَانَ الـلّٰەِ آدمی مامور باخلاص و محبت است و خاصیتِ محبت سوختن غیرِ محبوب خودست با این ہمہ چنــدین تکالیفِ شرعیہ برو نہادە
ایک دن آپ نے ارشاد فرمایا کہ برزخ اور حشر کا معاملہ بھی بڑا عجیب، دور دراز اور طویل معاملہ ہے۔ اس کے بعد آپ نے خاموشی اختیار کی اور کچھ دیر تأمل (غور) کرنے کے بعد فرمایا کوئی سعادت اس کے برابر نہیں ہے کہ کسی کو حضرت حق سبحانہ کے ساتھ انس حاصل ہو جائے۔ جب ایک بار 'دوامِ انس' (ہمیشہ رہنے والی محبت) حاصل ہوگئی، تو پھر (موت یا قیامت کا) کوئی انتظار باقی نہیں رہتا۔ پھر فرمایا سبحان اللّٰہ! آدمی کو اخلاص اور محبت کا حکم دیا گیا ہے، اور محبت کی خاصیت ہی یہ ہے کہ وہ محبوب کے سوا ہر غیر کو جلا دیتی ہے۔ اس کے باوجود (اللّٰہ نے) انسان پر کتنے ہی شرعی احکامات (تکالیفِ شرعیہ) کا بوجھ بھی ڈال رکھا ہے۔
ب٤١ روزی بتقریبِ اعتراض بعض منکران بہ فقراء الـلّٰه فرمودند اولیا از کبائر محفوظ نیستند اگر از ایشان أمرے ازین باب ناگاە ظاہر شود احوالِ ایشان را حکم بر بُطلان کردن جہالت ست ملاحظہ باید کرد کہ منزل ایشان کہ دائم یا اکثر دانند کدام ست درین میان اگر احیانًا باحُکْمِ بَشَرِیَّت چیزی صادر شود ایشان را دران معذور باید داشت و باین تقریب فرمودند اکثر مشائخ کبار را در زمانِ حیاتِ مردمان زَنْدِیق میگفتہ اند چنانچہ ذوالنون مصری را رحمہ الـلّٰه اما ذوالنون را بعد از موت قبول پیدا آمد چہ از دنیا مطلق مُنْزَہ بود اگر در کسوت دنیا می بودند ہیچکس بعد از موت ہم قبول نمیکرد و از طعنِ مردم خلاص نمیشدند این کہ مُتَبَدِّعَان بہ بعضے اصحاب رضی الـلّٰه عنہم اجمعین طعن میکنند سببش ہمان ست کہ این بزرگواران بنا بر حکمتی بمنصب خلافت در دنیا بودند و الا چندین تن از صحابہ کہ بکوہہا خود را کشـیدند و بوضع فَقْر وَ تَجْرِید زندگانی نمودند ہیچکس از آنہا حرفے نمیگوید و سخن از اصحاب گفتن از شرائط دین و ایمان نیست بسـیاری از مومنان باشند کہ جُز خدا و رسول را نمیدانند و در ایمان ایشان ہیچ شــبہ نہ۔
ایک دن اللّٰہ کے فقراء پر کچھ منکروں کے اعتراض کے حوالے سے آپ نے ارشاد فرمایا کہ اولیاء (انبیاءؑ کی طرح) کبیرہ گناہوں سے معصوم نہیں ہوتے (بلکہ محفوظ ہوتے ہیں)۔ اگر ان سے ناگاہ کوئی ایسی بات ظاہر ہو جائے، تو اس کی بنیاد پر ان کے تمام احوال کو باطل اور جھوٹا قرار دے دینا سراسر جہالت ہے۔ دیکھنا یہ چاہیے کہ ان کا مستقل یا اکثر رہنے والا مقام کون سا ہے۔ اس دوران اگر کبھی بشری تقاضوں کے تحت ان سے کوئی لغزش ہو جائے، تو انہیں معذور سمجھنا چاہیے۔ اسی ضمن میں فرمایا کہ اکثر بڑے مشائخ کو ان کی زندگی میں لوگوں نے زندیق کہا؛ جیسا کہ حضرت ذوالنون مصریؒ کو کہا گیا۔ لیکن ذوالنونؒ کو موت کے بعد قبولیت ملی کیونکہ وہ دنیا (کی آلائشوں) سے بالکل پاک تھے۔ اگر وہ دنیاوی لباس (اقتدار و مال) میں ہوتے، تو موت کے بعد بھی کوئی انہیں قبول نہ کرتا اور وہ لوگوں کے طعنوں سے خلاصی نہ پاتے۔ یہ جو بدعتی لوگ بعض صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم اجمعین پر طعن کرتے ہیں، اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ یہ بزرگ کسی حکمت کے تحت دنیا میں خلافت کے منصب پر فائز تھے (جس کی وجہ سے لوگوں کو اعتراض کا موقع ملا)۔ ورنہ وہ صحابہؓ جو پہاڑوں میں گوشہ نشین ہوگئے اور فقر و تنہائی کی زندگی گزاری، ان کے بارے میں کوئی ایک لفظ بھی نہیں کہتا۔ پھر آپؒ نے ایک بہت بڑی حقیقت بیان فرمائی کہ صحابہؓ کے بارے میں (اختلافی) گفتگو کرنا دین اور ایمان کی شرائط میں سے نہیں ہے۔ بہت سے ایسے مومن ہو سکتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسولﷺ کے سوا (تاریخی تفصیلات) کچھ نہیں جانتے، اور ان کے ایمان میں کوئی شک نہیں ہے۔
فقط سہیل طاہر، سیالکوٹ۔
نظرات
ارسال یک نظر